پرائیویٹ ہاؤسنگ سکیم رولز 2014ء سے سوسائٹیوں کے مالکان بے لگام

پرائیویٹ ہاؤسنگ سکیم رولز 2014ء سے سوسائٹیوں کے مالکان بے لگام

لاہور(اپنے نمائندے سے) پرائیویٹ ہاؤسنگ سکیم رولز 2014ء کے تحت مالکان ہاؤسنگ سکیم کو دیئے جانے والے اختیارات رہائشیوں کیلئے و بال جان اور فراڈ جعلسازی کی بڑی وجہ بن گئے، ایل ڈی اے، ٹاؤن انتظامیہ اور کوآپرٹیو سمیت دیگر حکومتی اداروں نے بھی رولز میں ترمیم کرنے کی بجائے خاموشی اختیار کر لی، ہاؤسنگ سکیموں کے شہری سکیم مالکان کے رحم و کرم پر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ’’روزنامہ پاکستان‘‘ کو ملنے والی معلومات کے مطابق صوبائی دارالحکومت کے حکم پر ایل ڈی اے، ٹاؤن انتظامیہ اور کوآپرٹیو کے بنائے جانے والے ایکٹ، رولز اور ایگزیکٹو آرڈر کے تحت مالکان ہاؤسنگ سکیم کو دیئے جانے والے اختیارات جعلسازی ، فراڈ، دھوکہ دہی اور کرپشن کی وجہ بن گئے۔ ایل ڈی اے کے شعبہ پرائیویٹ ہاؤسنگ سکیم کے رولز 2014ء نے مالکان ہاؤسنگ سکیم کو انتہائی با اختیار اور با اثر بنا رکھا ہے جس سے وہ سوسائٹی کی زمین بیچنے کے باوجود مکمل طور پر سکیموں کا کنٹرول سنبھالے ہوئے ہیں، سکیموں میں ہونے والے تعمیراتی کاموں سے لے کر تمام انتظامی معاملات کو بھی اپنے کنٹرول میں کر رکھا ہے یہی وجہ ہے کہ پرائیویٹ ہاؤسنگ سکیموں میں ہونے والی کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے باعث شہری نیب اور اعلیٰ عدالتوں سے رجوع کرچکے ہیں اور الزامات ثابت ہونے پر متعلقہ ہاؤسنگ سکیموں کے مالکان گرفتاریوں کے بعد جیلوں میں بھی جا رہے ہیں اور قومی احتساب بیورو پنجاب سمیت حکم اینٹی کرپشن اور دیگر احتسابی ادارے بھی روزانہ کی بنیاد پر کارروائی کرنے میں مصروف ہیں۔ شہریوں کی کثیر تعداد نے ڈی جی ایل ڈی اے سے مطالبہ کیا ہے کہ پرائیویٹ ہاؤسنگ سکیموں کے رولز 2014ء میں ترمیم کرتے ہوئے ایسے رول نافذ کریں جس سے رہائشیوں کیلئے آسانیاں ہوں۔

ہاؤسنگ سکیم رولز

مزید : صفحہ آخر