شفاف قیادت سے شفاف پانی تک 

شفاف قیادت سے شفاف پانی تک 
شفاف قیادت سے شفاف پانی تک 

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

تحریک انصاف جسکا قیام ہی انصاف کی بالادستی قائم کرنی ہے کی بنیاد پر وجود میں آیا تھا۔اور یہ سلوگن۔ صاف چلی، شفاف چلی تحریک انصاف چلی۔ بہت مشہور ہوا تھا مگر آہستہ آہستہ یہ نعرہ پس پردہ چلا گیا۔پھر کیا نعرہ نکلا ؟؟؟

’’ جب آئے گا عمران خاں ‘‘ بہت مشہور ہوگیا۔ انتخابات ہوں تو نعرے دعوے سلوگن بہت مشہور ہوجاتے ہیں اور منشور یا کردار کہیں دور رہ جاتے ہیں ۔ تحریک انصاف کی شفافیت پر یو ٹرن۔ سے لیکر atms الیکٹیبلز یا لوٹ ایبلز نے جو نقب لگائی اس گھاؤ کو بھرنے میں عرصہ لگے گا۔

کل سے ایک پوسٹ گردش کر رہی ہے کہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے اپنے نظریہ کے لیئے الیکشن چھوڑ دیا جبکہ عمران خان نے الیکشن کے لیئے اپنے نظریہ کی قربانی دے دی ۔کون صیح ہے کون غلط؟ اسکا فیصلہ عوام پر چھوڑتے ہیں۔

جوں جوں نظریاتی کارکنان کا صفایا ہوتا جارہا ہے ویسے ویسے ہر الیکٹیبل میں atm کا عکس میرا مطلب ہے لوٹ ایبل کا عکس نمایاں ہوتا جارہا ہے۔کارکنان کو بتایا جارہا ہے کے الیکشن جیتنے کی سائنس کیاہوتی ہے۔ عام کارکن سوچوں میں آج تک غلطاں ہے کہ وہ جو تبدیلی کا آرٹس پڑھتا رہا، کیا اسکی ملنے والی ڈگری جعلی تھی۔

ویسے خان صاحب اس سائنس سے آشنا ہوچکے ہیں کہ اپنے خاندان کے کسی فرد یا دوست یار کو ٹکٹ نہیں دینا بس اکیلے ہی پانچ سیٹوں پر خود الیکشن لڑ لو۔خان صاحب کے الیکٹیبلز کا معاملہ اس بلی کی طرح ہے جو دو کلو کی تھی اور اس پر دو کلو گوشت کھانے کا الزام لگا دیا گیا ہے۔ اگر ووٹ بینک عمران خان کا ہے تو الیکٹیبلز کے ووٹ کہاں گئے اور اگر الیکٹیبلز کے ووٹ ہیں تؤ خان صاحب کا ووٹ بینک کہاں گیا۔ دو کلو بلی دو کلو گوشت کھا کر بھی دو کلو کی ہی ہے۔

ن لیگ اور تحریک انصاف دونوں جماعتیں بہت پریشر میں ہیں۔لابی اور گروپنگ کا شکار جماعتیں من پسند لوگوں کو ٹکٹوں سے نواز رہی ہیں اور قربانی والے ٹکٹکی باندھ کر دیکھ رہے ہیں۔ قربانی کا جانور بھلا اور کر بھی کیا سکتا ہے۔

دوسرے جانب ن لیگ کا مرکز پنجاب ہے جہاں اصل مقابلہ لاہور میں پڑے گا۔ مگر نو منتخب مرکزی صدر ن لیگ میاں شہبازشریف کراچی میں میدان سجائے بیٹھے ہیں ۔ایک طرف انہوں نے سندھ حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا کہ ابھی تک گرین بس پروجیکٹ کے لیئے بسیں نہیں منگوائیں دوسری طرف وہ یہ بات بتانے سے قاصر ہیں کہ بارہ۔ چودہ مہینوں میں ریکارڈ میٹرو بس کے منصوبے بنانے والے ابھی تک تین سال میں کراچی میں گرین بس کا منصوبہ پایہ تکمیل تک کیوں نہ پہنچا سکے؟ اگر ن لیگ وفاق کی طرف سے یہ ایک پروجیکٹ بھی مکمّل کر لیتی تو کراچی کے عوام سے ووٹ مانگنے کا معقول جواز تھا۔ 

لیاری کراچی میں ایک انتخابی جلسے سے کام کرتے ہوئے میاں شہبازشریف کا کہنا تھاکہ اقتدار میں آنے کے بعد دو مہینے کے اندر کراچی کے ہر گھر میں دو ماہ کے اندر صاف پانی پہنچا دینگے ۔جس وقت وہ یہ تاریخی جملے ادا کر رہے تھے اسی وقت ٹی وی چینلز پر پنجاب میں صاف پانی کمپنی اسکینڈل کیس میں چار ارب روپے کی کرپشن کی تفصیلات بتائی جارہی تھیں اور اس سلسلے میں ن لیگ کے نامزد امیدوار قومی اسمبلی راجا قمر الاسلام جو کہ چوہدری نثار کے مقابلے میں الیکشن لڑ رہے ہیں انکی اسی کیس میں گرفتاری کی خبریں چل رہی تھیں ۔بتایا جاتا ہے کے صاف پانی کمپنی کے تحت ایک بوند پانی بھی فراہم نہیں کیا گیا۔ نجانے شہبازشریف صاحب نے عوام کی آنکھوں میں گڈ گورنس کے نام پر کونسی لال مرچیں جھونکی ہیں کہ سب اچھا ہے کا راگ الاپا جارہا ہے۔

ابھی تو شھباز شریف صاحب نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے صاف شفاف لہو کا حساب دینا ہے جو بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن دہاڑے بہایا گیا ہے۔ دوسری طرف خان صاحب نے بلین ٹری منصوبے کی شفافیت کا جواب دینا ہے اور پچاس لاکھ گھروں اور ایک کروڑ نوکریوں کا بھی بندوبست کرنا ہے۔رہی بات جمہور یعنی عوام کی،امید واثق ہے ایک دن وہ بھی صاف شفاف طریقے سے اپنے نمائندے منتخب کر سکیں گے۔ وہ دن حقیقی تبدیلی کا آغاز ہوگا۔

۔

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ