جنّ نکالنے کی نیت سے آئے اور نگاہ رسول ﷺ کی تاب نہ لاسکے ،ایک عامل صحابیؓ کے قبول اسلام کا ایسا واقعہ جس نے انکی کایا ہی پلٹ دی 

جنّ نکالنے کی نیت سے آئے اور نگاہ رسول ﷺ کی تاب نہ لاسکے ،ایک عامل صحابیؓ کے ...
جنّ نکالنے کی نیت سے آئے اور نگاہ رسول ﷺ کی تاب نہ لاسکے ،ایک عامل صحابیؓ کے قبول اسلام کا ایسا واقعہ جس نے انکی کایا ہی پلٹ دی 

  

حضرت ضمادبن ازدیؓ کا شمار السابقون الاولون میں ہوتا ہے۔ ضماد ازدیؓ طبابت کے ساتھ جھاڑ پھونک،جنات وجادو کا علاج کرتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ حضرت ضماد ایک بار مکہ آئے تو کم عقل لوگوں سے سنا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) جادو کرنے لگ گئے ہیں ،علم نجوم میں پڑ کر غیب گوئی کرنے لگے ہیں یا انھیں جنون لاحق ہو گیا ہے۔ پوچھا’’ وہ کہاں ہیں؟ہو سکتا ہے اللہ انھیں میرے ہاتھوں شفا دے دے‘‘۔ پھر چند بچوں کو آپ ﷺکا پیچھا کرتے دیکھا توکہا’’ یا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)، میں جنون کا علاج کرتا ہوں، اللہ جسے چاہتا ہے ، شفا دے دیتا ہے۔آپ بھی علاج کرا لیں‘‘

آپﷺ نے فرمایا’’ بلاشبہ، تمام تعریفیں اللہہی کے لیے ہیں، ہم اسی سے مدد چاہتے ہیں اور اسی سے مغفرت کے طلب گار ہیں۔ہم اپنے نفسوں کے شر سے اللہہی کی پناہ چاہتے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت دے، اسے گمراہ کرنے والا کوئی نہ ہو گا اور جسے وہ گمراہ کردے ،کوئی اسے ہدایت نہیں دے سکتا۔میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ اکیلے کے سوا کوئی معبود نہیں، کوئی اس کا شریک کار نہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔‘‘

ضمادؓ کہتے ہیں ’’ میں نے کاہنوں کا بیان ، جادوگروں کی گفتار اورشاعروں کاکلام سن رکھا تھا، ایسے کلمات کبھی نہ سنے تھے،اس لیے آپ سے یہ کلمات دہرانے کی درخواست کی۔آپ کے دہن مبارک سے تین باریہ الفاظ سننے کے بعد میں نے کہا: یہ کلمات تو بلاغت کی انتہا کوپہنچ گئے ہیں۔ ہاتھ بڑھائیے، میں اسلام قبول کرنے کے لیے آپ کی بیعت کرتا ہوں۔میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ واحد کے سوا کوئی معبود نہیں،میں شہادت دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اس کے بندے اور رسول ہیں‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ضماد سے بیعت لی، پھر دریافت فرمایا’’ اور آپﷺ کی قوم کی بیعت؟ ‘‘

حضرت ضمادؓ نے کہا’’ جی ہاں ، میری قوم کی طرف سے بھی بیعت لے لیجیے‘‘

حضرت عبداللہبن عباسؓ کہتے ہیں کہ بعد ازاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کا ایک دستہ حضرت ضمادؓ کی قوم کے پاس سے گزرا تو کسی صحابیؓ نے ان کی کوئی شے، لوٹا یا کچھ اورحاصل کر لیا۔ حضرت ضمادؓ کے علاقے سے گزرنے کے بعد امیر سریہ نے قسم دے کر کہا’’ جس کسی نے بھی اس سرزمین والوں کا کچھ لیا ہے توواپس کر دے‘‘۔سب نے کہا’’ اللہ امیر کا بھلا کرے، ہم نے کچھ نہیں چھینا‘‘ کچھ دیر کے بعد ایک شخص ایک لوٹا لے آیا اور کہا ’’ میں نے یہ لیا تھا‘‘

’’ اسے واپس کرو‘‘ کمانڈر نے حکم دیا’’یہ حضرت ضمادؓ کی قوم ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کر رکھی ہے‘‘ ۔ ابن کثیر کہتے ہیں کہ وہ لوٹا نہیں، بلکہ زمینوں کی آب رسانی کے لیے استعمال ہونے والا اونٹ تھا۔ 

مزید : روشن کرنیں