شکار۔۔۔۔۔۔ آدم خوروں کے شہرۂ آفاق مسلمان شکاری کی سنسنی خیز داستان...قسط نمبر 44

27 جون 2018 (13:30)

قمر نقوی

بھگت گڑھ کا محل وقوع کچھ ایسا تھا کہ بیرونی دنیا سے اس کا ارتباط قائم رہنا ہی حیرت انگیز معلوم ہوتا تھا..... مونسونی خطے کے جنگل جھاڑیاں بہت گھنے اور دشوار گزار ہوتے ہی ہیں ..... لیکن اس علاقہ میں دندھیا چل اور ست پڑا دونوں جیسے گڈ مڈہو کر ناقابل عبور ہوگئے تھے ..... پہاڑوں کے درمیان ایک گہرے پیالے میں بھگت گڑھ تھا ..... چارون طرف جنگلوں سے ڈھکی پہاڑی ڈھلانیں ..... سبزہ زار ..... اور بلند پہاڑ ..... جن کی غول پیکر مصفا سرخ رنگ چٹانیں کہیں کہیں درختوں کے درمیان سے جھانکتی رہتی ہے ..... پانی کا واحد ذریعہ وہی ندی ہے جو گاؤں کے دامن کو چومتی رہتی ہے ..... 

شکار۔۔۔۔۔۔ آدم خوروں کے شہرۂ آفاق مسلمان شکاری کی سنسنی خیز داستان...قسط نمبر 43 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
ندی کاپاٹ کسی جگہ بھی پچاس ساٹھ گز سے کم نہیں ..... لیکن سارا خشک اور چھوٹے بڑے پتھروں کا بستر بنا نظر آتا ہے ..... پانی کی سطح کبھی ایک فٹ سے زیادہ ہوئی ہی نہیں .....گاؤں والوں کی زمینیں آبادی کے شمال اور مشرق کی طرف پھیلی ہوئی تھیں ..... بڑی بڑی زمینیں تھیں اور وہ سب ہی سونا اگلتی تھی.....
علاقے میں پٹواری اور قانونگو ..... سال میں دوبار ادھر آتے اور لگان وصول کر کے چلے جاتے لیکن یہ ان کی شرافت کا مکمل ثبوت کہ وہاں سے جاتے وقت چند بوری گندم ’’جو‘‘یا باجرہ ساتھ لے جانے میں کوئی تکلیف نہیں کرتے تھے ..... گاؤں والے ان سے ان ہدایات کی قیمت بھی نہیں لیتے تھے ..... ساتھ کچھ سبزیاں ..... ایک آدھ ڈومچی گھی ..... چند مرغ ..... یہ تو گویا ان کا حق تھا ..... اس لیے کہ ان نذرانوں کا بیشتر حصہ تو نائب تحصیلدار کو بھی پہنچنا ہوتا تھا ..... آخروہ غریب بھی تو زندگی گزارنے پر مجبور تھے ..... 
انگریزی دور میں تو تحصیلدار سے اوپر ڈپٹی کلکٹر ہوا کرتا تھا ..... جو اکثر انگریز ہوتا ..... ان صاحب بہادر کو سب کچھ سرکاری طور پر مفت میسر آتا تھا ..... اور کبھی کبھی شیر کے شکار پر آتے تو گاؤں والے ان کا جلوہ دیکھکر حیران ہوا کرتے تھے ..... ممکن ہے ’’فضل ربی ‘‘ کا کچھ حصہ ان کو بھی پہنچتا ہو ..... البتہ جنس کی شکل میں کم ..... نقد کی صورت میں زیادہ ..... 
یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ انگریز افسران فرشتے تھے ..... ان سے زیادہ مکار ..... مفلس الفطرت اور ڈاکوقوم اس روئے زمین پر نہیں..... موقعہ ملنے کی بات تھی ..... جس کا داؤں لگ گیا اس نے اپنی جیب بھرنے میں تکلیف نہیں کی ..... 
انگریزوں کے جانے کے بعد ہندوستانی اور پاکستانی افسران اس راہ پر چل نکلے ..... طور طریقے وہی انگریزی رہے ..... نذرانوں کا رواج مزید ترقی کر گیا ..... !
گاؤں کی عورتین اور مرد سب ہی رفع حاجت کیلئے جنگل میں ہی جاتے ہیں ..... اور کسی معمولی آڑ میں بیٹھ کر فراغب کر لیتے ہیں ..... عورتیں بالعموم تنہا نہیں جاتیں ..... دور چار مل کر جاتی ہیں اور ایک دوسری سے ذرا ذرا فاصلے پر اس طرح بیٹھ جاتی ہیں کہ ان کے لہنگے ان کے گرد پھیل کر پردہ کر لیتے ہیں ..... اس دوران وہ آپس میں گفتگو بھی کرتی جاتی ہیں ..... یہ کام دن ..... صبح اور شام کے کسی بھی مناسب وقت پر انجام دیا جاتا ہے ..... 
ایک روز شام کے وقت ..... جب کہ مرد سب ہی کام کاج ختم کر کے اپنی زمینوں سے واپس آچکے تھے ..... جانوروں کی دیکھ بھال بھی کر چکے تھے ..... تین عورتیں نکل کر کھیتوں کی طرف گئیں ..... آبادی سے دو سو گز دور، تینوں ایک دوسرے سے کسی قدر فاصلے پر بیٹھیں ..... سب کے ساتھ ان کے لوٹے ..... یا لٹیاں بھی تھیں جو پاس رکھ لیں ..... نصیبن ..... ان میں سب سے بڑی ..... ایک جھاڑی کی آڑ میں بیٹھی ..... دوسری دونوں اس سے دن گز کے فاصلے ایک آڑ میں بیٹھیں ..... اور حسب عادت تبادلہ خیال کا سلسلہ چل نکلا ..... اس کام میں ان کو پندرہ بیس منڈ لگے ہوں گے ..... شام گہری ہوتی جا رہی تھی ..... اور ان کی بات چیت بھی ختم ہوگئی تھی ..... 
پہلے کانتی اٹھی ..... اس کے بعد نچھمی ..... نصیبن کا پتہ نہ تھا ..... !
’’ اے نصیبن ..... ‘‘ اس نے آواز دی 
’’شاید واپس گی ..... ‘‘
’’کیسے ..... میں نے تو اس کو جاتے نہیں دیکھا ..... ‘‘
’’اس کے لٹیا ..... ارے لٹیا تو وہی رہی ..... ‘‘
وہ دنوں لپک کر اس جھاڑی کی طرف گئیں جہاں نصیبن بیٹھی تھی ..... اس کی لٹیا الٹی پڑی تھی ..... پانی استعمال نہیں ہوا تھا ..... زمین گیلی تھی ..... پانی وہیں گرگیا تھا ..... تصیبن کے وہاں گندگی پھیلانے کے آثار بھی تھے ..... بس ..... خود نصیبن کا کوئی پتہ نہ تھا.....
’’یہ کیا ہوا ..... ؟‘‘
انھوں نے فوراً ہی شور مچا دیا ..... لوگ دوڑ پڑے ..... اور تلاش شروع ہوئی ..... ادھر شام نے رات کا لباس پہن لیا ..... اور وہ علاقہ ایسا تھا کہ اندھیرا ہوتے ہی ایسا گھپ اندھیرا ہوتا تھا کہ ہاتھ کو ہاتھ نہ سمجھائی دے لالٹینوں کی روشنی میں کسی قدر تلاش کی تو گئی لیکن وہ جگہ تو ہر طرف سے جنگل ہی تھا ..... تلاش کس طرف اور کہاں کی جاتی ..... نتیجہ یہ کہ لوگ رو دھو کر بیٹھ رہے ..... دوسرے دن پھر تلاش شروع ہوئی ..... اور بہت کوشش کے بعد کچھ نشانات مل ہی گئے جن کے وسیلے سے وہ لوگ گھنے جنگل میں گھسے جہاں سے جا بجا نصیبن کے جابجا لہنگے کی دھجیاں بھی ملتی گئیں اور آخرکوئی آدھے میل پر لاش بھی مل گئی جسے کسی جانور نے نو چ کر کھایا تھا ..... 
یہ تو تحقیق ہوا کہ ساری وارداتیں کسی جانور نے کیں ..... لیکن کوئی ایسا نشان نہیں ملا جو اس جانور کی نوعیت کا تعین کرتا ..... پھر بھی ان لوگوں کا خیال شیر کی طرف ہی گیا .....
’’نہار..... ؟‘‘
’’نہارہی ہوگا ..... ‘‘
’’اپن نے نہار تو ادھر کبھی نہیں دیکھا ..... ‘‘
’’آگیا ہوگا ..... جنگل کا جانور ہے ..... ‘‘
’’کیا پتہ ..... ‘‘
لیکن یہ مسئلہ حل نہ ہوسکا .....
چھ ساتھ مہینے گزر گئے ..... گاؤں والے حسب عادت گزشتہ حادثات کو بھول بھال کر اپنے کاموں میں مشغول ہوگئے تھے ..... ان کے کارہائے ضروری کی نوعیت بھی ایسی ہوتی ہے کہ ان کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا جو کام ہونا ہی وہ ہونا ہی ہوتا ہے.....
شیربھگت گڑھ کے اطراف کے جنگلوں میں کبھی نہ دیکھا گیا نہ سنا گیا ..... وہ سب جانتے تھے کہ شیر تو ان جنگلوں میں ہیں ..... لیکن دور ..... ادھر کبھی کوئی نہیں آیا تھا ..... ان لوگوں نے تو ادھر چیتا یا تیندوا بھی نہیں دیکھا تھا ..... صرف ریچھ تھے ..... اور ان علاقوں کے ریچھ گوشت کھا تو ضرور سکتے تھے لیکن خاص طور سے کوئی جانور یا انسان ہلاک کر کے کھانا ان کا کام نہیں تھا ..... اس لیے یہ شک نہیں کیا جا سکتا تھا کہ ریچھ نے وہ وارداتیں کیں ..... ریچھ کا آدم خور ہونا قطعاً نا قابل قبول تھا ..... !
گاؤں کے تین آدمی ایسے بھی تھے جنہوں نے بھیڑیں پال رکھی تھیں ..... ان کا مصرف اتنا تھا کہ ان سے اون حاصل کیا جاتا تھا..... یا کبھی کسی موقعے پر ایک بھیڑ کاٹ کر گوشت آپس میں تقسیم ہوجاتا ..... ایک دن باڑے کے اندر بھیڑ غائب ہو گئی ..... 
جس باڑے میں بھیڑیں اور مویشی رکھے جاتے تھے وہ کوئی مضبوط عمارت تو نہیں تھی ..... زمین کے ایک قطعے کو ارہرکی جھانکڑوں سے گھیر کر تین چار فٹ اونچی ٹٹی بنائی گئی تھی ..... اسی دیوار یا چہار دیواری یا جو کچھ کہا جائے ..... کسی بھی جنگلی جانور کے لیے اتنی سی باڑ پھاند لینا آسان ہے ..... لومڑی بھی اس پر سے جست لگا سکتی ہے ..... البتہ بھیڑ کے لیے باڑ پر سے کود نا ممکن نہیں ..... 
دس دن بعد ایک اور بھیڑ غائب ہوگئی ..... دشواری یہ تھی کہ گاؤں والوں کی نہایت تیزاور نشان آشنا نظریں بھی نہ تو کوئی ماگھ تلاش کر پائی تھیں نہ کوئی اور نشان ..... کئی ہندو دیہاتیوں نے بھوت پریت کا نام بھی لیا ..... 
بھوت کے نام سے مجھے اناؤ کا ایک واقعہ یاد آگیاہے .....میں نیکر کے میدان میں ہرن کے شکار پر تھا ..... ایک بیل گاڑی پر میں اور میرے ساتھ احمد ..... میرے ہاتھ میں سیون ایم ایم..... احمد کے ہاتھ میں شاٹ گن ..... ہم دونوں نے ہی مغرب کے بعد ایک ایک ہرن مارا اور ان کا پیٹ چاک کر کے آلائش نکالنے اور خون اچھی طرح صاف کر کے گاڑی میں رکھتے رکھتے رات ہو گئی ..... نیکر کا میدان ایک نہایت لق و دق میدان ہے ..... نہ کوئی سڑک نہ راستہ ..... ہم گاڑی بیچ میدان میں ہانک رہے تھے ..... اندھیرا جو ہوا اور اب چاروں طرف دیکھا تو ہر طرف کھلا صاف میدان ..... نہ سمت کی خبر ..... نہ کوئی نشان راہ ..... نہ کوئی درخت 
ایک طرف روشنی سی چمکتی نظر آئی ..... 
’’اس روشنی کی طرف چلتے ہیں ..... کوئی آبادی یا گھر ہوگا ..... ‘‘
’’اس میدان میں گھر ..... ؟‘‘
بیلوں کو ذرا ڈھیل دی تو چل پڑے ..... اور دیر تک چلتے رہے ..... لیکن روشنی جتنی دور تھی اتنی ہی رہی ’’یہ تو قریب نہیں ہو رہی ..... ‘‘احمد بولے ۔
’’ہاں ..... ہمیں چلتے پندرہ منٹ ہوگئے ..... ‘‘
’’روشنی تو اتنی ہی دور ہے ..... ‘‘
’’ہاں ..... ‘‘
اور ہم یہ بات کرہی رہے تھے کہ وہ روشنی غائب ہوگئی ..... پھر وہی گھپ اندھیرا ..... نہ کوئی نشان نہ درخت نہ کوئی راستہ ..... ! ہم حیران کہ کس طرف جائیں ..... پھر احمد بولے ’’ادھر ایک روشنی نظر آرہی ہے ..... ‘‘
میں نے گھوم کر دیکھا ..... جہاں ہم تھے وہاں سے تقریباً اڑتالیس ڈگری مشرق کی طرف ویسی ہی ٹم ٹماتی روشنی نظر آرہی تھی ..... میں نے بیلوں کو ادھر موڑ دیا ..... کوئی بیس منٹ چلے تھے کہ یکباریگی وہ روشنی غائب میں نے بیلوں کی راسیں کھینچ لیں..... ’’یہ تو پھر غائب ..... ‘‘
’’تم غلط جا رہے ہو ..... وہ تو ادھر ہے ..... ‘‘
احمد نے کہا ..... ’’کدھر ..... ؟‘‘
’’وہ ..... ‘‘ وہاں سے ٹھیک بائیں جانب ..... کوئی آدھے میل یا کچھ زیادہ ..... 
’’تعجب ہے ..... غالباً بیل ادھر گھوم گئے ..... ‘‘
میں نے پھر بیلوں کو موڑ کر روشنی کی طرف چلا دیا ..... اس طرف قریب سے ہی ہرنوں کا ایک غول بھاگ کر گزر گیا ..... گاڑی اب پھر روشنی کی طرف چل رہی تھی ..... !(جاری ہے )

شکار۔۔۔۔۔۔ آدم خوروں کے شہرۂ آفاق مسلمان شکاری کی سنسنی خیز داستان...قسط نمبر 45 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزیدخبریں