زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ سے نکالنے کا معاملہ،اسلام آباد ہائیکورٹ تحریری جواب پیش نہ کرنے پر وزارت دفاع پر برہم

زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ سے نکالنے کا معاملہ،اسلام آباد ہائیکورٹ تحریری ...
زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ سے نکالنے کا معاملہ،اسلام آباد ہائیکورٹ تحریری جواب پیش نہ کرنے پر وزارت دفاع پر برہم

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ سے نکالنے کے معاملے پر تحریری جواب پیش نہ کرنے پر وزارت دفاع کے نمائندے پر سخت برہمی کا اظہار کیا ،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو تحریری جواب کے ساتھ آج پیش ہونا چاہئے تھا،سرکاری کاموں میں اس طرح کی تاخیر نہیں ہونی چاہئے ،آپ کوباقی فریقین کاخیال رکھناچاہئے تھا،یہاں لوگ مذاق کیلئے نہیں قانون کے احترام میں پیش ہوتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ سے نکالنے کے معاملے کی سماعت ہوئی،وزارت دفاع کا نمائندہ عدالت میں پیش ہوا۔

جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ نور خان ایئر بیس پرپرائیویٹ جہاز کیسے اترا؟،کیا پرائیویٹ مقصد کیلئے ایئر بیس استعمال کیا جا سکتا ہے ،اگر استعمال کیا جا سکتا ہے تو طریقہ کار کیا ہے ، نیب کی درخواست نام سی ایل میں ڈالنے کی تھی،بلیک لسٹ میں کیوں ڈالا؟۔

نمائندہ وزارت دفاع نے عدالت کو بتایاکہ مجھے رات کو پتہ چلا کہ پیش ہونا ہے ،مجھے پٹیشن کی کاپی بھی نہیں دی۔

عدالت نے تحریری جواب جمع نہ کرانے پر وزارت دفاع کے نمائندے پر اظہار برہمی کیا، جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ آپ کو تحریری جواب کے ساتھ آج پیش ہونا چاہئے تھا،سرکاری کاموں میں اس طرح کی تاخیر نہیں ہونی چاہئے ،آپ کوباقی فریقین کاخیال رکھناچاہئے تھا،یہاں لوگ مذاق کیلئے نہیں قانون کے احترام میں پیش ہوتے ہیں۔عدالت نے کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کردی۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد