شہباز شریف پھر طلب ، الیکشن کے بعد پیش ہوں گا ، صدر مسلم لیگ ن راجہ قمر الاسلام 14روزہ ریمانڈ پر نیب کے حوالے نواز شریف نے نیب کیخلاف احتجاج کی ہدایت کر دی

شہباز شریف پھر طلب ، الیکشن کے بعد پیش ہوں گا ، صدر مسلم لیگ ن راجہ قمر ...

لاہور ،اسلام آباد ( خبر نگار سٹاف رپورٹر ، مانیٹرنگ ڈیسک ،نیوز ایجنسیاں ) قومی احتساب بیورو نے صاف پانی سکینڈل کیس میں سابق وزیرِاعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کو دوبارہ طلب کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق نیب نے صاف پانی سکینڈل کیس میں پنجاب کے سابق وزیرِاعلیٰ کو 5 جولائی کو دوبارہ طلب کر لیا ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل بھی نیب کی جانب سے شہباز شریف کو طلب کیا گیا تھا لیکن وہ پیش نہ ہوئے۔نیب نے شہباز شریف کو ان کے وزارتِ عظمیٰ کے دور میں 17 نکات پر مشتمل نوٹس بھجوایا تھا جس میں ان پر مبینہ طورپر لگنے والے الزامات کی تفصیلات درج تھیں۔ شہباز شریف سے کہا گیا تھا کہ آپ کے پاس کوئی اختیار نہیں تھا کہ صاف پانی کی فراہمی کے مستقل حل کے بغیر صاف پانی کمپنی قائم کرتے جبکہ پنجاب ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کی شکل میں آپ کے پاس تجربہ کار میکنزم موجود تھا۔خط میں کہا گیا تھا کہ آپ نے کسی بھی سفارشات اور پراجیکٹ سٹڈی کے بغیر صاف پانی کمپنی قائم کرنے کا حکم دیا جبکہ صاف پانی کی فراہمی کے دیگر امکانات اور آپشن کو نظر انداز کیا گیا۔ادھر مبینہ کرپشن کیسز میں نیب کی جانب سے طلبیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ نیب حکام نے فواد حسن فواد کو آشیانہ اقبال منصوبے میں مبینہ کرپشن پر ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے جبکہ ناراض لیگی رہنما زعیم قادری کو صاف پانی کمپنی میں مبینہ کرپشن کیس میں آج 27 جون کو طلب کیا گیا ہے۔دوسری جانب لیگی امیدواروں کے گرد گھیرا تنگ کرتے ہوئے نیب نے سابق لیگی ایم این اے اظہر قیوم اور مدثر قیوم کو 29 جون کو پیش ہونے کا حکم دے دیا ہے۔ دونوں بھائیوں پر آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا الزام ہے۔ واضح رہے کہ اظہر قیوم ن لیگ کی جانب سے عام انتخابات 2018 میں امیدوار ہیں۔دوسری طرف احتساب عدالت نے گزشتہ روز گرفتار کیے گئے (ن) لیگ کے رہنما قمر الاسلام کو 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کی تحویل میں دے دیا۔انجینئر قمر الاسلام کو مسلم لیگ (ن) نے این اے 59 سے چوہدری نثار کے مدمقابل امیدوار نامزد کیا ہے جنہیں نیب نے گزشتہ روز صاف پانی اسکیم میں گرفتار کیا۔ قومی احتساب بیورو (نیب) نے قمر الاسلام اور سی ای او صاف پانی کمپنی وسیم اجمل کو سخت سیکیورٹی میں لاہور کی احتساب عدالت میں جج نجم الحسن بخاری کے روبرو پیش کیا۔قمر الاسلام کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ نیب تمام کارروائی محض الزامات کی بنیاد پر کررہا ہے، نیب میں کرپشن کی درخواست آئی نہ ثبوت ہے، قمرالاسلام چوہدری نثارکے خلاف الیکشن لڑرہے ہیں۔نیب پراسیکیوٹر وارث علی جنجوعہ نے اپنے دلائل میں کہا کہ صاف پانی کمپنی میں قمرالاسلام چیف ایگزیکٹو تھے، وسیم اجمل آئے تو یہ اس وقت ڈائریکٹر بھی تھے، جو بھی پلانٹ لگے ان کے دور میں لگے ہیں۔نیب پراسیکیوٹر وارث علی جنجوعہ نے قمرالاسلام کے 15 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جس پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا جو بعد میں سناتے ہوئے ملزم کا 14 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔احتساب عدالت نے ملزم قمرالاسلام اور وسیم اجمل کو جسمانی ریمانڈ پر نیب کی تحویل میں دیا ہے اور دونوں ملزمان کو 9 جولائی کو عدالت میں پیش کرنے کا بھی حکم دیاہے۔دوسری جانب انجینئر قمر الاسلام نے عدالت میں بیان دیا کہ میرے س صاف پانی کمپنی کا انتظامی اختیار نہیں تھا، میرا قصور یہ ہے کہ کروڑوں روپے بچائے، سب سے کم بولی 111کروڑ کی آئی جسے ٹھیکہ دیا جانا تھا لیکن ہم مذاکرات کرکے 98 کروڑ پر لے آئے، نیب کہتی ہے مذاکرات کیوں کیے۔انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ 10 سال سے پارلیمنٹ کا ممبر ہوں اور ایساسلوک کیا جارہا ہے جیسے غیر ملکی ہوں، میرے پاؤں باندھ کر مخالف کو گھوڑے پر بٹھادیا گیا، میں کیسے انتخابی مہم چلاؤں۔عدالت نے قمرالاسلام کو تنبیہ کی کہ آپ عدالت میں سیاسی بیانات سے گر یز کریں۔صاف پانی کمپنی کے سی ای او وسیم اجمل نے عدالت میں بیان دیا کہ 25 سال سے سرکاری ملازمت کررہا ہوں، وزیراعلیٰ کی خواہشات کے مطابق کام نہ کرنے پر مجھے او ایس ڈی بنادیا گیا، نیب سے ہر معاملے میں مکمل تعاون کیا اور تمام دستاویزات فراہم کیں۔انہوں نے کہا کہ کام جلدی ختم کرنے کے لیے نئے کنٹریکٹ اشتہار دیئے اور میرٹ پر کنٹریکٹ دینے کی بناء پر مجھے نکال دیا گیا۔نیب لاہور نے ملزم وسیم اجمل پر بدعنوانی میں ملوث ہونے سے متعلق تفصیلات جاری کردیں جس میں بتایا گیا ہے کہ وسیم اجمل پر پراجیکٹ بڈنگ کے بعد صاف پانی کمپنی کے کاغذات میں تبدیلیاں کرنے کا الزام ہے، وسیم اجمل کایہ اقدام قانونی طور پر پنجاب پروکیورمنٹ رولز 2014کی خلاف ورزی ہے۔نیب کے مطابق وسیم اجمل نے 8 فلٹریشن پلانٹس غیر قانونی طور پر تحصیل دنیا پور میں لگائے، متعلقہ علاقہ کنٹریکٹ کے مطابق حدود میں شامل نہیں تھا، ملزم نے کنٹریکٹرز اور کنسلٹنٹ سے ملی بھگت کرتے ہوئے معا ہدے کی شقوں میں ردو بدل کیا۔

شہباز طلبی

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں) سابق وزیرِاعظم میاں نواز شریف نے نیب کی جانب سے لیگی امیدواروں کے خلاف کارروائیوں پر پارٹی قائدین کو احتجاج کی ہدایت کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق قومی احتساب بیورو (نیب) کے ایکشن پر نواز شریف کا ری ایکشن سامنے آیا ہے۔ لندن میں بیگم کلثوم کی طبعیت کی وجہ سے نواز شریف فی الحال پاکستان آ کر انتخابی مہم میں حصہ نہیں لے رہے لیکن وہ انتخابی مہم کے حوالے سے متحرک ہو چکے ہیں، انھوں نے نیب کی کارروائیوں پر لیگی قیادت سے رابطے کر لئے ہیں۔ذرائع کے مطابق نواز شریف نے اس سلسلے میں لیگی قیادت سے ٹیلی فونک رابطے شروع کر دیے ہیں اور نیب کی کاروائیوں کے خلاف سخت حکمتِ عملی اور احتجاج کی ہدایت کر دی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف نے شہباز شریف کو بھی فون کر کے ٹیلی فونک کانفرنس کا اہتمام کرنے کی ہدایت کر دی ہے اور انتخابی مہم کے حوالے سے اہم مشاورتی اجلاس طلب کر لیا ہے۔سابق وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ دنیا دیکھ رہی ہے، ہمیں اپنا مذاق نہیں بنانا چاہیے، جب بھی الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے اس کے نتائج ملک و قوم کے لیے گھناؤنے نکلے ہیں۔لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے کہا کہ کلثوم ابھی تک ہوش میں نہیں آئیں، ان کی کلثوم کی بیماری کی وجہ سے یہاں رہنا پڑ رہا ہے۔نواز شریف نے کہا کہ کلثوم نواز کی صحت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، کلثوم کے لیے دعاؤں پر قوم کا شکر گزار ہوں۔علاوہ ازیں نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز کا کہنا ہے کہ برطانوی اخبار نے جن پراپرٹیز کا ذکر کیا ہے وہ اب ہماری ملکیت نہیں۔انہوں نے کہا کہ ان تمام پراپرٹیز کا کاروبار حسن نواز نے کیا تھا،اب وہ ان کی بھی ملکیت نہیں، برطانوی اخبار کے دعوے کا جواب مناسب فورم پر دیا جارہاہے۔حسین نواز نے کہا کہ والدہ کی حالت پہلے سے زیادہ تشویشناک ہے، ڈاکٹروں نے بے ہوشی کی دوا بڑھا دی ہے جبکہ وینٹی لیٹر ہٹانے کا فیصلہ بھی مؤخر کردیا گیا ہے۔سابق وزیر اعلیٰ پنجاب اور مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف نے نیب کی طرف سے طلبی پر ردعمل میں کہا ہے کہ وہ عام انتخابات کے بعد نیب میں پیش ہونے کیلئے تیار ہیں ۔کراچی مین پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے بتایا کہ نیب نے انہین طلبی کیلئے خط لکھا ہے مگر میں جواب انہین کہوں گا کہ الیکشن کے بعد نیب میں پیش ہوؤنگا

نواز شریف ردعمل

مزید : صفحہ اول