آئیے مسکرائیں

آئیے مسکرائیں

  

٭استاد: وہ کون سا طریقہ ہے جس سے سوال جلد حل ہوجاتا ہے۔

شاگرد: نقل سے۔

٭استاد: سب سے زیادہ سونا کہاں ملتا ہے۔

شاگرد:جناب! چارپائی پر۔

٭خان صاحب: مولوی صاحب! کیا جنت میں نسوار ملے گی۔

مولوی صاحب: ہاں ضرور... لیکن اس کو تھوکنے کے لیے جہنم میں جانا پڑے گا۔

٭لوگ29 رمضان کو چاند دیکھنے کی کوشش کررہے تھے۔ ایک بڑے میاں نے آسمان کی طرف دیکھا تو وہاں بادل نظر آئے۔ سردآہ بھر کر بولے:

”واہ اللہ میاں! اپنی باری پر تیز دھوپ اور ہماری باری پر یہ بادل۔“

٭استاد: اگر تمہارے پاس دو سیب ہوں اور تمہارے ہاں دو مہمان آجائیں تو تم کیا کروگے۔

شاگرد:ان کے جانے کا انتظار۔ -

٭ایک شخص کو مذاق کرنے کی بڑی عادت تھی۔ انہوں نے اپنے دوست کو بیرنگ خط لکھا، خط میں صرف ایک جملہ لکھا کہ میں خیریت سے ہوں۔ جواب میں اسے ایک بھاری بیرنگ لفافہ موصول ہوا۔ وصول کرتے ہی انہوں نے لفافہ کھولا۔ اندر سے ایک پتھر نکلا، اس پر لکھا تھا:

”آپ کی خیریت کی اطلاع پاکر میرے دل سے یہ بھاری پتھر ہٹ گیا۔“

٭پھل والا:جناب یہ آم کھاکر دیکھیے، لڈو ہے لڈو۔

گاہک:لیکن میں گھر سے آم خریدنے نکلا ہوں۔

٭استاد: تمہیں سب سے زیادہ خوشی کس دن ہوتی ہے۔

شاگرد:جس دن آپ بیمار ہوتے ہیں۔

٭ایک آدمی کے سر پر بال کہیں کہیں تھے۔ چند لڑکے اس کے پیچھے آرہے تھے۔ ان میں سے ایک بولا:”ان صاحب نے تو سر پر گھاس اگا رکھی ہے۔“

یہ سن کر وہ صاحب بولے:”تبھی تو گدھے میرے پیچھے آرہے ہیں۔“

٭ایک زمیندار نے نیا ملازم رکھا، ایک دن اس نے دیکھا، ملازم بھینس کو دودھ پلارہا ہے۔ زمیندار نے غصے میں آکر پوچھا، یہ کیا کررہے ہو، دودھ دوہنے کی بجائے، اسے پلارہے ہو۔ اس پر ملازم نے کہا:

”دودھ بہت پتلا تھا جناب! میں نے سوچا، دودھ کو ایک چکر اور دے لوں۔“

٭استاد: ململ کو جملے میں استعمال کرو۔

شاگرد:ہمیں خوب مل مل کر نہانا چاہیے۔

٭استاد: برف کی مؤنث بتاؤ۔

شاگرد:برفی۔

٭ایک دوست: یار یہ قوالی والے قوالی کے وقت اپنے دونوں ہاتھ کانوں پر کیوں رکھ لیتے ہیں۔

دوسرا دوست: تاکہ اپنی آواز خود نہ سن سکیں۔

٭ایک دیہاتی اپنے بیٹے کو شہر کا چڑیا گھر دکھانے لے گیا، سیر کے دوران وہ زیبرے کے پاس پہنچے۔ دیہاتی نے بیٹے سے کہا:

”دیکھو بیٹا! چڑیا گھر والوں نے گدھے کو سوئیٹر پہنا رکھا ہے۔

---------------------------------------------------------

استاد: سب لڑکوں نے دودھ پر دو صفحات کا مضمون لکھا ہے، اور تم نے دو سطر کا۔

شاگرد: جناب! میں نے خالص دودھ پر مضمون لکھا ہے۔

-

باپ: بیٹا میں آپ کے لیے دوسری امی لے آؤں۔

بیٹا:وہ مجھے اسکول جانے کے لیے تو نہیں کہیں گی۔

ایک صحافی دوسرے سے کہہ رہا تھا:

”فلاں صحافی بک گیا، فلاں نے اتنی رقم لے کر اپنا قلم بیچ دیا، اس نے صحافت کے مقدس پیشے کو بدنام کیا ہے۔ غرض ہر صحافی اور ادیب بک گیا، لیکن میں آج تک نہیں بکا۔“

دوسرے نے یہ ساری بات سن کر کہا:

”بھائی تم جس اخبار میں لکھتے ہو، وہ اخبار کبھی فروخت نہیں ہوا، پھر تم کیسے فروخت ہوسکتے ہو۔“

-----------------------------------------------------------------------------------:silly:

احمد: چچا رمضان! کہاں جارہے ہیں۔

رمضان: جمعہ پڑھنے۔

احمد: لیکن آج تو بدھ ہے۔

رمضان:بیٹا احمد جمعے کے دن مسجد میں رش بہت تھا، میں پڑھ نہیں سکا تھا۔ میں نے سوچا، آج پڑھ لوں۔

مزید :

ایڈیشن 1 -