شہباز شریف اور نیب کی پھرتیاں!

شہباز شریف اور نیب کی پھرتیاں!
شہباز شریف اور نیب کی پھرتیاں!

  

دو جون والی پیشی سے قبل شہباز شریف نیب کے سامنے چار مئی کو پیش ہوئے تھے تاہم دو گھنٹے طویل پیشی کے بعد نیب کی جانب سے حکام نے کہا تھا کہ وہ منی لانڈرنگ سے متعلق کیے جانے والے سوالات کے جواب نہیں دے سکے اس لئے انہیں دو جون کو دوبارہ طلب کیا جا رہا ہے۔شہباز شریف کو اپریل کے مہینے میں بھی نیب کی جانب سے دو مرتبہ بلایا گیا تھا تاہم انہوں نے طبیعت کی ناسازی کے باعث پیش ہونے سے معذرت کی تھی۔شہباز شریف کو نیب کی جانب سے آشیانہ ہاؤسنگ اور رمضان شوگر ملز کیس میں 2018 ء میں گرفتار کیا گیا تھا اور 14 فروری 2019ء کو لاہور ہائی کورٹ نے ضمانت منظور کی تھی۔لاہور ہائی کورٹ نے میاں شہباز شریف کی قبل از گرفتاری کی درخواست منظور کرتے ہوئے 17 جون تک گرفتاری سے روک دیا۔ عدالت کے فیصلے کے تحت نیب 17 جون تک شہباز شریف کو آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں گرفتار نہیں کر سکتی۔

پاکستان میں ایک طرف کورونا وائرس نے تباہی مچائی ہوئی ہے تو دوسری طرف نیب میاں شہباز شریف کی گرفتاری کی فکرپالے بیٹھی ہے۔

شہباز شریف کی عمر اس وقت 69 سال ہے اور وہ سرطان کے مرض میں بھی مبتلا ہیں۔ یہاں میرا سوال یہ ہے کہ کیا کورونا وائرس کے اِن مشکل دنوں میں شہباز شریف کو گرفتار کرنا ناگزیرہے؟کیا ایسا نہیں ہو سکتا تھا کہ نیب چند دن رک جاتی اورکورونا وائرس بھی کنٹرول ہوجاتا کیونکہ شہباز شریف خودبھی کورونا جیسی مہلک وبا کا شکار ہو چکے ہیں۔ نیب اِن حالات کے بعد بھی اِن کیسز میں شہباز شریف کو طلب کر سکتی تھی اوراپنی تفتیش مکمل کرسکتی تھی لیکن نیب کی جلد بازی سے لگ رہا ہے کہ وہ ہر صورت میں میاں شہباز شریف کو گرفتار کرکے کہ حکومت کو خوش کرنا چاہتی ہے، حالانکہ حکومت کو بھی اس نازک صورتحال میں پاکستان کی ساری قیادت کو ایک پیج پراکٹھا کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ سب کی مشترکہ رائے سے اِن حالات میں کوئی بہتر راستہ نکل پاتااور پاکستان کی عوام میں بھی ایک بہتر تاثر جاتا کہ اس مشکل گھڑی میں پاکستان کی ساری قیادت اکٹھی ہے۔

نیب کی پھرتیاں اُس کی انتقامی کارروائیوں کا اشارہ دے رہی ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے حکومت میں آنے سے پہلے کرپشن کے خلاف نعرہ لگایا تھا اور کہا تھاکہ اقتدارمیں آ کر وہ کسی کرپٹ کو نہیں چھوڑیں گے۔ اب یہاں دیکھنا یہ ہے کہ یہ نعرہ صرف اپوزیشن کے لئے تھا یا سب کے لئے۔ جیسا کہ سب کو پتہ ہے شوگر مافیا نے کس طرح جعلی طریقے سے چینی کی قیمت بڑھائی اور بہت زیادہ پیسہ کمایا۔ شوگر مافیا میں حکومت کے لوگ بھی شامل تھے اور اپوزیشن کے بھی۔ وفاقی وزیر خسرو بختیار اور اُن کے بھائی صوبائی وزیر مخدوم ہاشم جوان بخت بھی شامل ہیں۔وزیرِاعظم صاحب کو چاہیے کہ جب تک تحقیقات مکمل نہیں ہو جاتیں تب تک اُن کو بھی عُہدوں سے برطرف کریں۔پاکستا ن میں زیادہ شوگر ملز کے مالک جہانگیر ترین ہیں اور وہ بھی اس سکینڈل میں شریک ہیں لیکن وہ اربوں روپے اکٹھے کرکے وزیراعظم عمران خان کی مرضی سے ملک سے باہر جا چکے ہیں حالانکہ حکومت کو اُن کا نام ای سی ایل میں ڈالنا چاہیے تھا اور جب تک اس کیس کی تحقیقات مکمل نہ ہو جاتیں انھیں ملک سے باہرنہ جانے دیا جاتا۔

اگر شہباز شریف کو گرفتار کرنا ضروری تھا تو پھر جہانگیر ترین کو ملک سے باہر کیوں جانے دیا گیا ہے جبکہ وزیراعظم عمران کا نعرہ سب کے لئے برابرتھا۔ اب اُن کے فیصلوں میں تضاد کیوں ہے؟اگر کرپشن کی وجہ سے مریم نواز شریف کو اپنے والد سے ملاقات کے لئے جانے کی اجازت نہیں ہے تو پھر جہانگیر ترین کو وزیراعظم نے ملک سے باہر کیوں جانے دیا ہے۔ یہاں شہباز شریف کے متعلق میری ذاتی رائے یہ ہے کہ حکومت شہباز شریف کو گرفتار کروانے پر تُلی ہوئی ہے لیکن کچھ قوتیں ایسی ہیں جو سابق وزیرِاعلیٰ پنجاب کی گرفتاری میں رکاوٹ ہیں۔اِسی لئے تو پولیس ان کی گھر میں موجودگی کے باوجود انھیں گرفتا ر نہیں کر سکی۔

مزید :

رائے -کالم -