کنجو س کی بلی

کنجو س کی بلی

  

بلی کے دونوں بچے بھوکے تھے اور میاؤں، میاؤں کرکے ماں کو بہت پریشان کر رہے تھے۔ بلی خود بھی بہت بھوکی تھی۔ وہ جس گھر میں رہتی تھی، اس گھر کی مالکن اور مالک بہت کفایت شعار تھے۔ حد سے زیادہ کفایت شعار یعنی کنجوس، مکھی چوس تھے۔وہ بلی کو کھانے کو کچھ بھی نہیں دیتے تھے۔ بلی بے چاری پڑوس کے گھروں میں جاکر چوری کرکے لاتی یاکوڑے دان سے بچا کھچا پھینکاہواکھانا لاکر پیٹ بھرتی اور بچوں کو کھلاتی تھی۔

بلی کے بچے ابھی بہت چھوٹے تھے۔ وہ بچوں کے بڑے ہونے کاانتظار کررہی تھی، تاکہ وہ ان کولے کر کہیں دوسری جگہ چلی جائے، جہاں اس کو کھانے کے لیے مل جایاکرے۔بلی جس گھر میں رہتی تھی اس گھروالوں کے بارے میں مشہورتھا کہ وہ مثالی کنجوس ہیں۔ان کے گھر کوئی مہمان بھی نہیں آتا تھا۔ شیخ سعدی نے کسی حکایت میں لکھا ہے کہ بعض لوگ ایسے کنجوس ہوتے ہیں کہ وہ بھوکے کوکھانا کھلانا تو درکنارپانی بھی نہیں پلاتے۔

اگر ان کے گھر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی بھوکی بلی آجائے تو وہ اس کو دوبونددودھ بھی نہ دیں اور اگر اصحاب کہف کابھوکا کتا بھی ان کے دروازے پر بھوکا آجائے تو وہ اس کو روٹی کا ایک نوالہ بھی نہ ڈالیں۔ اسی لیے قارون دولت مند ہونے کے باوجود اپنی کنجوسی کے لیے قیامت تک بدنامی کے ساتھ یادکیاجائے گا، جب کہ حاتم طائی اپنی سخاوت کے لیے یاد کیاجائے گا۔

علامہ اقبالؒ کا یہ شعر اس قسم کے لوگوں پرصادق آتا ہے کہ

پروازہے دونوں کی اسی ایک فضا میں

کرگس کاجہاں اور ہے، شاہین کاجہاں اور

بھوکی بلی نے بھوکے بچوں کو تسلی دی اور کہا کہ ذرا صبر کروصبح ہوگئی ہے۔ اللہ میاں سب کو رزق دیتا ہے، ہم کو بھی ضرور دے گا۔

ایک بچے نے کہا: اماں، اماں! میں گوشت کھاؤں گا۔

دوسرے نے بھی کہا: ہاں میں بھی آج گوشت کھاؤں گا۔

بلی نے کہا: میں جاتی ہوں دیکھتی ہوں کہ گھر میں کیاپک رہاہے۔ بلی مکان کی چھت پر بنی کوٹھری سے نکلی اور بچوں کو ہدایت کی کہ وہ باہر نہ نکلیں اور نہ شور مچائیں۔اگر مالکن کو پتاچل گیا تو وہ تم کو پکڑ کردور پھنکوا دیں گے۔ بچے سہم گئے اور چپ چاپ کونے میں دْبک گئے۔

صبح کے نوبجے تھے، سردی کازمانہ تھا۔ سورج نکل آیاتھا، لیکن مالکن لحاف اوڑھے بستر میں پڑی تھی۔ اس کا شوہر گوشت اور ترکاری لے کر واپس آگیا تھا۔

اس کاخیال تھا کہ اس کی بیوی نے اٹھ کر اب تک ناشتہ تیارکرلیا ہوگا۔ بیوی کو بستر میں پڑا دیکھ کر وہ آگ بگولہ ہوگیا۔ اس نے غصے سے کہا: تم اب تک بستر پر پڑی ہو، مجھے بھوک لگ لگی ہے، ناشتہ کون بنائے گا۔

میرے سر میں بہت درد ہورہا ہے، میں روز ناشتہ بناتی ہوں، آج تم خود بنالو۔بیوی نے لحاف میں سے جواب دیا۔

اور میں یہ گوشت اور لوکی لایاہوں، یہ بھی پکالوں گا۔

میرا سر درد سے پھٹا جارہا ہے، میں اٹھ نہیں سکتی اور تم کو گوشت لوکی کی فکر ہے۔ پھینک دو گوشت کو۔ ہوٹل سے کھانالے کر کھالینا۔ میری فکر مت کرنا۔بیوی نے چِلا کر کہا۔

شوہر کاپیٹ خالی تھا، وہ بھوکا تھا۔ بھوک میں انسان کادماغ گرم ہوجاتا ہے۔ شوہر نے تھیلے سے گوشت کی تھیلی نکال کرغصے میں آنگن میں پھینک دی اور گھر سے باہر نکل گیا۔

بلی یہ سب دیکھ اور سن رہی تھی، وہ گوشت کی تھیلی منہ میں دباکر بھاگ نکلی۔ ماں اور بچوں نے بہت دن بعد گوشت کھایا اور اللہ میاں کاشکر ادا کیااور دعا کی کہ مالکن اور مالک یونہی لڑتے رہیں۔

مزید :

ایڈیشن 1 -