بچے گھروں رہ کر کیا کریں؟

بچے گھروں رہ کر کیا کریں؟

  

پیارے بچو!کرونا وائرس اس وقت پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ اب دنیا کا کوئی بھی ملک نہیں جو اس وباء سے محفوظ ہو۔پاکستان سمیت کئی ممالک میں لاک ڈاؤن ہو چکا ہے۔

ملک میں اسکولز کو بند ہوئے دوماہ سے زائد کا عرصہ ہو چکا ہے۔

وہ بچے جو تقریباً سارا دن ہی گھر سے باہر گزارتے تھے اب سارا دن گھر میں رہتے ہیں۔شروع شروع میں تو بچے بہت خوش تھے کہ سکول سے چھٹیاں ہو گئی ہیں اب گھر پر رہ کر آرام کریں گے لیکن اب اس آرام سے وہ بور ہو چکے،کیونکہ پہلے تو چھٹیاں ہوتی تھیں تو بچے نانی ماں کے گھروں میں جاتے تھے،پارکوں میں سیر کرتے تھے یا بازار سے چیزیں لا کر کھاتے تھے لیکن ان حالت میں وہ نہ تو کسی کے گھر جا سکتے ہیں نہ ہی پارکس میں جا سکتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ بچے گھر پر رہ کر کیا کریں؟

آج ہم اپنے اس آرٹیکل میں بچوں کو یہی بتائیں گے کہ گھر پر رہ کر اپنے آپ کو کس طرح مصروف رکھیں کہ وہ بورنہ ہو سکیں۔

پیارے بچو!یہ تو آپ سب جانتے ہیں کہ آپ کو وباء سے محفوظ رکھنے کے لئے چھٹیاں دی گئی ہیں۔اس لئے کہ گھر پر رہ کر آپ زیادہ محفوظ رہ سکتے ہیں۔ہماری رائے یہ ہے کہ گھر میں رہتے ہوئے ہر وقت مو بائل ہی استعمال نہ کرتے رہیں بلکہ پورے دن کی مصروفیات کے لئے ٹائم ٹیبل بنالیں اور اس کے مطابق اپنا دن گزاریں تاکہ آپ بوریت سے بچ سکیں۔

صبح ناشتے کے بعد ٹی وی پر کارٹون یا کوئی پروگرام دیکھیں۔پھر اپنے والد یا والدہ کے ساتھ کوئی گیم کھیلیں۔اپنے والدین سے کہہ کر ان ڈور گیمز منگوائیں،لڈو کھیلیں،کیرم بورڈ کھیلیں،یا کرکٹ کھیل لیں۔اس کے بعد لنچ کریں،چھوٹے بچے اگر سونا چاہیں تو سوجائیں لیکن بڑے بچے اس وقت کو سنہرا سمجھتے ہوئے اپنے اْن مضامین کی تیاری کریں جن میں وہ کمزور ہیں، اس کے بعد رات کا کھانا کھائیں اور کوئی بھی اچھی سی کہانیوں والی کتابیں پڑھیں،جن بچوں کے گھروں میں کہانیوں والی کتابیں نہیں ہیں وہ اپنے والدین سے کہہ کر کتابیں منگوائیں اور اس وقت کو اچھے طریقے سے اپنے مصروف میں لائیں۔

اس کے علاوہ کرونا وائرس سے بچاؤ کے متعلق جو ہدایات اور معلومات آپ تک پہنچ رہی ہیں ان پر عمل کریں،جو احتیاطی تدابیر اور ہدایات حکومتی سطح اور ڈبلیو ایچ او کی طرف سے جاری کردہ ہیں ان کو سمجھیں اور ان پر عمل کریں۔ ڈریں نہیں بس اتنا سمجھ لیں کہ وباء ایک خاص وقت کے لئے آتی اور خود ہی ختم ہو جاتی ہے۔اس لئے اس سے ڈرنا نہیں بلکہ احتیاط کرنی ہے۔

اس کے علاوہ جو سب سے اہم بات ہے وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ سے دعا مانگیں۔اللہ تعالیٰ ہی تمام جہانوں کے مالک ہیں۔ انہی کے حکم سے سب ہوتاہے۔تقدیر کی اچھائی برائی اللہ کے حکم سے ہے۔

ہمیں اب اللہ کو راضی کرنے والے کام کرنے ہیں۔اپنے بڑوں کے ساتھ مل کر نماز پڑھیں جن بچوں کو نماز آتی ہے وہ کوشش کریں کہ پانچ وقت کی نماز ادا کریں۔وضو کی عادت ڈالیں کیونکہ اس طرح وضو بھی ہو جاتاہے اور کرونا وائرس کی احتیاطی تدابیر پر عمل بھی ہو جاتاہے۔

صبح وشام کی حفاظتی دعائیں بھی پڑھیں۔

وہ بچے جو سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں وہ سوشل میڈیا اور خبریں دن میں صرف ایک بار دیکھیں،کیونکہ بار بار سننے سے صرف دل خراب ہو گا اور پریشانی بڑھے گی۔سوشل میڈیا پر بہت ساری نیوز FAKEیا جعلی ہوتی ہیں۔جو بچیاں ہیں وہ اپنے گھروں میں اپنی والدہ کا ہاتھ بٹائیں کچن کے کاموں اور گھر کی صفائی میں اپنی والدہ کی مدد کریں آپ دیکھیں کہ دن ایسے گزر جائے گا پتہ بھی نہیں چلے گا۔

مزید :

ایڈیشن 1 -