عام انتخابات میں کس کی حکومت بنتی نظر آ رہی ہے ؟ گیلپ کے چیئرمین اعجاز گیلانی نے ایسا تجزیہ پیش کر دیا کہ سن کر نوازشریف کو اپنے کانوں پر یقین نہیں آ ئے گا

عام انتخابات میں کس کی حکومت بنتی نظر آ رہی ہے ؟ گیلپ کے چیئرمین اعجاز گیلانی ...
عام انتخابات میں کس کی حکومت بنتی نظر آ رہی ہے ؟ گیلپ کے چیئرمین اعجاز گیلانی نے ایسا تجزیہ پیش کر دیا کہ سن کر نوازشریف کو اپنے کانوں پر یقین نہیں آ ئے گا

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )اینکر پرسن منیب فاروق نے پروگرام میں سوال کیا کہ آج کی تاریخ میں کس کی حکومت بنتی ہوئی نظر آ رہی ہے اور کون اکثریت لیتا ہوا نظر آ رہاہے ؟ جس پر جواب دیتے ہوئے چیئرمین گیلپ اعجاز گیلانی نے کہاہے کہ اس وقت پارلیمنٹ کے اندر سیٹوں کی تعداد کے لحاظ سے ن لیگ پہلے نمبر پر اور پی ٹی آئی دوسرے نمبر پر جبکہ پیپلز پارٹی تیسرے نمبر پر نظر آ رہی ہے ، لیکن یہ غیر یقینی ہے اس میں تبدیلی آسکتی ہے ، پلڈاٹ کے ڈائریکٹر احمد بلال محبوب نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر اعجاز گیلانی نے ایک سروے بھی کیاہے لیکن ہم نے کوئی سروے نہیں کیا ،تاہم میرا بھی یہی خیال ہے جیسا انہوں نے کہا ایسی ہی صورتحال نظر آ رہی ہے اور بدل بھی سکتی ہے ۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹر IPOR جنید طارق جنید کا کہناتھا کہ ن لیگ زیادہ سیٹیں لے گی لیکن مجھے ہنگ پارلیمنٹ نظر آ رہی ہے ۔

ویڈیو دیکھیں:

پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین گیلپ پاکستان اعجاز گیلانی نے کہا کہ الیکشن مہم کے آخری دنوں میں بہت سے واقعات بہت سی تبدیلیاں دیکھنے میں آ تی ہیں بہت سے رہنما اپنی پارٹی سے ناراض ہوجاتے ہیں اور کچھ ناراض رہنما واپس آجاتے ہیں۔ مئی اور جون رہنماوں کے روٹھنے کا مہینہ رہا جب جولائی میں انتخابی مہم چلے گی تو اس وقت بہت سے روٹھے ہوئے واپس آئیں گے اور شاید بعض نہ آئیں۔ اعجاز گیلانی نے کہا سیاسی جماعتوں میں لوگوں کے ادھر ادھر جانے سے غیر یقینی پن آیا ہے۔

الیکشن میں کونسی کی سیاسی جماعت جیتے گی سروے کیا کہتے ہیں اس سوال پر پر گفتگو کرتے ہوئے ایگزیکٹو ڈائریکٹر IPOR طارق جنید کاکہنا تھا بہت سارے الیکٹ ایبل ایک جماعت سے دوسری جماعت میں گئے ماضی میں جو سروے ہوئے اس میں بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ پی ٹی آئی کے گراف میں بہتری آئی ہے اور مسلم لیگ ن اپنی جگہ پر قائم ہے ، مئی کے بعد تازہ سروے ابھی تک نہیں آیا اب دیکھنا ہوگا کہ اب کیا صورتحال ہے۔ سیاسی جماعتوں میں کافی رد بدل ہوا جس سے تبدیلی آسکتی ہے۔ پی ٹی آئی کا گراف بڑھا ہے کیوں کہ الیکٹ ایبل کا رخ تحریک انصاف کی طرف ہے۔

تحریک انصاف پنجاب سے قومی اسمبلی کی کتنی سیٹیں جیت سکتی ہے؟ اس سوال کے جواب میں طارق جنید کا کہنا تھا سروے اشارہ تو دے رہے ہیں کہ پنجاب میں تحریک انصاف کی مقبولیت بڑھ رہی ہے اور ن لیگ کی مقبولیت اپنی جگہ پہ قائم ہے۔ میراخیال ہے کہ پچھلے الیکشن کی نسبت تحریک انصاف کی پنجاب میں سیٹیں بڑھیں گی اور ابھی تحریک انصاف اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ وہ مسلم لیگ ن کو پنجاب میں مکمل شکست دے سکے۔ اعجاز گیلانی نے اس حوالے سے کہا پچھلے انتخابات میں ن لیگ او تحریک انصاف کے درمیان جنوبی پنجاب اور شمالی پنجاب میں کانٹے کا مقابلہ تھا باقی سیٹوں میں فرق بہت زیادہ تھا۔

احمد بلال محبوب نے گفتگو کرتے ہوئے کہا جب تک نواز شریف صاحب ملک میں تھے تب تک وہ جاندار مہم چلاتے رہے ہیں جن چیزوں پرنواز شریف زور دیتے رہے ، شہباز شریف کا زور ان چیزوں پرنہیں ہوتا بیانیے کا ٹیمپو نواز شریف صاحب سیٹ کرکے چلے گئے ہیں۔ ا?خری دنوں میں شہباز شریف کا ایکشن میں ا?نا پارٹی کے لیے فائدہ مند ہوگا شہباز شریف کا فوکس ترقی ہوگا۔ سوال کیا گیا کہ نواز شریف کی غیر موجودگی سے ن لیگ کے ووٹرز پر اثر پڑے گا یا نہیں جواب میں احمد بلال محبوب کا کہنا تھا میری ذاتی رائے یہ ہے کہ نواز شریف صاحب اپنا کام کرچکے ہیں اور ان کا بیانیہ ان کے حامیوں کی حد تک قابل قبول ہے وہ بک چکا ہے ان کی ایک مہینے کی غیر حاضری سے کوئی بڑا اثر نہیں پڑے گا۔

مزید : قومی