آل پارٹیز کانفرنس صرف مفادات کا اجتماع تھا

آل پارٹیز کانفرنس صرف مفادات کا اجتماع تھا

تجزیہ: ایثار رانا

ہم تو سمجھ رہے تھے اے پی سی سے کوئی بڑا اعلان نکلے گا لیکن بات یوم سیاہ سے آگے بڑھتی نظر نہیں آتی،افسوس کی بات یہ ہے اے پی سی میں شریک جماعتیں اپنی کھال بچانے کی جدوجہد کررہی ہیں اور حکومت عوام کی کھال اتارنے میں لگی ہے۔اس حوالے سے گزشتہ دن تاریخی تھاکہ پا کستان کی نام نہاد اشرافیہ جب ملک میں جمہوریت کی بقا ء کی جنگ لڑ رہی تھی عین اسی وقت بیس کروڑ عوام پر مہنگائی کے پہاڑ گرائے جار ہے تھے۔اے پی سی کا اعلامیہ تو ہوناہی ایک پوائنٹ ایجنڈا۔اور وہ مہنگائی چاہیے تھا، لیکن اے پی سی کے شرکا کے لباس بیس کروڑ عوام سے ملتے تھے نہ انکے چہروں کی خوشحالی۔بھوکے ننگے عوام کے نمائندے کروڑوں کی گاڑیوں سے اترتے نظر آئے۔مجھے کہنے دیں یہ صرف مفادات کا اجتماع تھا۔نیب کے مقدمات آج ختم کردیں۔تو سب ٹھیک ہوجائیگا۔افسوس یہ ہے ملک کے اداروں اور انتخابی عمل کو کوئی اور نہیں خود سیاستدان مشکوک کرتا ہے،اگر دھاندلی ہوئی تو سندھ اور پنجاب کے رزلٹس کو کیا کہیں گے۔آئین میں لکھ دیں کہ ہر انتخابات میں مولانا فضل الرحمن کا جیتنا ضروری ہے ورنہ وہ الیکشن۔مشکوک قرار دئیے جائینگے۔میری بات لکھ لیں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن)کی بقاء ان اسمبلیوں میں ہے۔یہ ایسی چھتری ہے جس کے نیچے انکی پناہ ہے۔یہ اس پاکستانی جمہوریت کا حسن ہے جہاں سنگین الزا ما ت کے ملزم پروڈکشن آڈرز کے نام۔پہ دندناتے پھر تے ہیں۔ایسا نظام اور کہاں ملے گا بھلا زرداری، شہباز شریف،عمران خان اور کیا چاہیں گے۔

تجزیہ ایثار رانا

مزید : تجزیہ