مردوں اور خواتین کے دماغوں میں دراصل کیا فرق ہوتا ہے؟ بالآخر سائنسدانوں نے ایسا انکشاف کردیا جو کسی نے سوچا بھی نہ تھا

مردوں اور خواتین کے دماغوں میں دراصل کیا فرق ہوتا ہے؟ بالآخر سائنسدانوں نے ...
مردوں اور خواتین کے دماغوں میں دراصل کیا فرق ہوتا ہے؟ بالآخر سائنسدانوں نے ایسا انکشاف کردیا جو کسی نے سوچا بھی نہ تھا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) مردوخواتین جسمانی اعتبار سے قطعی طور پر دو مختلف اصناف ہیں لیکن عام تاثر ہے کہ یہ ذہنی طور پر بھی ایک دوسرے سے مختلف ہیں،تاہم اب علم الاعصاب اور دماغی سائنس کی ایک ماہر نے اس حوالے سے ایسی بات کہہ دی ہے کہ سن کر آپ دنگ رہ جائیں گے۔ میل آن لائن کے مطابق شکاگو میڈیکل سکول کی سائنسدان ڈاکٹر لیس ایلیٹ کا کہنا ہے کہ ”مرد کا دماغ خاتون کے دماغ سے 10فیصد بڑا ہوتا ہے تاہم ان دونوں کی ساخت اور کام کرنے کے طریقے میں قطعی کوئی فرق نہیں ہے۔ یہ دونوں بالکل ایک ہی طریقے سے کام کرتے ہیں۔ ان دونوں اصناف میں ذہنی سطح کا جو فرق نظر آتا ہے یہ فطری نہیں بلکہ اس مختلف پرورش کانتیجہ ہے۔ چونکہ دنیا میں لڑکوں اور لڑکیوں کی پرورش مختلف طریقے سے کی جاتی ہے چنانچہ ان میں یہ فرق نمایاں ہو جاتا ہے۔اگر ان کی پرورش یکساں کی جائے تو ان کی سوچ اور روئیے میں بھی کوئی فرق نہیں ہو گا۔“

ڈاکٹر لیس ایلیٹ کا کہنا ہے کہ ”لوگ کہتے ہیں مرد مریخ سے آئے ہیں اور خواتین زہرہ سے، لیکن دماغ ایک ایسا عضو ہے جس سے ان کی جنس کا تعین نہیں ہوتا۔ ان دونوں کے دماغ کا سٹرکچر بالکل ایک جیسا ہے۔“ رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر لیس ایلیٹ کا یہ دعویٰ ماضی میں کی جانے والی کئی تحقیقات سے متصادم ہے۔ سائنسدان ان تحقیقات میں بتا چکے ہیں کہ مردوں اور خواتین کے دماغ کے سٹرکچر میں نمایاں فرق موجود ہے۔ مگر ڈاکٹر لیس نے اپنی کتاب ’پنک برین، بلیو برین‘ (Pink Brain, Blue Brain)میں لکھا ہے کہ ”تاحال مردوخواتین کے دماغ میں کوئی ایک سرکٹ بھی ایسا دریافت نہیں کیا جا سکا جو ایک دوسرے سے مختلف ہو، اور جو اسے تلاش کرنے کی کوشش کرے گا اسے مایوسی ہی ہو گی۔ مردوخواتین کی جنس کا مختلف ہونے کی وضاحت ان کے ڈی این اے سے نہیں بلکہ ان کے ماحول سے ہوتی ہے جس میں وہ پرورش پاتے ہیں۔مختلف پرورش کی بناءپر ہی مردوخواتین اظہار کے مختلف پیرائے اپناتے ہیں۔مردوں کا دماغ خواتین سے بڑا ہونے کی وجہ ایک یہ بھی ہے کہ مردوں کے تمام جسمانی اعضاءہی خواتین کی نسبت بڑے ہوتے ہیں۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس