این اے 78،احسن اقبال اور ابرارالحق میں کانٹے دار مقابلہ متوقع

این اے 78،احسن اقبال اور ابرارالحق میں کانٹے دار مقابلہ متوقع

نارووال(میاں محمد شفیق)ملک بھر میں الیکشن 2018 ء کی تیاریاں عروج پر پہنچ چکی ہیں تمام سیاسی پارٹیاں اپنے اپنے امیدواروں کی کامیابی کیلئے کوشاں ہیں،نارووال کے حلقہ این اے 78 اور پی پی 50 کے انتخابی دنگل نے ماحول کو گرما دیاہے ۔این اے 78 سے مسلم لیگ (ن )کے مرکزی رہنما و سابق وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال اور تحریک انصاف کے مرکزی رہنما ابرارالحق جبکہ پی پی 50 سے مسلم لیگ (ن) کے سابق پارلیمانی سیکرٹری پنجاب خواجہ محمد وسیم بٹ اور چوہدری سجاد مہیس میں کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے ۔احسن اقبال نے ووٹرز نے نام اپنے پیغام میں کہاکہ انہوں نے نارووال کو یونیورسٹیوں اور کالجز کا شہر بنادیا ہے،پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی راہنما و امیدوار حلقہ این اے 78ابرارالحق چوہدری نے پاکستان سمیت پوری دنیا سے پاکستان کا نام نہ صرف روشن کیا بلکہ نارووال کے شہریوں کے لئے صحت کے حوالے سے صغراں شفع میڈیکل کمپلیکس اور نجی میڈیکل کالج بنایا جس میں ضلع بھر سے طلبا وطالبات میڈیکل کی تعلیم حاصل کررہے ہیں،اس وقت اگر دیکھا جائے تو ابرارالحق نے اپنے ساتھ ضلع نارووال کی معروف سیاسی و کاروباری شخصیت سابق چیئرمین یونین کونسل دھرگ میانہ چوہدری محمد سجاد مہیس جن کو عوامی حلقے نارووال کا ملک ریاض تصور کرتے ہیں،چوہدری سجاد مہیس سابق چیئر مین یونین کونسل دھرگ میانہ بھی راہ چکے ہیں اور انہوں نے صوبائی اسمبلی کا الیکشن لڑنے سے پہلے مستعفی ہوئے ہیں،چوہدری محمد سجاد مہیس ایک ملنسار اور مڈل کلاس سے اپنی محنت کے بل بوتے پر اوپر آئے ہیں اور وہ سابق وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کے قریبی ساتھی تصور کئے جاتے رہے ہیں،چوہدری محمد سجاد مہیس کے الیکشن لڑنے کی خبر نے شہریوں کے چہروں پر خوشی کے آثار نمایاں نظر آرہے ہیں،جبکہ اس مرتبہ حلقہ پی پی 50 سے سابق پارلیمانی سیکرٹری خواجہ محمد وسیم کی سیٹ خطرات میں گہری ہوئی نظر آرہی ہے،جبکہ حلقہ این اے 78 کی سیٹ جیتنے کیلئے ابرارالحق بھی کافی پر امید نظر آرہے ہیں دوسری جانب احسن اقبال بھی اپنی جیت کے لئے کافی پر امید ہیں،اب فیصلہ 25 جولائی کو ہو گا اور دیکھنا ہے کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے اور یہ الیکشن والے روز ہی معلوم ہوگا۔

این اے 78

مزید : صفحہ اول