سابق وزیر اعظم اور سابق وزیر سیفران نے فاٹا کو صوبے میں ضم نہ کرنے کا وعدہ کیا تھا:فضل الرحمان

سابق وزیر اعظم اور سابق وزیر سیفران نے فاٹا کو صوبے میں ضم نہ کرنے کا وعدہ کیا ...

ضلع خیبر (بیورورپورٹ) فاٹا کو جان بوجھ کر پسماندہ رکھافاٹا میں طالبان کو پیدا کیا گیا اور لاشعوری طور پر استعمال کیا گیا سترہ سالوں میں جو حالات فاٹا میں گزرگئے یہ اتفاقیا ت نہیں بلکہ سوچھے سمجھے منصوبے کے تحت پیدا کئے گئے یہ سب کچھ عالمی قوتوں کے اشاروں پرایسی دن انضما م کیلئے کیا گیا ان خیالات کا اظہار جمعیت علماء اسلام (ف )کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے پشاور بنوں ہاوس میں فاٹا گرینڈ جر گے سے کیا انہوں نے کہاکہ پاکستا ن انکا گھر ہے گھر کے مسائل مل کر خود حل کر ینگے امریکی قونصلر جرنل اور اقوام متحدہ نے جو کردار ادا کیا انکو سب معلوم ہیں اور یہ شکوک شہبات پیداکر تے ہیں امریکہ نے صدام حسین پرعراق سے کویت کا بھی انضما م کیا لیکن پھر انہوں نے انکا کیا حشر کیا انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور سیفران وزیر عبدالقادرنے انکے گھر پر ان سے وعد ہ کرکے لکھ کر دیا کہ وہ انضما م نہیں کرینگے لیکن انکی کونسے مجبوری تھی کہ راتوں رات انضمام کا فیصلہ کیا جب ملک کا سربراہ دھوکہ دے تو پھر شکوہ کس سے کریں مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ فاٹا میں امن اومان پاکستان نظام قانون اور پولیس نے قائم نہیں کیا تھا بلکہ قبائلی عوام نے خود قائم کیا تھا لیکن پھر انہوں نے طالبان بھیج کر امن اومان تباہ کر دیا اور یہ سب کچھ اسی دن یعنی انضما م کیلئے کیا گیا وہ کہہ رہے ہیں کہ انضما م سے قبائلی عوام ترقی کریگی اور پسماندگی دور ہو گی ایف سی آر جو کالا قانون تھا وہ بھی ترقی میں روکاوٹ نہیں تھا بلکہ آپ لوگ فاٹامیں ترقی کیلئے روکاوٹ تھے انضما م سے پہلے آپریشنز کئے گئے قبائلی عوام کیلئے کیمپ بنائے گئے بے گھر کئے گئے تمام انفراسٹرکچر تباہ کیا نوجوانوں کو بے روزگا رکیا گیا کیا انکا حل انضمام ہیں انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقے بھی پسماندہ ہیں اور جنوبی پنجاب بھی پسماندہ ہیں لیکن وہاں پسماندہ دور کرنے کیلئے اربوں روپے خرچ کئے جا رہے ہیں اور علیحدہ صوبے کی حمایت کر رہے ہیں لیکن فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کیا گیا بیماری ایک ہے اور علاج مختلف ہے یہ سراسردوغلی پالیسی ہے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ وہ دشمیناں اور بدامنی پیدا نہیں کر نا چاہتے پاکستان مفاد کے خلاف کام نہیں کرینگے جو ملک کیلئے بہتر ہو گا وہی کرینگے انہوں نے کہا قبائلی عوام کا فائدہ علیحدہ صوبے میں ہیں انضمام میں نقصانات زیا دہ اور فائدے کم ہیں اب قبائلی علاقوں کو سالانہ90ارب روپے ملے گے یہ بھی خیرات ہے جب صوبے نہیں دینگے تو پھر نہیں ملے گے لیکن علیحدہ صوبے میں سالانہ 120ارب روپے ملے گے انہوں نے کہا کہ ہزاروں خاصہ دار فورس اہلکاروں کو ختم کر رہے ہیں چالیس ہزار گھرانوں کو بے روزگا رکیا جا رہا ہیں اور اس میں ملاکنڈ کو بھی شامل کیا گیا ایک مذاق بنا دیاگیا ہے مولانانے کہا کہ جب آئینی ترمیم پاس کر رہے تھے تو صر ف ایک فاٹا ممبر قومی اسمبلی موجود تھا باقی نہیں تھے کیونکہ باقی انضما کے خلاف تھے آخر میں انہوں نے کہا کہ وہ قبائلی عوام کے ساتھ ہے اور آئندہ کا لائحہ عمل الیکشن کے بعد تیا رکیا جائے گا اور علیحدہ صوبے کیلئے تحریک شروع کرینگے واضح رہے کہ فاٹا گرینڈ جر میں تما قبائلی علاقوں اور ایف آرز کے مشران اور کشران نے ہزاروں کی تعدا میں شرکت کی ۔

مزید : کراچی صفحہ اول