بجٹوں کا موسم

بجٹوں کا موسم
بجٹوں کا موسم

  

ان دنوں بجٹوں کا موسم چل رہا ہے۔ پہلے قومی اسمبلی‘ پھر چاروں صوبائی اسمبلیوں اور گزشتہ روز گلگت بلتستان کا بجٹ سنایا گیا۔ قوم کو یہ بتایا گیا کہ حکومت اگلے ایک سال میں ان کے لئے اور ملک کے لئے کیاکچھ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور اس سلسلے میں اس نے کیا منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔ یہ سارے سالانہ بجٹ ہیں‘ یعنی پورے ایک سال کا پروگرام‘ یہ الگ بات ہے کہ سال بھر میں کئی منی بجٹ بھی عوام کو جھیلنے پڑیں گے اور ٹیکس ریونیو اور دوسرے جو ترقیاتی اہداف مقرر کئے گئے ہیں‘ ان میں بھی سال بھر میں کئی بار ترامیم کی جائیں گی اور نئے اہداف مقرر کئے جائیں گے‘ کیونکہ مقرر کردہ اہداف محض ٹیوے ہیں کہ یہ ہو جائے گا‘ وہ ہو جائے گا‘ یہ ہدف پورا کر لیں گے‘ وہ تخمینہ حاصل کر لیا جائے گا۔ جب زمینی حقائق سامنے آتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ یہ ہدف تو پورا ہی نہیں ہو سکتا‘لہٰذا اس میں تبدیلی کی جانی چاہئے۔ اب آپ خود بتائیں کہ جو اعدادوشمار پیش کئے گئے ہیں‘ ان میں سے ایک میں بھی تبدیلی کر دی جائے تو بجٹ کیا باقی رہ گیا؟

گزشتہ کئی برسوں سے خسارے کے بجٹ پیش کئے جا رہے ہیں۔ مطلب یہ کہ آمدنی اتنی نہیں جتنے اخراجات کئے جانے ہوتے ہیں‘ لہٰذا یہ تصور کر لیا جاتا ہے کہ فلاں فلاں قرضہ ملے گا یا فلاں فلاں مد میں فلاں فلاں رقم حاصل ہو گی تو یہ فرق پورا کر لیا جائے گا۔ مجھے خسارے کے بجٹ کی کبھی سمجھ نہیں آئی کہ کیوں پیش کیا جاتا ہے۔ یہ ایک طرح سے چادر سے زیادہ پاؤں پھیلانے والی بات ہے۔ پاؤں اتنے کیوں نہیں پھیلائے جاتے‘ جتنی چادر ہے۔ اتنی چھلانگیں لگانے کی آخر کیا ضرورت ہے؟اتنا خرچو جتنی آمدنی ہے تاکہ ملک پر قرضوں کا بوجھ نہ بڑھے۔

ماضی میں جب بجٹ پیش کئے جاتے تھے تو وہ واقعی سال بھر کے لئے ہوتے تھے اور جو جمع تفریق ہوتا تھا‘ لوگ اس کو خوش دلی سے قبول کر لیتے تھے کہ چلو سال بھر تو معاملات ٹھیک رہیں گے۔ وہ حکومت کے پیش کردہ سالانہ بجٹوں کے مطابق ہی اپنے گھریلو بجٹ بھی بنا لیا کرتے تھے اور ایک طرح سے سال بھر کے لئے مطمئن ہو جایا کرتے تھے‘ لیکن اب سال بھر میں اتنے بجٹ آتے ہیں کہ یاد ہی نہیں رہتا کہ کتنے بجٹ آئے۔ پٹرولیم‘ بجلی اور گیس کے نرخوں میں سال بھر میں بار بار ردو بدل کیا جاتا ہے‘ جس کی وجہ سے سارے معاملات گڑ بڑ ہو جاتے ہیں‘ کیونکہ مذکورہ تینوں ایندھنوں کے نرخ تبدیل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان تمام اشیا کے نرخوں میں ردوبدل‘ جن کی تیاری یا ترسیل کے کسی بھی مرحلے میں توانائی کے یہ تمام یا ان میں سے کوئی ایک ذریعہ استعمال ہوتا ہے۔ کہنا یہ ہے کہ اقتدار سنبھالنے والوں نے نہ ملکی معیشت کو مستحکم رہنے دیا ہے اورنہ عام آدمی کو مالی لحاظ سے مطمئن رہنے دیا ہے۔ ایک بے چینی ہے‘ ایک غیر مرئی خوف ہے جو لوگوں کے دل و جاں پر طاری رہتا ہے۔

بجٹ پیش ہونے کے بعد ایک اور تماشا بھی ہوتا ہے۔ حکومت اسے اس صدی اور خطے کا بہترین بجٹ قراردیتی ہے جبکہ اپوزیشن کی جانب سے یہ گھڑا گھڑایا فقرہ ضرور بولا جاتا ہے کہ یہ بجٹ اعدادوشمار کے گورکھ دھندے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اس ساری صورتحال میں عوام کو یہ سمجھ نہیں آ رہی ہوتی کہ کیا کرے اور کس کی مانے۔ ویسے عوام تو ہر حکومت سے ہی ریلیف کے منتظر رہے ہیں‘ جبکہ حکومتیں ان سے قربانیوں کی طالب رہی ہیں‘ اور عام طور پر ہوتا یہ ہے کہ حکومتیں تو عوام سے قربانیاں لے لیتی ہیں لیکن اپنی باری پر ریلیف دینے کو تیارنہیں ہوتیں۔ یہی دیکھ لیں کہ گزشتہ عام انتخابات سے پہلے سرکاری ملازمین کے حق میں بلند بانگ نعرے لگانے والی تحریکِ انصاف کی حکومت نے اس سال سرکاری ملازمین کو کوئی ریلیف نہیں دیا‘ یعنی ان کی تنخواہوں میں اور ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پنشنوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا‘ حالانکہ مہنگائی گزشتہ ایک سال کے عرصے میں خاصی بڑھ چکی ہے اور ظاہر ہے اگلے ایک سال میں مزید بڑھ جائے گی‘ لیکن اس چیز کا کسی کو احساس نہیں کہ لوگ کیسے گزارہ کریں گے۔ اس کے باوجود حکومت عوام دوست بھی ہے۔ پتہ نہیں کیسے؟ سرکاری ملازمین کوعبوری ریلیف یعنی تنخواہوں میں اضافے سے محروم کرنے کے لئے بھی بڑا عجیب ہتھکنڈا استعمال کیا گیا۔ بجٹ آنے سے چند روز پہلے یہ خبر سامنے آئی کہ آئی ایم ایف نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں دس فیصد کمی کرے۔

اب یہ کمی کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا؛ چنانچہ اگلی خبر یہ آئی کہ حکومتی نمائندہ آئی ایم ایف سے بات چیت کرے گا تاکہ وہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے والا مطالبہ واپس لے لے۔ اس سے اگلی خبر یہ آئی کہ اس نے آئی ایم ایف کو قائل کر لیا ہے۔ اس طرح سرکاری ملازمین نے تنخواہوں میں اضافہ نہ ہونے کے باوجود اللہ کا شکر ادا کیا ہو گا کہ تنخواہوں میں کمی تو نہیں ہوئی۔ اس طرح یہ موت دکھا کر بخار پر راضی کرنے والا معاملہ لگتا ہے۔ مسلم لیگ ن نے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے وفاقی بجٹ کو جھوٹ کا پلندا اور اعداد و شمار کا گورکھ دھندا قرار دیا اور کہا کہ 2 سال سے جھوٹ بولنے والوں نے آج بھی ایوان میں جھوٹ بولا، حکومت نے عام آدمی پر ٹیکس لگایا ہے جبکہ مافیاز اور لابیز کو ریلیف دیا ہے، بجٹ میں خوش نما دعوے کئے گئے ہیں لیکن بہتری کی کوئی اُمید نہیں۔ حکومت کرونا کا بہانہ بنا کر اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اب اس پہ کیا تبصرہ کیا جائے؟ آپ خود ہی سوچ لیں کہ یہ باتیں کتنی سچ اور کتنی جھوٹ ہیں۔ فی الحال میرے ہاتھ تو خالی ہیں اور یقیناً آپ کے بھی خالی ہوں گے کہ بجٹ میں لوگوں کے لئے تو کچھ بھی نہیں ہے۔ یہ کیسا بجٹوں کا موسم آیا ہے کہ خزاں ہی چھا گئی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -