سپریم کورٹ کے 2ججزسمیت2200الاٹیز کے پلاٹوں پر تعمیرات ، منتقلی پر پابندی

سپریم کورٹ کے 2ججزسمیت2200الاٹیز کے پلاٹوں پر تعمیرات ، منتقلی پر پابندی
سپریم کورٹ کے 2ججزسمیت2200الاٹیز کے پلاٹوں پر تعمیرات ، منتقلی پر پابندی

  

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وفاقی ترقیاتی ادارے (سی ڈی اے ) نے چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان، چیئرمین نیب سمیت 2ہزار 2سو الاٹیز کے تخلیق شدہ پلاٹوں پر ہرقسم کی تعمیرات اور جائیدادوں کی منتقلی پر پابندی عائد کردی ہے پابندی عدالت عالیہ کے جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کی عدالت کے فیصلے کی روشنی میں کیا گیا ہے فیصلے کی زد میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے ججز صاحبان ،ریٹائرڈ وفاقی سیکرٹریز اور دوہزار سے زائد شہریوں کے پلاٹس آئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق وفاقی ترقیاتی ادارے (سی ڈی اے ) کی انتظامیہ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے اسلام آباد کے مختلف سیکٹرز میں اتھارٹی کی جانب سے تخلیق کیے گئے پلاٹس کے خلاف حکم امتناع کے باعث دوہزار پلاٹس کی خریدو فروخت اور ان پر تعمیرات پر پابندی عائد کردی ہے۔

عدالتی فیصلے کے بعد چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار ، چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال ، سپریم کورٹ کے جج جسٹس (ر) فلک شیر ، جسٹس امیر ہانی مسلم ، جسٹس عارف خلجی ، جسٹس (ر) خلیل الرحمان رمدے ، جسٹس (ر) غلام ربانی ، جسٹس اعجاز افضل خان ، سابق رجسٹرار سپریم کورٹ فقیر حسین ، جسٹس شیر علی ، جسٹس راجہ فیاض احمد ، سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس انور ظہیر جمالی ، جسٹس چوہدری اعجاز احمد ، جسٹس (ر) طارق پرویز ، جسٹس آصف سعید کھوسہ ، سابق بیوروکریٹ جاوید اسلم ، کامران قریشی ، نرگس سیٹھی ، امتیاز عنایت ، کامران لاشاری ، ڈاکٹر وسیم کوثر ، اشفاق گوندل ، جلیل عباس جیلانی سمیت دیگر اہم شخصیات کے پلاٹوں پر قسم کی تعمیرات اور جائیداد کی خریدو فروخت پر پابندی عائد کردی ہے۔

قبل ازیں عدالت عالیہ نے سیکٹرز بننے کے بعد تخلیق کیے جانے والے 2 ہزار پلاٹس پر حکم امتناع جاری رکھا ہے۔

مزید : رئیل سٹیٹ /علاقائی /اسلام آباد