قومی اسمبلی میں وزیراعظم کا خطاب

قومی اسمبلی میں وزیراعظم کا خطاب

  

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ان کی کسی سے دشمنی نہیں، نہ ہی کسی سے بدلہ لینا چاہتے ہیں، خواہش ہے کہ پارلیمینٹ چلے جب تک لیڈر شپ کا احتساب نہیں ہو گا، مُلک آگے نہیں بڑھ سکتا،میرٹ اور لیڈر شپ کا احتساب جمہوریت کے بنیادی اصول ہیں، امیر اور غریب کے درمیان بڑھتا ہوا فرق ترقی کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، کورونا وائرس کے متعلق پالیسی میں حکومت کسی اُلجھن کا شکار نہیں،انہوں نے چیلنج کیا کہ کوئی بیان دکھا دیں جس میں تضاد ہو۔ اگر پوری دُنیا میں اِس حوالے سے کنفیوژن نہیں تھی تو وہ ہماری حکومت تھی۔13مارچ سے آج تک میرے کسی بیان میں کوئی کنفیوژن نہیں،اگر ہم ایک ماہ احتیاط کریں گے تو مسئلے سے نکل جائیں گے، جب ہم حکومت میں آئے تو ہمیں بُری معیشت ورثے میں ملی، مجھ سے جواب مانگا جا رہا ہے، جواب اُن سے مانگا جائے جنہوں نے مُلک کو اس حالت میں پہنچایا۔امریکہ نے ایبٹ آباد میں آ کر اسامہ بن لادن کو شہید کر دیا آج ہم کسی کی جنگ نہیں لڑ رہے، ہم پر دوغلے پن کا الزام بھی نہیں لگ رہا،ٹرمپ عزت دیتا ہے اور افغانستان میں مدد کی درخواست کرتا ہے، دوسرے ممالک سے فنڈ مانگتے ہوئے مجھے شرم آئی،مگر ضرورت تھی۔وزیراعظم نے اِن خیالات کا اظہار قومی اسمبلی کے بجٹ سیشن میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کیا۔

وزیراعظم کو ہمیشہ یہ شکایت رہی کہ اپوزیشن ان کی تقریر کے دوران رولا ڈالتی اور شور شرابہ کرتی ہے،چنانچہ انہوں نے اسمبلی میں آنا ہی چھوڑ دیا، اپنی22ماہ کی حکومت میں طویل عرصے بعد وہ بجٹ پیش کرنے والے دن اسمبلی میں آئے تھے یا اب انہوں نے اس وقت شرکت کی، جب بجٹ پر بحث اپنے اختتام کو پہنچ رہی ہے اور چار دن بعد منظوری کا مرحلہ آنے والا ہے،اس دوران اُن کی ایک اتحادی جماعت ساتھ چھوڑ چکی ہے اور دوسری چھوڑنے کے لئے پَر تول رہی ہے۔وزیراعظم کی تقریر میں اس کا کوئی تذکرہ نہیں تھا،شاید انہیں یقین ہے کہ روٹھ کر جانے والے واپس آ جائیں گے،وزیراعظم کی تقریر کے دوران اپوزیشن بنچوں سے خلافِ معمول کوئی مداخلت نہیں کی گئی،شاید اس کے لئے کوئی پس ِ پردہ کوششیں کی گئی تھیں، جو بھی تھا یہ اچھا فیصلہ تھا۔وزیراعظم کی تقریر بھی اس روایتی جوش و خروش سے خالی تھی، جو ان کا طُرہّ امتیاز بن چکا ہے اور وہ چند سیاست دانوں کو خصوصی طور پر یاد رکھتے اور اُنہیں بعض ناپسندیدہ القابات سے نوازنا نہیں بھولتے، تازہ ترین تقریر میں انہوں نے اپنی اس پختہ روایت سے بھی انحراف کیا اور اعلان کیا کہ اُن کی کسی سے دشمنی نہیں اور نہ وہ کسی سے بدلہ لینا چاہتے ہیں۔اُن کا کہنا تھا کہ نیب ہم نے نہیں بنایا،لیکن ہمیں ہمیشہ نیب نیازی گٹھ جوڑ کا طعنہ دیا جاتا ہے۔

سیاست میں دوستیاں اور دشمنیاں مستقل نہیں ہوتیں،کل کے حریف آج کے حلیف بن جاتے ہیں آج بھی تحریک انصاف میں اور حکومت کے اندر ایسے لوگ بڑی تعداد میں موجود ہیں جو دوسری جماعتوں سے آئے ہیں،اِن سیاست دانوں نے گھاٹ گھاٹ کا پانی پیا ہے، اور اب وہ موجودہ حکومت سے سیراب ہو رہے ہیں،یقین کے ساتھ نہیں کہا جا سکتا کہ اُن کا موجودہ پڑاؤ کب تک ہے اور وہ کس وقت حکومت کے جہاز سے چھلانگیں لگا دیں، روایت پر جائیں تو ہر الیکشن سے پہلے پوزیشنیں بدلتی ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے تبدیلی کا نعرہ بڑے طمطراق سے لگایا تھا،لیکن جب اس کا وقت آیا تو اُن کے دائیں بائیں ایسے ہی لوگ بڑی تعداد میں موجود تھے جن کے خلاف تبدیلی لانا مقصود تھا،اِس لئے یہ کام تو ترجیحات میں بہت نیچے چلا گیا اور نئے تقاضوں کو پیش ِ نظر رکھ کر نئی پالیسیاں بنانا پڑیں،اب سے پہلے اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کی جانب تعاون کا جو ہاتھ بھی بڑھایا اسے بُری طرح جھٹک دیا گیا۔پارلیمینٹ کے ایوان میں جو لوگ بیٹھے ہیں وہ سب اپنے اپنے حلقوں کی نمائندگی کرتے ہیں،صرف حکومت ہی ووٹ لے کر نہیں آئی، اپوزیشن کو بھی اس کے ووٹروں نے منتخب کیا ہے، اتفاق سے حکومت اور اپوزیشن کی عددی اکثریت میں بھی کوئی زیادہ فرق نہیں۔اِن حالات میں ضرورت تو یہ تھی کہ حکومت اور اپوزیشن تلخیاں بھلا کر آگے بڑھتے اور جہاں کہیں ممکن ہوتا، اتفاق رائے کا مظاہرہ بھی کرتے،لیکن ایسا نہ ہو سکا۔یہ تاثر گہرا ہوتا چلا گیا کہ حکومت اپوزیشن کے بڑھے ہوئے دست ِ تعاون کو حقارت سے جھٹک دیتی ہے اور اس کا نام بھی سننا گوارا نہیں کرتی۔یہی وجہ ہے کہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن بنچوں میں تلخ نوائیوں کا تبادلہ ہی ہوتا رہا اور مفاہمت کی جانب کسی نے دھیان نہیں دیا۔ جمعرات کے روز وزیراعظم کا خطاب البتہ اس روش سے ہٹا ہوا تھا،ان کی تقریر میں وہ طنطنہ بھی نہیں تھا جو حامیوں کو گرماتا اور مخالفوں کو جواب دینے پر اُکساتا تھا،یہ ایک مختلف تقریر تھی جس میں اگرچہ کسی مفاہمت کا عندیہ تو نہیں،لیکن ”چوروں اور ڈاکوؤں“ پر ہاتھ بھی ہلکا رکھا گیا۔کیا یہ کسی تالیف ِ قلب کا غماز ہے؟

وزیراعظم نے اپنی تقریر میں حکومت کی کورونا پالیسی کا ڈٹ کر دفاع کیا اور اصرار کیا کہ ان کی پالیسی میں نہ تو کوئی ابہام ہے اور نہ کوئی تضاد،وہ پہلے دن سے ایک بات کہہ رہے ہیں، وزیراعظم کو اپنی پالیسی کا دفاع کرنا ہی چاہئے تھا،کیونکہ پارلیمینٹ کے اندر اور باہر اس پر جرح و تنقید ہو رہی ہے۔ پوزیشن الزام لگاتی ہے کہ حکومت کنفیوژن کا شکار ہے تو اعلیٰ عدالتوں میں بھی ایسے ریمارکس سامنے آتے ہیں، جو حکومت کے لئے کسی اطمینان کا باعث نہیں۔ وزیر، مشیر اور معاونین ِ خصوصی حکومت کی پالیسیوں کا دفاع کرنے کی بجائے سارا زور مخالف رہنماؤں کو رگیدنے پر لگاتے ہیں ایسے میں اگر وزیراعظم بھی اپنی پالیسی کی حمایت نہ کرتے تو کون کرتا؟ انہوں نے اپنے آپ کو سب سے بڑا ”فنڈ ریزر“ بھی قرار دیا اور کہا کہ وہ تیس سال سے فنڈ جمع کر رہے ہیں، لیکن اُنہیں دوسروں سے مانگنے پر شرم آتی ہے اس کا حل تو یہ تھا کہ وہ بیرونی دوستوں پر انحصار کی بجائے اندرونِ مُلک اتنے ٹیکس جمع کرتے کہ غیر ملکی اعانت اور عطیات کی ضرورت نہ ہوتی،لیکن بوجوہ ٹیکسوں کے اہداف بھی حاصل نہیں ہو پاتے اور فنڈ ریزنگ کی غیر معمولی صلاحیت بھی اگر ٹیکس جمع کرنے میں معاون و مددگار نہیں ہوتی تو پھر اخراجات پورے کرنے کے لئے کہیں سے تو رقوم کا انتظام کرنا ہے، روپے کی قدر غیر معمولی طور پر کم کرنے کے باوجود برآمدات نہیں بڑھ رہیں،اس کا ایک اچھا نعم البدل بیرونِ مُلک سے آنے والی ترسیلاتِ زر تھیں، جو کورونا وائرس سے متاثر ہو گئیں، ایسے میں بیرونی دوروں پر اُٹھنے والے اخراجات میں تھوڑی بہت بچت کرنے سے تو مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوں گے،پرائم منسٹر ہاؤس کی گاڑیاں بھی بِک گئیں اور بھینسیں بھی، اخراجات بھی کم ہو گئے،لیکن یہ سب کچھ ان اربوں روپے کی کمی تو پوری نہیں کر سکتا جو سالِ رواں کے بجٹ میں خسارے کے طور پر دکھائے گئے ہیں۔ وزیراعظم نے ایک بار پھر کہا ہے کہ انہیں حکومت بُری حالت میں ملی، وہ یہ نہیں بتاتے کہ اُس وقت جی ڈی پی کی شرح نمو5.8 فیصد تھی اور ٹیکس ریونیو کے اہداف حاصل ہو رہے تھے اور ان میں ہر سال اضافہ ہو رہا تھا۔روپیہ مستحکم تھا اور طویل عرصے سے ایسا چلا آ رہا تھا، ترقیاتی منصوبوں پر کام ہو رہا تھا اور وہ اندھوں کو بھی نظر آتے تھے، ان منصوبوں کے راستے میں روڑے کیوں کھڑے کئے گئے اور اب تک اربوں روپے لگانے کے باوجود ان سے استفادہ کیوں نہیں کیا جا رہا؟اور تاخیر کی کیا حکمت ہے؟موٹرویز کے جس جال نے فاصلے کم کر دیئے ہیں اور بہت سے شہروں کا درمیانی فاصلہ نصف سے بھی کم وقت میں طے ہونے لگا ہے، یہ سب منصوبے جن کا آج افتتاح کیا جا رہا ہے کن لوگوں کا ویژن تھا؟ اور آج ترقیاتی منصوبوں کو بریک کیوں لگ گئی ہے؟

مزید :

رائے -اداریہ -