قبائلی عمائدین کی صوبائی انتخابات جنرل الیکشن کیساتھ نہ کرانے پر بائیکاٹ کی دھمکی

قبائلی عمائدین کی صوبائی انتخابات جنرل الیکشن کیساتھ نہ کرانے پر بائیکاٹ کی ...

بنوں(آ ئی این پی) شمالی وزیرستان قومی اسمبلی کے امیدوار اورقبائلی عمائدین نے اسی سال فاٹا میں صوبائی اسمبلی کے انتخابات نہ کرانے پر بائیکاٹ اور پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دینے کی دھمکی دیدی، شمالی وزیرستان حلقہ پی کے 48 کے آزاد اُمیدوار حاجی محمد اقبال خان وزیر نے مشران کے ہمراہ بنوں پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا الیکشن کمیشن آف پاکستان کے فاٹا میں ایف سی آر قانون کے خاتمے اورفاٹاکے خیبرپختونخوا سے انضمام کے بعد صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر انتخابات نہ کرانے کے فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہیں ایک سال بعد صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر انتخابات سے یہاں کے منتخب نمائندوں کو صوبائی اسمبلی کے سپیکر اور وزیراعلیٰ کے انتخاب میں حصہ لینے سے محروم کرنے کے مترادف ہے ،صوبے میں انضمام کے بعد یہاں کے عوام کو ملک کے دیگر شہریوں کی طرح برابر کے حقوق حاصل ہو جا تے ہیں مگر افسوس کا مقام ہے یہاں کے عوام کیساتھ امتیازی سلوک کا سلسلہ جاری رکھا گیا ہے ہم نے اس ظلم و زیادتی کیخلاف ماہ رمضان المبارک میں اسلام آباد میں احتجاجی دھرنے دیئے اور الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کی جنہیں خارج کردیا گیا ہے اس سے پہلے شمالی وزیر ستان کو قومی اسمبلی کی دو نشستیں نہ دیکر زیادتی کی گئی اور اب صوبائی سمبلی کی نشستوں پر انتخاب لڑنے کی اجازت نہ دیکر ہمارے منتخب نمائندوں کو صوبائی حکومت کی تشکیل میں حق رائے دہی کے استعمال سے روکنے کی سازش کی گئی حالانکہ ایسا کرنے کیلئے الیکشن کمیشن کے پاس کوئی جواز بھی نہیں ۔ خیبرپختونخوا میں شامل قبائلی عوام کیساتھ امتیازی سلوک فوراً بند کیا جائے سپریم کورٹ ، الیکشن کمیشن اور نگران حکومت اس اہم مسئلے پر غور کریں اور 25 جولائی کو ہونیوالے انتخابات میں ہمارے علاقوں میں بھی صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر انتخابات کرائیں بصورت دیگر ان علاقوں میں قومی اسمبلی کی نشستوں پر انتخابات کا بھی بائیکاٹ کریں گے اور پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں بھی تاریخی دھرنا دیں گے ۔

مزید : صفحہ آخر