27 سالہ شہزادی نے عام شہری سے شادی کا فیصلہ کرلیا، عشق کے لئے شاہی خاندان چھوڑنے کا اعلان کردیا

27 سالہ شہزادی نے عام شہری سے شادی کا فیصلہ کرلیا، عشق کے لئے شاہی خاندان ...
27 سالہ شہزادی نے عام شہری سے شادی کا فیصلہ کرلیا، عشق کے لئے شاہی خاندان چھوڑنے کا اعلان کردیا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ٹوکیو (ویب ڈیسک)جاپانی شہزادی آیاکو نے عام شہری سے شادی کا اعلان کیا ہے،اس سے قبل ان ہی کے خاندان کی دو شہزادیاں دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر شاہی رتبہ چھوڑنے کو تیار ہوئیں۔جاپان کے شاہی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ شہنشاہ آکی ہیتو کے مرحوم کزن تکا مودو کی تیسری اور سب سے چھوٹی دختر شپنگ فرم سے وابستہ32 سالہ موریو نامی ایک عام شہری سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے کا ارداہ رکھتی ہیں۔

دونوں ایک سال سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں ،گزشتہ روز انہوں نے 12 اگست کو منگنی جبکہ شادی 29اکتوبر کو کرنے کا اعلان کیا ہے۔شہزادی آیا کو نے سماجی فلاح و بہبود میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔،ان کی موریو سے پہلی ملاقات ان کی والدہ شہزادی تکامودوکے ذریعے ہوئی۔شہزادی تکامودو ،موریو کے والدین کو ایک فلاحی تنظیم کے سرگرم کارکن کی حیثیت سے جانتی ہیں، انہوں نے آیاکو کی عالمی فلاحی سرگرمیوں میں دلچسپی دیکھتے ہوئے موریو کی والدین سے ملاقات کروائی۔

عالمی فلاحی سرگرمیوں میں معلومات اور ذہنی ہم آہنگی ہونے کے علاوہ آیاکو اور موریو میں دوسری باتیں بھی مشترک ہیں،دونوں کو اسکینگ، کتابوں اور سفر سے بھی گہری دلچسپی ہے۔جاپان کے شاہی قانون کے تحت ’آیاکو‘ کو ’موریا‘ سے شادی کرنے کے بعد اپنا شاہی رتبہ ترک کرنا پڑے گا یعنی پھر انہیں شہزادی کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک عام شہری کی حیثیت سے زندگی گزارنی ہو گی۔

شہزادی آیاکو جاپانی شاہی خاندان کی وہ پہلی فرد نہیں جو ایک عام شہری سے شادی کرنے اپنا شاہی رتبہ چھوڑ رہی ہیں ،اس سے قبل جاپانی شہنشاہ آکی ہیتو کی سب سے بڑی پوتی، 25 سالہ شہزادی ماکو نے بھی ٹوکیو کی ایک قانونی فرم سے وابستہ ’کی کومورو‘ نامی شخص سے شادی کر کے شاہی خاندان کو چھوڑنے کا ارادہ رکھتی ہیں تاہم ابھی ان کی شادی تاخیر کا شکار ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ابھی وہ شادی کے لئے تیار نہیں ہیں۔

2005 میں شہزادی ماکو کی پھوپھی، شہزادی سایاکو نے بھی اپنی شاہی حیثیت ٹھکراتے ہوئے ایک عام جاپانی یوشیکی کرودا سے شادی کرلی تھی جس کے بعد سے آج تک وہ ایک معمولی سے گھر میں مقیم ہیں جہاں انہیں سارے کام خود ہی کرنا پڑتے ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /بین الاقوامی