پولیس نے ملزمان سے مل گئی 5بیگناہوں پرپرچہ دیدیا،محمد رمضان

پولیس نے ملزمان سے مل گئی 5بیگناہوں پرپرچہ دیدیا،محمد رمضان

کلر سیداں(تحصیل رپورٹر)پولیس گردی کی انتہا،تھانہ کلر سیداں پولیس کے سب انسپکٹر ملک کرامت علی نے بھاری رشوت لے کر اور بااثر افراد کی ملی بھگت سے مظلوم پارٹی کا ساتھ دینے کی بجائے پانچ افراد کیخلاف جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔محمد رمضان نے کلر سیداں میں صحافیوں کو بتایا کہ محمد ظریف اور اس کے دو بیٹوں فہد ظریف اور شہر یار ظریف نے گھر میں داخل ہو کر اسے تشدد کا نشانہ بنایا اور پولیس سے ملی بھگت کر کے میرے سمیت ، مقامی صحافی راجہ انوار الحق،احترام الحق،نعمان عزیر،امیر حمزہ اور رئیس احمد جو موقع پر موجود ہی نہیں تھے کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کروا دیا۔ رمضان حسین سکنہ سکوٹ نے تھانہ کلر سیداں میں دی گئی درخواست میں تحریر کیا تھا کہ میں بسلسلہ روزگار سعودی عرب مقیم ہوں اور آج کل تعطیلات گزارنے پاکستان آیا ہوا ہوں۔گزشتہ روز شام چھ بجے اپنے گھر کے باہر بارش کے پانی کی نکاسی کر رہا تھا کہ مسمی شہر یارموٹر سائیکل پر تیزی سے گزرا جس سے میرے کپڑے خراب ہو گئے۔میں نے اسے کہا کہ بارش کے دنوں میں آرام سے موٹر سائیکل چلایا کروجس پر وہ مجھے برا بھلا کہتا ہوا گھر روانہ ہو گیااور اپنے والد ظریف اور بھائی فہد کو ڈنڈوں سے مسلح کر کے میرے گھر بھیجوا دیا۔میں گھر کے دروازے سے جونہی باہر نکلا ،تینوں نے ڈنڈوں سے مجھ پر حملہ کر دیاجس سے میں گر پڑا اور اسی دوران انہوں نے مجھ گرے ہوئے کو لاتوں اور مکوں سے تشدد کا نشانہ بنایاور گھر کی خواتین کو بھی گندیاں گالیاں دیں۔رمضان نے بتایا کہ ملزمان کیخلاف تھانہ کلر سیداں میں درخواست دی اور میری درخواست پر کارروائی کرنے کی بجائے الٹا ہمیں ہی ملزم بنا دیا گیا ۔ادھر راجہ محمد ظریف نے مقدمہ درج کراتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ میں مسمی راجہ ظریف اور میرا بیٹا محمد جنید ظریف وکالت کے پیشے سے منسلک ہیں۔گزشتہ روز ہم دونوں کچہری راولپنڈی سے فارغ ہو کر گھر آ رہے تھے اور شام ساڑھے چھ بجے ہم اپنے گھر کے قریب گلی میں پہنچے تو وہاں محمد رمضان ،نعمان ،عزیز الحق،حمزہ ،احترام الحق ،رئیس اور انوار الحق موجود تھے،محمد رمضان نے للکارا لگایا آج تمہیں میرے بہنوئی رئیس کیساتھ مقدمے بازی کا مزہ چکھاتا ہوں اور ساتھ ہی رمضان نے میری بائیں آنکھ پر آہنی مکہ دے مارا اور باقی اشخاص نے لاتوں مکوں سے پٹائی کی۔ رمضان حسین نے چیف جسٹس آف پاکستان سمیت آر پی او راولپنڈی ریجن اور سی پی او سے صورتحال کا سختی سے نوٹس لینے اور ملزمان کیخلاف مقدمہ درج کروانے کی ہدایت جاری کرنے کی اپیل کی ہے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر