ایف سی کالج، ایجوکیشنل ریفارمز کی مثال

ایف سی کالج، ایجوکیشنل ریفارمز کی مثال
ایف سی کالج، ایجوکیشنل ریفارمز کی مثال

  

ریاست کے ملکیتی کاروباری اداروں (SOEs)کے بارے میں قائم کردہ کابینہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ19وفاقی وزارتوں کے زیر انتظام چلنے والے تمام89کاروباری اداروں کی کارکردگی انتہائی مخدوش ہے۔ یہ ادارے حکومت کی مالی معاونت کرنے کے لئے قائم کئے گئے تھے،لیکن وقتاً فوقتاً وفاقی حکومت سے مالی امداد حاصل کرتے رہنے کے باوجود یہ ادارے منافع بخش ہونا تو درکنار اپنا بوجھ اٹھانے سے بھی قاصر نظر آئے ہیں۔ وزارت خزانہ نے کمیٹی ممبران کو بتایا کہ ان اداروں کو مختلف مدات کے تحت ایک سال کے دوران 692 ارب روپے کی امداد دی گئی، جبکہ انہوں نے 2017-18ء میں 205 ارب روپے کا نقصان ظاہر کیا۔قرین قیاس یہ ہے کہ مجموعی نقصانات مزید بڑھ چکے ہوں گے۔اس بارے میں تو اب دو آراء نہیں پائی جاتیں کہ سرکاری اداروں کی کارکردگی کم از کم مطلوبہ معیار پر بھی پوری نہیں اُترتی، یہ ادارے چاہے کاروباری/کمرشل ہوں جیسے ریلویز،پی آئی اے، پاکستان سٹیل ملز یا عوامی خدمات مہیا کرنے والے سرکاری ادارے،کوئی سرکاری ادارہ بھی اپنے طے شدہ اہداف کو حاصل کرنے میں کامیاب نظر نہیں نظر آ رہا ہے۔ اب تو بات یہاں تک آن پہنچی ہے کہ تنقید یا تنقیص کا بھی کچھ زیادہ اثر نہیں ہوتا، عوام واویلا کرتے رہتے ہیں،لیکن معاملات میں بہتری کی صورت ابھی تک پیدا ہوتی نظر نہیں آ رہی۔ایسا ہی حال ہمارے سرکاری ایجوکیشن سیکٹر کا بھی ہے۔

ہمارے اعلیٰ تعلیمی ادارے صرف ڈگریاں بانٹنے میں مصروف ہیں علم و ہنر کی تقسیم کی بجائے وسیع پیمانے پر گریجوایٹس پیدا کر کے وہ مارکیٹ میں بھیجتے ہیں، پھر انہیں نوکریاں نہیں ملتیں،جس کے باعث پڑھے لکھے نوجوانوں میں بے چینی اور اضطراب جنم لیتا ہے، بے روزگاری اپنی جگہ، بے چینی کے باعث سماجی مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں۔حال ہی میں ایک خبر سامنے آئی کہ حکومت نے یونیورسٹیوں کی کارکردگی میں کیٹگری لانے کے لئے ایک مسودہ قانون تیار کیا ہے،جس کے مطابق یونیورسٹیوں کی سینیٹ اور سنڈیکٹس میں ریٹائرڈ ججز اور بیورو کریٹس بطور سربراہ تعینات کئے جائیں گے،ہر یونیورسٹی سربراہ،یعنی وائس چانسلر کی کارکردگی کا سال میں دو مرتبہ جائزہ لیا جائے گا اور پیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی ہو گی،پیڈا ایکٹ سرکاری ملازمین پر لاگو کیا جاتا ہے اور اسی کے تحت کام نہ کرنے یا مطلوبہ معیار پر پورا نہ اترنے کی صورت میں سرکاری ملازمین کے ساتھ سلوک کیا جاتا ہے۔ بادی النظر میں تو یہ ایک مثبت سوچ لگتی ہے کہ حکومت اپنے سرکاری تعلیمی اداروں کی کارکردگی بڑھانا چاہتی ہے،لیکن اساتذہ کی تنظیمات کی طرف سے مخالفت کا ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا ہے کہ ”یونیورسٹیوں کی خود مختاری چھیننے کی کوشش کی جا رہی ہے“ ہم ایسا نہیں ہونے دیں، ویسا نہیں ہونے دیں گے“ وغیرہ وغیرہ۔

ویسے تو نواز شریف حکومت نے بیورو کریسی کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور مطلوبہ معیار تک لانے کے لئے ریفارمز اور ری سٹرکچرنگ کا ڈول ڈالا تھا۔ڈاکٹر عشرت حسین کے ذمے یہ کام لگایا گیا۔انہوں نے خاصا ہوم ورک بھی کیا، پھر موجودہ حکومت نے بھی ڈاکٹر عشرت حسین کو ادارہ جاتی اصلاحات اور آسٹیریٹی کے لئے وزیراعظم کا مشیر مقرر کیا،انہوں نے بڑی تندہی سے کام کیا، ان کی تیار کردہ رپورٹ کابینہ میں پیش کی گئی اور ان کی سفارشات کی منظوری بھی دے دی گئی، اب یہ معاملات کہاں تک پہنچے ہیں ہمیں معلوم نہیں ہے،لیکن اب بات طے شدہ ہے کہ ہمارا موجودہ سرکاری ڈھانچہ، سرکاری نظام کسی طور بھی چلنے اور مطلوبہ نتائج ظاہر کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔دوسری بات بڑی خوش آئند ہے کہ اصلاحات بارے بھی دو آراء نہیں پائی جاتی ہیں اور اصلاحات کا پروگرام طے پا چکا ہے،ہماری موجودہ حکومت کیونکہ تبدیلی کے ایجنڈے پر منتخب ہو کر آئی ہے اِس لئے اس کیلئے ممکن بھی ہے کہ وہ نظام کی اصلاح کر گزرے اور ایسا لگ بھی رہا ہے کہ حکومت اس ایجنڈے پر کام کر بھی رہی ہے۔ دیکھتے ہیں۔

ویسے ہمارے ہاں مردانِ کار کی کمی بھی نہیں ہے،ہم پاکستانی ذہین اور محنت کش ہیں، ہم نے بڑے بڑے کارنامے انجام دیئے ہیں۔ یورپ، امریکہ اور مشرقِ وسطیٰ میں کام کرنے والے 80 لاکھ سے زائد پاکستانی اپنے میزبان ممالک کی معیشتوں میں بھرپور کردارادا کر رہے ہیں۔یہ سارے پاکستانی مزدور اور ورکر ہی نہیں ہیں،بلکہ کئی پاکستانی اعلیٰ درجے کے کاروباری اور فہم و فراست سے مالا مال قائدانہ کردار بھی ادا کر رہے ہیں،ہم نے بھی پاکستان کو ایک ترقی کرتا ہوا ملک بنایا ہے، جہاں 300ارب ڈالر کے لگ بھگ اشیاء و خدمات پیدا ہوتی ہیں، بہتری کی ضرورت ہے کہ اصلاحاتی عمل کو اگر نیک نیتی اور پیشہ وارانہ انداز میں سرانجام دیا جائے تو مطلوبہ نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

میں یہاں ایف سی کالج کی مثال دینا چاہوں گا۔یہ میرا مادرِ علمی بھی ہے اور ہمارے قومی نجی تعلیمی اداروں میں ایک خوبصورت اور قابل ِ فخر نام بھی ہے۔یہ ادارہ1864ء میں ایک امریکی پادری نے قائم کیا۔ ابتداء سے مشن کالج کا نام دیا گیا، بعد میں امریکی پادری ڈاکٹر چارلس ولیم فورمن کے نام سے اسے1894ء میں فارمن کرسچین کالج کا نام دیا گیا۔1947ء تک اس کا الحاق یونیوسٹی آف کلکتہ کے ساتھ رہا، قیام پاکستان سے قبل1940ء میں ادارہ اپنی موجودہ جگہ منتقل ہوا اور1947ء میں اس کا الحاق پنجاب یونیورسٹی کے ساتھ ہو گیا۔ 1960ء تک یہ ادارہ خود مختار رہا، پھر حکومت پاکستان نے اس کالج کے نرسنگ پروگرام کے لئے گرانٹ دینا شروع کی۔1972ء میں اسے قومیا لیا گیا،اس وقت ایف سی کالج میں پڑھنا ذہین اور فطین نوجوانوں کا خواب ہوتا تھا۔گورنمنٹ کالج کی اہمیت اپنی جگہ،لیکن ایف سی کالج میں تعلیم حاصل کرنا بہرحال ایک قابل ِ فخر بات ہوتی تھی، 2003ء تک یہ کالج سرکاری تحویل میں رہا، پھر جنرل پرویز مشرف نے اسے انہیں واپس کر دیا، جن سے چھینا تھا، یعنی چرچ۔

اُس وقت اس ادارے کی کیا حالت ہو گی، یعنی تین دہائیوں تک سرکاری ادارہ رہنے کے بعد اس کی ویسی ہی حالت ہو گی جو ہمارے سرکاری اداروں کی ہوتی ہے۔بہرحال نئی انتظامیہ نے سرکاری اساتذہ کو نئی شرائط ملازمت پیش کیں جو اکثریت نے قبول نہ کیں اور وہ واپس سرکاری پول میں چلے گئے۔نئی انتظامیہ کے ساتھ رہ جانے والوں میں ایک ہمارے استاد،انتہائی محترم اور معتبر پروفیسر ڈاکٹر حامد سعید صاحب بھی تھے وہ بطور رجسٹرار/پروفیسر ادارے کی تعمیر کے نئے سفر میں شریک ہوئے۔انہوں نے بڑی عجیب بات بتائی کہ نئی انتظامیہ نے تمام اساتذہ کو ایک ٹاسک دیا کہ وہ بتائیں کہ20سال بعد وہ ادارے کو کہاں دیکھتے ہیں،یعنی20سال بعد ادارہ کہاں ہونا چاہئے۔چھ ماہ لگے پلان بنانے میں،تمام اساتذہ نے مل جل کر ایک وسیع البنیاد منصوبہ تشکیل دیا اور پھر اس کا آپریشنل پلان بھی بنایا۔ انتظامیہ نے ہمیں کہا کہ اب اس پلان کو دس دس سالہ دو منصوبوں کی شکل دو۔ہم نے یہ کام دو تین ماہ میں مکمل کر لیا، پھر ہمیں کہا گیا کہ دس سالہ منصوبے کو پانچ پانچ سالہ پلان میں تبدیل کر کے دکھاؤ۔اس طرح پانچ سالہ منصوبے پر عمل درآمد شروع ہوا، یعنی پانچ پانچ سال کے چار مراحل میں کالج کی تعمیر و تشکیل کا کام شروع ہوا۔

ایس او پیز طے ہوئے، اساتذہ کی کارکردگی جانچنے کے نشان بھی طے تھے، کسی بھی استاد کی ملازمت اور ترقی اس پلان میں اس کے کردار کے ساتھ جڑی ہوئی تھی، سب نے مل جل کر طے شدہ منصوبے کے مطابق کام کیا اور کالج کو20کی بجائے13سال کے اندر اندر مقام مطلوب تک پہنچا دیا۔اب یہ ادارہ یونیورسٹی بن چکا ہے اور امریکی یونیورسٹی نظام کے مطابق تعلیم و تدریس میں مصروف ہے۔ایک بار پھر یہ اس مقام کی طرف لوٹ گیا ہے، جو70ء کی دہائی میں اسے حاصل تھا،جب نوجوان اس کالج میں تعلیم حاصل کرنے کے خواب دیکھا کرتے تھے۔ پاکستانی یونیورسٹیوں کی رینکنگ میں ایف سی سی یونیورسٹی کا9واں مقام ہے“۔ڈاکٹر حامد سعید صاحب کامیابی و کامرانی کے اس سفر میں انتظامیہ کے ساتھ شانہ بشانہ اور کندھے سے کندھا ملا کر شامل رہے۔ حال ہی میں انہوں نے ریٹائرمنٹ لے لی ہے، ان کی عمر شاید70 پلس ہو چکی ہے، ادارے نے ان کی خدمات کے صلے میں انہیں پروفیسر ایمیریٹس مقرر کیا ہے اور کالج / یونیورسٹی کے ایک بلاک کا نام ان سے منسوب کیا ہے۔ بڑے لوگ اداروں کی تعمیر و ترویج میں ایسے ہی کام کرتے ہیں، جیسے میرے عزیز استاد محترم پروفیسر حامد سعید صاحب نے ایک ادارے کو اس کا اصلی مقام دلانے کے لئے کیا اور اچھی انتظامیہ اپنے کارآمد افراد کے ساتھ عزت و احترام کا ویسا ہی سلوک کرتی ہے جیسا ایف سی کالج کی کرسچین/ امریکی انتظامیہ نے کیا۔

کیا ہم اس مثال سے سبق حاصل نہیں کر سکتے؟

مزید :

رائے -کالم -