145 کلو کا نوجوان جس کے موٹاپے نے اس کی بیوی کی زندگی خطرے میں ڈال دی، مگر کیسے؟ جان کر ہی ہر لڑکی ڈر جائے

145 کلو کا نوجوان جس کے موٹاپے نے اس کی بیوی کی زندگی خطرے میں ڈال دی، مگر کیسے؟ ...
145 کلو کا نوجوان جس کے موٹاپے نے اس کی بیوی کی زندگی خطرے میں ڈال دی، مگر کیسے؟ جان کر ہی ہر لڑکی ڈر جائے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) جو شخص موٹاپے کا شکار ہو اس کے صحت تو داﺅ پر لگتی ہی ہے لیکن برطانیہ ایک نوجوان کے موٹاپے نے اس کی بیوی کی زندگی خطرے میں ڈال دی، جس کی تفصیل جان کر موٹے شوہروں کی بیویاں خوفزدہ ہو جائیں گی۔ میل آن لائن کے مطابق برطانوی علاقے بکنگھم شائر کے رہائشی 26سالہ جیمز ویلز کا وزن 145کلوگرام سے زائد ہو چکا تھا اور موٹاپے کی وجہ سے اسے ’سلیپ ایپنویا‘ (Sleep Apnoea)نامی بیماری لاحق ہو چکی تھی، جس میں آدمی سوتے میں اس قدر خوفزدہ ہوتا ہے کہ پاس سو رہے شخص کو بھی بسااوقات نقصان پہنچا دیتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایک رات جیمز سوتے میں خوفزدہ ہوا اورقریب سوئی اپنی بیوی 37سالہ کم ویلز کو تھپڑ جڑ دیئے اور اسے گھسیٹ کر بیڈ سے نیچے پھینک دیا، جس سے اسے کافی چوٹیں آ گئی۔کم ویلز کا کہنا ہے کہ ”جیمز کی اس بیماری کی وجہ سے میں بہت خوفزدہ ہو گئی تھی۔ اس کے پاس سوتے ہوئے مجھے ڈر لگتا تھا۔ جب کئی بار یہ واقعہ پیش آیا تو میں اسے ڈاکٹر کے پاس لے گئی۔ جیمز خود بھی اس پر سخت پریشان تھا، چنانچہ اس نے وزن کم کرنے کی سنجیدہ کوشش شروع کر دی۔ اب 9ماہ کے علاج اور جیمز کی کوششوں کی وجہ سے اس کے وزن میں 58کلوگرام کمی ہو گئی ہے اور اس کی سوتے میں خوفزدہ ہونے کی بیماری بھی ختم ہو گئی ہے۔“ جیمز کااپنے موٹاپے کے متعلق کہنا تھا کہ ”میں فاسٹ فوڈز کا شوقین تھا اور ریڈبُل میرا پسندیدہ مشروب تھا۔ نوعمری سے ہی ان کھانوں کے کثرت استعمال کی وجہ سے میرا وزن بہت بڑھ گیا، جس میں کمی کے لیے مجھے سب سے پہلے ان غیرصحت مندانہ اشیائے خورونوش سے خود کو روکنا پڑا۔جیسے ہی میرا وزن کم ہوا میرے رات کو ڈرنے کی بیماری بھی خود ہی ختم ہو گئی۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس /برطانیہ