مصر کے قبرستان میں سائنسدانوں کو 3ہزار سال پرانے ڈھانچے مل گئے، ان کا تجزیہ کیا تو ایسا انکشاف کہ ہر کوئی دنگ رہ گیا، اتنا عرصہ پہلے بھی انسان کے۔۔۔

مصر کے قبرستان میں سائنسدانوں کو 3ہزار سال پرانے ڈھانچے مل گئے، ان کا تجزیہ ...
مصر کے قبرستان میں سائنسدانوں کو 3ہزار سال پرانے ڈھانچے مل گئے، ان کا تجزیہ کیا تو ایسا انکشاف کہ ہر کوئی دنگ رہ گیا، اتنا عرصہ پہلے بھی انسان کے۔۔۔

  

قاہرہ(مانیٹرنگ ڈیسک)مصر سے دریافت ہونے والی ممیوں نے ہی دنیا کو ورطہ¿ حیرت میں ڈال رکھا ہے اور اب وہاں کے ایک قبرستان سے سائنسدانوں کو 3ہزار سال قدیم 6انسانی ڈھانچے ملے ہیں جن سے ایسا انکشاف سامنے آیا ہے کہ سائنسدان بھی دنگ رہ گئے۔ میل آن لائن کے مطابق وسطی مصر سے دریافت ہونے والے ان ڈھانچوں کے تجزئیے سے معلوم ہوا ہے کہ یہ لوگ کینسر کے مرض سے مرے تھے۔ ان میں ایک شخص کی موت 50سال کی عمر میں ہوئی جو بڑی آنت کے کینسر میں مبتلا تھا۔ ان میں ایک چند سال عمر کا بچہ بھی شامل ہے جس کے متعلق تجزئیے میں پتا چلا ہے کہ اسے خون کے کینسر کی قسم لیوکیمیا (Leukaemia)لاحق تھی۔

ان ڈھانچوں کے تجزئیے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس وقت لوگوں کو کینسر لاحق ہونے کی شرح آج کی نسبت بہت زیادہ کم تھی۔ اس وقت ہر 1000میں سے 5افراد کو کینسر ہوتا تھا جو آج کے مغربی معاشروں میں کینسر کی شرح کی نسبت 100گنا کم ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان 3ہزار سالوں میں کینسر کے مرض کے پھیلاﺅ میں کس قدر اضافہ ہوا ہے۔تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ اور کینیڈا کی یونیورسٹی آف ویسٹرن انٹاریو کے پروفیسر ایل مولٹو کا کہنا تھا کہ ”ان تمام لوگوں کو لاحق کینسر ایچ پی وی وائر س سے منسلک پایا گیا ہے، جو جلد کے ذریعے انسان میں داخل ہوتا ہے۔ ابتدائی طور پر یہ وائرس افریقہ میں پیدا ہوا اور پھر وہاں سے باقی دنیا میں پھیل گیا۔ آج کے دورمیں کینسر کی شرح زیادہ ہونے کی ایک ممکنہ وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ میڈیکل سائنس کی ترقی کی وجہ سے آج لوگوں کی عمریں زیادہ ہو گئی ہیں، قدم مصر کے ان لوگوں کے زمانے میں چند لوگ ہی 60سال سے زائد پاتے تھے اور چونکہ کینسر کے زیادہ کیس زائدالعمر افراد میں سامنے آتے ہیں، شاید اس کے اس زمانے کے لوگوں میں کینسر کی شرح کم تھی۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس /عرب دنیا