فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر462

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر462
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر462

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اسٹوڈیو پہنچ کر نیرہ نور اپنی تمام بیماریاں بھول گئیں۔ جب نثار بزمی صاحب سے ان کی ملاقات ہوئی اور گانے کی سچویشن اورکہانی کا مختصر پس منظر انہیں بتایا گیا تو ان کی رہی سہی علالت اور اضمحلال بھی رخصت ہوگیا۔ انہوں نے ریہرسل میں زور و شور سے حصہ لیا۔

اس زمانے کے رواج کے مطابق ای ایم آئی اسٹوڈیو میں جا کر تین مکمل ریہرسل کیں اور پھر گانے کی صدا بندی بھی کرائی۔ انہوں نے ہماری ایک ہی فلم میں گلوکاری کی۔ اسکی وجہ ہم بیان کر چکے ہیں کہ وہ حتی الامکان گلوکاری ، خاص طور پر فلموں کے لیے گلوکاری سے احتراز کرتی تھیں حالانکہ ان کے گائے ہوئے فلمی گانے نے یقیناً ان کی شہرت کا اور ان کو ہمیشہ یاد رکھنے کا ایک بہانہ بن گئے ہیں۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر461 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’بول ری گڑیا بول ذرا‘‘

بہت مقبول ہوا۔ اس کی سچویشن کے مطابق اسکو فلم میں کئی بار استعمال کیا گیا تھا اور ہربار بہت موزوں اور بر محل استعمال ہوا تھاجس نے اس کے لطف کو دوبالا کر دیا۔ پھر فلم کے اختتام پر بھی یہی گانا اور لیپ کیا گیا ،جب فلم کے ہیرو محمد علی ہوش و حواس سے قطعی بیگانہ ہو چکے ہیں اور عالم بے خودی میں ہیروئن شبنم کی عروسی لباس میں ملبوس لاش کو کاندھے پر رکھ کر سیڑھیوں پر نمودار ہوتے ہیں۔ ولن اور ہونے والے دلہا عقیل کو یہ علم نہیں ہے کہ شبنم پہلے ہی زہر کھا کر جان دے چکی ہے جس کی وجہ سے محمد علی ہوش و حواس کھو چکے ہیں۔ 

برات میں شامل دوسرے لوگ بھی اس حقیقت سے نا آشناہیں اور محمد علی کی اس معیوب اور غیر اخلاقی بلکہ مجرمانہ حرکت پر حیران ہیں یا انہیں نفریں کر رہے ہیں۔ عقیل (حامد) محمد علی (ناصر) کو رکنے کا حکم دیتا ہے۔ بصورت دیگر اسے گولی مار کرہلاک کرنے کی دھمکی دیتا ہے لیکن محمد علی اس وقت ہوش و خرد کی سرحدیں پار کر چکے ہیں۔ ہر سیڑھی پرجب گولی لگتی ہے تو وہ لڑکھڑاتے ہیں لیکن آخری زینے تک پہنچنے سے پہلے ان کے قدم نہیں رکتے۔

’’آس‘‘ کہنے کو ایک رومانی داستان تھی لیکن اس میں ہماری معاشرتی خرابیاں، انسانی لالچ،، خود غرضیاں، انسانی نفسیات اور بنیادی طور پر عورت ذات کی مجبوریوں اور لاچاریوں کو بیان کرنے کی کوشش کی گئی تھی جسے اگرماں باپ کی طرف سے اپنا بر منتخب کرنے کی اجازت دے دی جائے تو دوسری مجبوریاں اسکے پیروں کی زنجیر بن جاتی ہیں۔ ایسی لڑکی جو اسکا انتخاب بنتی ہے وہ ایک معمول یا کھلونے کے مانند زندہ رہتی ہے اور اسی طرح مر جاتی ہے۔ اسی دوران میں وہ مختلف مراحل سے گزرتی ہے۔ کئی بار سمجھوتے کرتی ہے۔ اپنی اور دوسروں کی خوشیوں کے حصول کے لیے کوشش کرتی رہتی ہے لیکن بہت کم ایساہوتا ہے کہ وہ اس کوشش میں واقعی کامیاب ہوتی ہے۔ بظاہر کامیاب،خوش و خرم اور مطمئن عورتوں کی زندگی کا مطالعہ کریں توپس پردہ دکھوں، قربانیوں اور سمجھوتوں کی ایک طویل داستان نظر آجاتی ہے۔

’’آس‘‘ میں شبنم کو مرکزی کردارکی حیثیت حاصل تھی حالانکہ کہانی کا مرکزی کردار محمد علی تھے۔ دیکھا جائے تو اس کہانی کے اور بھی کئی بنیادی کردار تھے جن کے بغیر کہانی آگے نہیں بڑھ سکتی تھی اورنہ اپنے منطقی انجام تک پہنچ سکتی تھی۔ مثلاًمحمد علی کی خالہ، سنتوش رسل، جوایک مجبور اور بے بس عورت کا مجسم نمونہ تھی۔ جس کی عزیز مرنے والی بہن کے بچوں کو ان کا حق اور گھر میں ان کا جائز مقام دلانے میں ناکام رہی تھی حالانکہ اس گھر کے حالات بدلنے اور ایک معمولی دکان دار کو دولت مند بنانے میں ان ہی یتیموں کی دولت کار فرما تھی۔ ’

’سنتوش رسل‘‘ بھی ایک بے زبان گڑیا کی طرح تھیں پھر شبنم بذات خود اس معاشرے میں عورت کی علامت تھیں۔ انہیں دولت مند باپ کا پیار اور اعتماد حاصل تھا۔ بعد میں وہ ایک خود سر اور محبت اور توجہ سے محروم نفسیاتی مریض، محمد علی کو ایک نارمل انسان بنانے اور اس کی محبت حاصل کرنے میں کامیاب بھی ہوگئی تھیں مگر محبت کی مجبوریاں ان کی راہ میں حائل ہوگئیں۔اپنے محبوب محمد علی کی بہن کو اس کی محبت دلانے کے لیے جب انہوں نے قوی کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ اگر آپ نے اس کا ہاتھ نہ پکڑا تو آپکی مریضہ صحت مند اورجاں بر نہ ہو سکے گی تو جواب میں قوی نے معذرت کا اظہار کیا۔ اس بات کا شبنم کو بھی علم تھا کہ ڈاکٹر قوی اس کو پسند کرتا ہے لیکن ہیرو کی بہن فریدہ کو خوشیاں اور نئی زندگی دینے کے لیے یہ ضروری تھا کہ قوی کی اس سے شادی ہو جائے۔

قوی نے اس موقع پر یہ اظہار بھی کر دیا کہ وہ شنبم کو پسند کرتا ہے۔

شبنم کا جواب یہ تھا کہ ضروری تو نہیں ہے کہ جسے پسند کیا جائے ،چاہا جائے وہ حاصل بھی ہو جائے۔ محبت صرف پانے کا نہیں کھونے کا نام ہے۔

قوی ایک شریف انسان کی طرح اپنی محبت سے دستبردار ہو جاتا ہے تو شبنم اب ایک نئی خواہش کا اظہار کرتی ہے ، ان کا اصرار ہے کہ وہ فریدہ سے ضرور شادی کریں۔

قوی کا کہنا ہے کہ آپ کسی اور کو پسند کرتی ہیں مجھے نہیں مل سکتیں۔ میں اس حقیقت کو کسی شکوہ شکایت اور تلخی کے بغیر تسلیم کرتا ہوں لیکن یہ تو زبردستی اور نا انصافی ہے کہ میں ایک ایسی لڑکی سے شادی کر لوں جسے میں پسند نہیں کرتا۔

شبنم پھر قوی کو ایک لیکچر دے کر یہ سمجھاتی ہیں کہ جب انسان کسی سے محبت کرتا ہے تو اس کی خاطر قربانی بھی دیتا ہے میں چاہتی ہوں کہ میری خاطر آپ فریدہ سے شادی کر لیں۔ نہ صرف شادی کر لیں بلکہ اسے ایک اچھے شوہر کی محبت اور توجہ بھی دیں۔ اسے کبھی یہ احساس نہ ہونے دیں کہ آپ نے کسی اور کے کہنے پر اس سے شادی کی ہے۔ 

ڈاکٹر قوی ایک حساس اور ذہین آدمی ہے۔ وہ معقولیت کی ہر بات کو تسلیم کرنے پر آمادہ ہے۔ لیکن شبنم کی یہ ضد اور منطق اسے عجیب سی لگتی ہے بلکہ اسے مضطرب اور مشتعل بھی کر دیتی ہے۔

شبنم کے اس اصرار پر کہ آپ فریدہ سے شادی کر لیں میری خاطر! قوی رضا مند ہو جاتا ہے لیکن ایک شرط پر؟

’’وہ شرط کیا ہے؟‘‘ شبنم دریافت کرتی ہے۔

’’میں اس کے جواب میں آپ سے جو بھی مانگوں گا وہ آپ مجھے دیں گی۔‘‘

’’ڈاکٹر صاحب ! آپ اگر جان بھی مانگیں گے تو انکار نہیں کروں گی۔‘‘

’’اور اگر میں اس سے بھی کوئی زیادہ قیمتی چیز مانگ لوں تو؟‘‘

شبنم ہنستی ہے ’’جان سے زیادہ قیمتی چیز کیا ہو سکتی ہے؟‘‘

’’یہ میں آپ کو وقت آنے پر بتاؤں گا۔‘‘

’’ٹھیک ہے مجھے آپ کی یہ شرط منظور ہے۔ یہ میرا وعدہ ہے لیکن ہمارے اس سمجھوتے کی خبر ہم دونوں کے سوا کسی اور کو نہیں ہونی چاہئے۔ فریدہ کو یہ معلوم نہ ہو کہ آپ نے میری سفارش پر اس کو اپنایا ہے۔‘‘

اس عجیب و غریب ’’وعدے‘‘ پر یہ سین ختم ہو جاتا ہے ڈاکٹر فریدہ سے شادی کر لیتا ہے۔ محمد علی بھی اپنی بہن کو تندرست اور خوش و خرم دیکھ کر بہت خوش ہے۔ ڈاکٹر باتوں باتوں میں کئی بار شبنم کو یہ بتاتا رہتا ہے کہ اس نے اپنی بیوی کو تمام خوشیاں دی ہیں۔ فریدہ بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ وہ ایک خوش و خرم زندگی گزار رہی ہے۔(جاری ہے )

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر463 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /فلمی الف لیلیٰ