آدمی نے اپنی بیوی کے ٹوٹے کر کے لاش ویرانے میں پھینک دی، لیکن موقع پر اپنی ایسی نشانی چھوڑ آیا کہ پولیس فوراً ہی گرفتار کرنے پہنچ گئی

آدمی نے اپنی بیوی کے ٹوٹے کر کے لاش ویرانے میں پھینک دی، لیکن موقع پر اپنی ...
آدمی نے اپنی بیوی کے ٹوٹے کر کے لاش ویرانے میں پھینک دی، لیکن موقع پر اپنی ایسی نشانی چھوڑ آیا کہ پولیس فوراً ہی گرفتار کرنے پہنچ گئی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

نئی دلی(نیوز ڈیسک) بھارتی دارلحکومت میں گزشتہ دنوں قتل کا ایک ایسا واقعہ پیش آیا کہ اس بھیانک جرم کا ارتکاب کرنے والے شاطر مجرم کا سراغ لگانا بظاہر ناممکن نظر آرہا تھا مگر پھر جائے واردات پر پولیس کو ایک ایسا سراغ مل گیا کہ محض چند گھنٹوں میں ہی سفاک مجرم پولیس کی گرفت میں تھا۔

ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق شہر کے ایک ویران مقام سے ایک نوجوان خاتون کی لاش کے ٹکڑے ملے تھے۔ کسی بے رحم قاتل نے اس کے جسم کے سات ٹکڑے کر کے گتے کے ایک ڈبے میں بند کئے تھے جسے ایک بوری میں ڈال کر ویرانے میں پھینک دیاگیا تھا۔

مقتولہ کی شناخت ناممکن دکھائی دیتی تھی لیکن جب ایک اہلکار کی نظر اس ڈبے پر پڑی جس میں لاش کے ٹکڑے بند تھے تو اسے امید کی ایک کرن نظر آئی۔ اس ڈبے پر ایک سٹیکر لگا تھا جس پر ایک کوڈ بھی لکھا ہوا تھا۔ کچھ تحقیق کے بعد پتا چل گیا کہ یہ سٹیکر سامان کی منتقلی کرنے والی ایک کمپنی کا تھا۔ جب اس کمپنی سے رابطہ کر کے سٹیکرپر لکھا کوڈ بتایا گیا تو پتا چلا کہ اس ڈبے میں کچھ عرصہ قبل جاوید اختر نامی شخص کا سامان شارجہ سے بھارت منتقل کیا گیا تھا۔ جب جاوید اختر نامی شخص سے رابطہ کیا گیا تو اس نے بتایا کہ کچھ سامان اس کے نئی دلی میں واقع گھر میں منتقل کیا گیا تھا، جہاں اب ساجد علی نامی شخص کرائے پر رہ رہا تھا۔ جب پولیس شاہین باغ کے علاقے میں واقع گھر پر پہنچی تو پتا چلا کہ ساجد علی گھر چھوڑ کر کہیں جا چکا تھا۔ پولیس نے آس پاس سے پوچھ گچھ کی تو پتا چلا کہ اس کا بھائی قریب ہی رہائش پزیر ہے جسے فوری حراست میں لے لیا گیا۔ اس شخص سے تفتیش کی گئی اور اس کی دی گئی معلومات کی بناء پر ساجد علی کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔

پولیس نے جب ساجد علی سے تفتیش کی تو انتہائی لرزہ خیز انکشافات سامنے آئے۔ اس نے بتایا کہ اس کی بیوی جوہی کے ساتھ اکثر اس کا جھگڑا رہتا تھا۔گزشتہ بدھ کے روز ایک بار پھر لڑائی ہوئی اور اس نے طیش میں آ کر بیوی کا گلا دبا کر اسے قتل کر دیا۔ اس کے بعد اپنے بھائی اشتیاق کو بلایا اور دونوں نے مل کر مقتولہ کے جسم کے ٹکڑے کئے اور ان ٹکڑوں کو پلاسٹک کے بیگ میں ڈال کر گتے کے ڈبے میں بند کیا اور اس ڈبے کو ایک بوری میں ڈال دیا۔ پھر ان درندوں نے اپنے بھائی حشمت علی کو بلایا اور تینوں گاڑی میں بیٹھ کر ایک ویران مقام پر گئے اور لاش کے ٹکڑوں والا ڈبہ وہاں پھینک آئے۔ 

تینوں درندہ صفت بھائی اب پولیس کی حراست میں ہیں اور ان کے خلاف قانونی کاروائی جاری ہے۔ مرکزی ملزم ساجد علی انجینئر ہے جبکہ اس کی مقتولہ بیوی بھی سائیکالوجی کے مضمون میں گریجویشن کی ڈگری رکھتی تھی۔ 

مزید : ڈیلی بائیٹس