جامعہ زکریا میں انڈسٹریل لنک نہ ہونے سے ترقیاتی پراجیکٹ خزانے پر بوجھ

جامعہ زکریا میں انڈسٹریل لنک نہ ہونے سے ترقیاتی پراجیکٹ خزانے پر بوجھ

ملتان(خصوصی رپورٹر)زکریا یونیورسٹی میں انڈسٹریل لنکجز نہ ہونے کیوجہ سے ترقیاتی پراجیکٹ خزانے پر بوجھ بن گئے ، خسارہ بڑھنے لگا تفصیل کے مطابق دنیا بھر میں یونیورسٹیوں میں ترقیاتی پراجیکٹ اپنے انڈسٹری سے جڑے ہوتے ہیں جن کے پراجیکٹ سے شعبے بھی چلتے ہیں (بقیہ نمبر61صفحہ12پر )

یونیورسٹی میں ترقیاتی کام بھی ہوتے ہیں مگر زکریا یونیورسٹی میں اس طریقہ کا ر پر کام نہیں ہوا ، ترقیاتی پراجیکٹ یونیورسٹی کے خزانے کیلئے بوجھ بن گئے ہیں ایچ ای سی نے اس مقصد کیلئے ’’اورک‘کا شعبہ قائم کیا اس یونیورسٹی میں اس شعبے نے خود کو ریسرچ تک محدود رکھا ، انڈسٹری سے تاحال کوئی لنک قائم نہیں ہوسکا، رواں برس ایچ ای سی سے پراجیکٹ حاصل کئے مگر انڈسٹری سے کوئی پراجیکٹ نہیں مل سکا ،وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر طاہر امین نے انڈوومنٹ فنڈ قائم کیا تھا اس میں بھی یونیورسٹی ہی ہرسال اپنے خزانے سے پیسے ڈال رہی ہے اس کیلئے بھی کوئی فنڈنگ نہیں ہوسکی ہے تاہم اس کے پیسوں کو بنک میں انویسٹ کرکے منافع لیا جارہا ہے یونیورسٹی خزانہ ذرائع کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کا خسارہ کم کرنے کیلئے ضروری ہے کہ ترقیاتی پراجیکٹ انڈسٹری سے لئے جائیں ایچ ای سی اتنے زیادہ پراجیکٹ نہیں دے سکتی یہی وجہ ہے رواں برس ایچ ای سی نے کوئی ترقیاتی پراجیکٹ نہیں دیا تاہم ریسرچ پراجیکٹ کا وعدہ ہوا ہے جس سے لیبارٹریوں کا سامان آئے گا۔

مزید : ملتان صفحہ آخر