لوگوں کے اکاؤنٹ سے پیسے نکال کربانڈخریدے جاتے ہیں،سپریم کورٹ،بینک کے آپریشنز منیجر کی سزا کیخلاف درخواست پر سزاختم ،90 لاکھ جرمانہ برقرار رکھنے کا حکم

لوگوں کے اکاؤنٹ سے پیسے نکال کربانڈخریدے جاتے ہیں،سپریم کورٹ،بینک کے ...
لوگوں کے اکاؤنٹ سے پیسے نکال کربانڈخریدے جاتے ہیں،سپریم کورٹ،بینک کے آپریشنز منیجر کی سزا کیخلاف درخواست پر سزاختم ،90 لاکھ جرمانہ برقرار رکھنے کا حکم

  


اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ آف پاکستان نے بینک کے آپریشنز منیجر کی سزا کیخلاف درخواست پر ملزم کی بقایا سزا ختم کردی اور 90 لاکھ جرمانہ برقراررکھنے کا حکم دیدیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ لوگوں کے اکاؤنٹ سے پیسے نکال کربانڈخریدے جاتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں بینک کے آپریشنزمنیجرکی سزاکےخلاف درخواست پرسماعت ہوئی،چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں بنچ نے سماعت کی ،عدالت نے کہا کہ ملزم 8، 9 سال قیدکاٹ چکا ہے،ٹرائل کورٹ نے ملزم کو 14 سال قید، 90 لاکھ جرمانے کی سزاسنائی ،لاہورہائیکورٹ نے 2016 میں ٹرائل کورٹ کافیصلہ برقراررکھا ،چیف جسٹس پاکستا ن نے کہا کہ ملزم نے اکاؤنٹ ہولڈر کوبتائے بغیر 90 لاکھ نکال لیے،وکیل ملزم کاکہناتھا کہ ملزم نے برانچ منیجر کے کہنے پررقم نکالی،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اس نے کہااورآپ نے کردیا،اگروہ کہتاقتل کردو تو آپ کردیتے؟چیف جسٹس نے کہا کہ آپریشن منیجرکے پاس عوام کے پیسے ہوتے ہیں،یہ ذمہ دارعہدہ ہے اس کوپتہ ہوتاہے کس کے پیسے ہیں،اکاؤنٹ ہولڈرکوپتہ ہی نہیں ہوتااس کے پیسے سے کیاہورہاہے،چیف جسٹس نے کہا کہ لوگوں کے اکاؤنٹ سے پیسے نکال کربانڈ خریدے جاتے ہیں۔عدالت نے ملزم کی بقایاسزاختم کردی اور 90 لاکھ جرمانہ برقرار رکھنے کا حکم دیدیا۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد