”ورلڈکپ میں کرسٹیانو رونالڈو کی پینالٹی روکنے والا ایرانی گول کیپر فٹ پاتھ پر سوتا تھا اور۔۔۔“ ایرانی گول کیپر کو اس وقت ملک میں کیا کہا جا رہا ہے؟ جان کر آپ کو بھی اس کی قسمت پر رشک آئے گا

”ورلڈکپ میں کرسٹیانو رونالڈو کی پینالٹی روکنے والا ایرانی گول کیپر فٹ پاتھ ...
”ورلڈکپ میں کرسٹیانو رونالڈو کی پینالٹی روکنے والا ایرانی گول کیپر فٹ پاتھ پر سوتا تھا اور۔۔۔“ ایرانی گول کیپر کو اس وقت ملک میں کیا کہا جا رہا ہے؟ جان کر آپ کو بھی اس کی قسمت پر رشک آئے گا

  

ماسکو (ڈیلی پاکستان آن لائن) فٹ بال ورلڈکپ میں دنیا کے سب سے بہترین فٹ باﺅلر کرسٹیانو رونالڈو کی پینلٹی کک روکنے والے ایرانی گول کیپر خانہ بدوش ہیں اور بے گھری کا کر بھی سہنے پر مجبور ہوئے لیکن صرف ایک گول روکنے سے وہ ایران کے ہیرو بن گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں۔۔۔میا خلیفہ نے اپنی کئی سال پرانی تصویر شیئر کی تو مداحوں کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں، وہ آج سے کچھ سال پہلے کتنی موٹی تھیں؟ دیکھ کر آپ بھی ”توبہ، توبہ“ کریں گے 

ایرانی فٹ بال ٹیم کے گول کیپر علی رضا بہرانوند نے روس کے شہر ماسکو میں جاری فٹ بال ورلڈ کپ 2018 کے گروپ بی کے آخری میچ میں دنیا کے بہترین فٹ بالر کی پینالٹی روک کر سب کو حیران کر دیا۔مور ڈویا سٹیڈیم میں پرتگال اور ایران کے درمیان ہونے والے میچ میں ایرانی دفاعی کھلاڑی کی طرف سے ڈی کے اندر غلطی پر پرتگال کو پینالٹی کک ملی تو دنیائے فٹ بال کے بہترین کھلاڑی کرسٹیانو رونالڈو سامنے آئے لیکن علی رضا نے کک روک کر تاریخ رقم کر دی۔

دنیا کے بہترین فٹ بالر کی پینالٹی روکنے پر تہران میں فٹ پاتھوں پر سونے والے بے گھر علی رضا ایران کے ہیرو بن گئے، ان کا یہ کارنامہ دنیائے فٹ بال میں ان کو نمایاں کرنے کا بھی سبب بن گیا۔علی رضا بہرانوند کا تعلق ایران کے ایک خانہ بدوش گھرانے سے ہے جنہیں فٹ بال کا بے حد شوق تھا مگر ان کے والد ان کے اس جنون کے شدید مخالف تھے اور اس وجہ سے ہی صرف 12 سال کی عمر میں انہیں گھر چھوڑنا پڑا۔

چار سال قبل تہران کے آزادی ٹاور کے قریب ایک فٹ بال کلب کے باہر سونے کی وجہ سے راہ گیروں نے 19 سالہ علی رضا کے سامنے سکے بھی ڈالے اور بھوک کی شدت کے باعث انہوں نے یہ قبول بھی کر لئے۔

ایرانی گول کیپر علی رضا بہرانوند فٹ بال کھیل میں اپنی قسمت آزمانے کیلئے تہران منتقل ہوئے اور اخراجات کیلئے پیزا کی دکان پر کام اور سڑکوں پر گاڑیاں بھی دھونی پڑیں، آخر کار انہیں نفتِ تہران فٹ بال کلب نے گول کیپر رکھ لیا جس کے بعد انھوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /کھیل