1970 میں پشاوربہت خوبصورت شہر،ہرطرف ہریالی،درخت اورنہریں تھیں،جسٹس عمرعطابندیال

1970 میں پشاوربہت خوبصورت شہر،ہرطرف ہریالی،درخت اورنہریں تھیں،جسٹس ...
1970 میں پشاوربہت خوبصورت شہر،ہرطرف ہریالی،درخت اورنہریں تھیں،جسٹس عمرعطابندیال

  


اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ نے ماحولیاتی آلودگی سے متعلق کیس میں قومی ماحولیاتی کمیشن کی رپورٹ پر اطمینان کا اظہار کیا ہے ،جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 1970 میں پشاوربہت خوبصورت شہرتھا،پشاورمیں ہرطرف ہریالی،درخت اورنہریں تھیں، اب پشاوربہت آلودہ ہوگیا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں ماحولیاتی آلودگی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،جسٹس عمرعطابندیال کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے سماعت کی،قومی ماحولیاتی کمیشن نے رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کردی،وفاق اورچاروں صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرلزعدالت پیش ہوئے،سپریم کورٹ نے قومی ماحولیاتی کمیشن کی رپورٹ پراطمینان کااظہارکیا،جسٹس عمر عطابندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ماحولیاتی کمیشن نے اچھاکام کیا،1970 میں پشاوربہت خوبصورت شہرتھا،پشاورمیں ہرطرف ہریالی،درخت اورنہریں تھیں،اب پشاوربہت آلودہ ہوگیا۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ پرانے وقتوں میں چٹائی کے بیگ استعمال ہوتے تھے،50 سال پہلے موسم اورآب وہوابہت اچھی تھی، عید الاضحی پرگوشت محفوظ کرنے کے طریقے بھی مختلف تھے،خواتین گوشت دھوپ میں خشک کرکے محفوظ کرتی تھیں،انفیکشنزاورزخموں کیلئے ہلدی کااستعمال ہوتاتھا۔عدالت نے کہا کہ کمیشن پرانے طریقوں کی بحالی پربھی تجاویزتیارکرے،ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ ماحولیاتی کمیشن کاآئندہ اجلاس 25 جولائی کوہوگا،عدالت نے سماعت اگست تک ملتوی کردی۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد