ملی مسلم لیگ اور اللہ اکبر تحریک کا سیاسی تعاون ، 265امید وار میدان میں اتار دیے

ملی مسلم لیگ اور اللہ اکبر تحریک کا سیاسی تعاون ، 265امید وار میدان میں اتار ...
ملی مسلم لیگ اور اللہ اکبر تحریک کا سیاسی تعاون ، 265امید وار میدان میں اتار دیے

  

تجزیہ:۔ قدرت اللہ چودھری

ڈاکٹر احسان باری نے اللہ اکبر تحریک کے نام سے ایک سیاسی جماعت بنائی ہے، جسے انتخاب لڑنے کے لئے امیدواروں کی تلاش تھی، اس نئی جماعت کی جانب سے اخبارات میں مشتہر کیا گیا تھا کہ جو امیدوار اس جماعت کے بینر تلے الیکشن لڑنے میں دلچسپی رکھتے ہوں وہ درخواستیں دیں، معلوم نہیں ہوسکا کہ کتنے لوگوں نے اس جماعت کو درخواستیں دیں، لیکن اس دوران ملی مسلم لیگ کو الیکشن کمیشن نے رجسٹریشن دینے سے انکار کر دیا تو اس نے یہ موقع غنیمت جانا اور اپنے امیدواروں کو اللہ اکبر تحریک کے نشان پر الیکشن لڑانے کا فیصلہ کیا، اب ان دونوں جماعتوں نے مل کر ایک سیاسی اتحاد قائم کیا ہے، دونوں جماعتوں میں سے ایک (اللہ اکبر تحریک) الیکشن کمیشن کے پاس رجسٹر ہے اور اسے کرسی کا انتخابی نشان الاٹ ہوا ہے۔ ملی مسلم لیگ رجسٹر نہیں ہوسکی، اس لئے وہ بطور جماعت الیکشن نہیں لڑسکتی، تاہم اس دو جماعتی اتحاد سے دونوں جماعتیں فائدے میں رہی ہیں، کیونکہ ایک جماعت کو امیدواروں کی تلاش تھی جو اسے ملی مسلم لیگ نے کثرت کے ساتھ فراہم کر دئیے ہیں، ایک اطلاع کے مطابق پورے ملک سے 265 ارکان اللہ اکبر تحریک کے نشان پر الیکشن لڑیں گے۔ یہ سب کے سب امیدوار ملی مسلم لیگ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان میں قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے امیدوار شامل ہیں، جن میں چار خواتین بھی ہیں۔

ملی مسلم لیگ اس وقت عجلت میں وجود میں آئی جب نواز شریف کی نااہلی اور اس کے نتیجے میں حلقہ این اے 120 سے قومی اسمبلی کی نشست خالی ہوئی۔ ستمبر 2017ء میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ (ن) کی جانب سے بیگم کلثوم نواز اور تحریک انصاف کی طرف سے ڈاکٹر یاسمین راشد نے الیکشن لڑا۔ دوسری سیاسی جماعتوں اور آزاد ارکان سمیت اس حلقے میں مجموعی طور پر 42 امیدوار میدان میں آگئے تھے، جن میں پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی، تحریک لبیک یا رسول اللہ سمیت آزاد ارکان بھی شامل تھے۔ بیگم کلثوم نواز اور ڈاکٹر یاسمین راشد کے سوا باقی تمام امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہوگئیں، جن میں جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی کے امیدوار بھی شامل تھے، ضمانتیں تو تحریک لبیک اور ملی مسلم لیگ کے امیدوار کی بھی ضبط ہوئیں لیکن ان دونوں جماعتوں کے امیدواروں کی کارکردگی پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی سے بہتر رہی۔ چونکہ ملی مسلم لیگ الیکشن کمیشن کے پاس رجسٹر نہیں ہوسکی، اس لئے فنی طور پر اس کے امیدوار آزاد تصور کئے گئے، لاہور کے بعد اس جماعت نے پشاور سے بھی ضمنی الیکشن لڑا، لیکن یہاں بھی کامیابی نہ ہوئی۔ ملی مسلم لیگ کو حافظ محمد سعید کی سرپرستی حاصل ہے، جو طویل عرصے تک الیکشن کے جھمیلوں سے بے نیاز رہے۔ وہ انتخاب میں حصہ لینے کو پسند نہیں کرتے تھے، لیکن لاہور کے ضمنی الیکشن (حلقہ این اے (120 میں ان کے لئے اتنی کشش تھی کہ انہوں نے الیکشن کے بارے میں اپنا نقطہ نظر تبدیل کرلیا۔ 180 درجے کا یوٹرن ایسے ہی مواقع کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ دو ضمنی انتخابات ہارنے کا تجربہ لے کر اب یہ جماعت 265 امیدواروں کے ساتھ میدان میں اتری ہے تو دیکھنا ہوگا کہ وہ کتنے امیدواروں کو کامیاب کرا پاتی ہے۔ جہاں تک دعوؤں کا تعلق ہے، ہر جماعت اپنی اپنی کامیابی کے دعوے کرنے میں آزاد ہے، ایسے میں ملی مسلم لیگ کو بھی حق ہے کہ وہ بھی جیسے چاہے دعوے کرے۔ ظاہر ہے کہ اس نے انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا ہے تو کامیابی کی امید پر ہی کیا ہوگا۔ قصور میں اس نے تحریک انصاف کے امیدوار ڈاکٹر عظیم الدین کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے۔ عین ممکن ہے کسی دوسرے حلقے میں بھی وہ تحریک انصاف یا کسی دوسری جماعت کے ساتھ انتخابی تعاون کرے، لیکن مرکزی جمعیت اہل حدیث کے ساتھ اس کا تعاون کہیں نہیں ہے، حالانکہ دونوں جماعتوں کا تعلق اہل حدیث مسلک سے ہے، لیکن دونوں کے سیاسی راستے الگ الگ ہیں۔ دونوں جماعتوں میں کسی قسم کے تعاون کا امکان بھی نہیں ہے۔ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہمیشہ مسلم لیگ (ن) کے ساتھ رہی ہے، لیکن اب دونوں جماعتوں کے راستے الگ ہوگئے ہیں۔

ملی مسلم لیگ کی قیادت کا کہنا ہے کہ وہ رجسٹریشن کے لئے اپنی عدالتی جنگ جاری رکھے گی، کیونکہ رجسٹریشن نہ صرف اس کا حق ہے بلکہ رجسٹریشن نہ کرکے بطور سیاسی جماعت اس کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے، کیونکہ آئین، پاکستان کے ہر شہری کو ملکی قانون کے تحت سیاسی جماعت بنانے کی اجازت دیتا ہے۔ ملی مسلم لیگ کے وابستگان بھی ملک کے پرامن اور قانون پسند شہری ہیں، لیکن بھارت کے میڈیا کے دباؤ کے تحت ملی مسلم لیگ کی رجسٹریشن اس لئے نہیں کی جا رہی کہ یہ جماعت الدعوۃ کی قیادت کے زیر اثر ہے اور جماعت الدعوۃ کی سرگرمیاں بھارت کو ایک آنکھ نہیں بھاتیں۔

فیض آباد دھرنے کے حوالے سے شہرت یافتہ تحریک لبیک بھی عام انتخابات میں حصہ لے رہی ہے، اور اسے امید ہے کہ اس کے امیدوار اتنی زیادہ تعداد میں کامیاب ہوں گے کہ مخالفین حیرت سے انگلیاں دانتوں میں دبا لیں گے۔ تحریک لبیک اپنے قیام کے ساتھ ہی دو حصوں میں تقسیم ہوگئی ہے۔ ایک دھڑے کی قیادت مولانا خادم حسین رضوی اور دوسرے دھڑے کی قیادت ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی کر رہے ہیں۔ دونوں نے الگ الگ انتخابی نشان حاصل کئے ہیں ار دونوں کو کامیابی کا یقین ہے۔ اس جماعت نے بھی لاہور کے حلقہ این اے 120 میں ضمنی الیکشن لڑا تھا اور اس کے امیدوار نے باقی تمام دینی جماعتوں کے امیدواروں سے زیادہ ووٹ لئے تھے۔ پھر دھرنے میں اس کی کامیابی نے اس کی شہرت کو ملک گیر حیثیت دے دی۔ اب اس کریڈٹ پر یہ جماعت الیکشن کے میدان میں اتر رہی ہے، تو دیکھنا ہوگا کہ اس کی کارکردگی کیا رہتی ہے۔

مزید : تجزیہ