کرونا: افسانے سے حقیقت تک

کرونا: افسانے سے حقیقت تک
کرونا: افسانے سے حقیقت تک

  

سازشی تھیوریاں اپنی جگہ، حیاتیاتی ہتھیاروں سے لڑی جانے والی عالمی جنگ کے نشیب فراز بھی اپنی ایک معنویت رکھتے ہیں۔ دنیا بھر کے حکمرانوں کی اپنے رب سے بغاوت کی سزا اور عذاب بھی ایک حقیقت ہے۔تاہم پہلے یوں تھا کہ عوام کا اپنی حکومت پر اعتماد نہ ہونے کی وجہ سے وہ کرونا کے نتیجہ میں ہونے والی اموات کو جھوٹ کا پلندہ اورعالمی سطح پر ملنے والے مالی فوائد کا نتیجہ سمجھتے تھے، لیکن اب اس آگ کی تپش قریب آن لگی ہے۔ اب قریب سے جنازے اٹھ رہے ہیں۔ اب ہر ایک کے اپنے بھی بیماری کے ہاتھوں گوشہ تنہائی میں چلے گئے ہیں اس لیے اب لوگوں کو یقین آنے لگا ہے چاہے ادھورا ہی سہی۔ اس وقت چند اقدامات انتہائی ضروری ہیں،کچھ حکمرانوں کے لیے اور کچھ عوام کے لیے

1۔ایس او پیز پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کی ذمہ داری تمام سرکاری، نیم سرکاری، پرائیویٹ اداروں، تعلیم گاہوں کے سربراہان کی ہو اور حکومت انہیں ہر طرح کی مطلوبہ سہولت فراہم کرنے کی پابند ہو۔ ماسک اور فاصلے اور ہینڈ واش کویقینی بنایاجائے۔

2۔قرنطینہ کے لیے ہسپتال ہی ضروری نہ ہوں اپنے گھروں میں بھی قرنطینہ کی حوصلہ افزائی کی جائے اس سلسلہ میں عوام کی رہنمائی اور معاونت حکومتی ذمہ داری ہے۔ حکومت اس مقصد کے لیے ایریارابطہ آفیسرز کا تعین کرے۔ الخدمت ہسپتالوں سمیت تمام پرائیویٹ ہسپتالوں سے مدد لی جائے۔

3۔طریقہ علاج پر ریسرچ کاکام تیز رفتاری سے کیاجائے۔ اس مقصد کے لیے میڈیا اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فرم کو کنٹریکٹ دینا قومی جرم،آئین پاکستان سے غداری اور قومی وسائل کاناجائز و غیرقانونی استعمال ہے۔ حکومت پنجاب اس سلسلہ میں وضاحت جاری کرے۔ اور اگر اطلاعات سچی ہیں تو اسرائیلی فرم سے معاہدختم کرکے قوم سے معافی مانگے اور ذمہ داران کا کڑا محاسبہ کیاجائے۔ حکومت اگر جامعات اور اپنے ریسرچ اداروں کوٹاسک اور سہولتیں دے تو بہت عالمی معیار کا علمی و عملی ریسرچ ورک ہوسکتا ہے۔

4۔مصنوعی انٹی باڈیز کی تیاری ایک حوصلہ افزاء خبر ہے۔ اسی طرح پلازمہ تھراپی کو بھی ممکنہ احتیاطوں کے ساتھ مسلسل عمل میں لایا جائے۔ اس سلسلہ میں ہسپتالوں میں پلازمہ بینک قائم کیے جائیں اور پلازمہ عطیات کے لیے سہولتیں دی جائیں۔

5۔اگر کرونا ایکسپرٹس ایڈوائزری گروپ CEAGنے ٹو سیلی زومیب(Tocili Zumab) انجکشن کو کرونا مریضوں کی زندگی بچانے کے لیے انتہائی مفید پایاہے توحکومت اسے خود امپورٹ کرکے غریب مریضوں کی زندگیاں بچانے کے لیے استعمال کرے۔ ایک لاکھ بیس ہزار روپے کے خرچ سے اگر وینٹی لیٹر و دیگر اخراجات اور غریب کی جان بچ جائے تو یہ یقینا مہنگا سودا نہیں۔

6۔حکومت جھوٹے اعدادوشمار سے خوف کی فضا پیدا کرنے کا رویہ ترک کرے۔ گزشتہ دنوں محکمہ صحت پنجاب کی طرف سے لاہور میں چھ سات لاکھ مریضوں کی موجودگی کا شوشہ چھوڑا گیا۔ یہ سیمپل سروے کو ضرب در ضرب دے کر مصنوعی اعدادوشمار تھے۔ اس کاکوئی فائدہ نہیں ہوابلکہ لاہور کے شہری بلاوجہ ملک بھر میں اچھوت بن گئے۔

7۔فوت ہونے والے مریضوں کی تجہیزو تکفین میت کے ورثا کے حوالے کرنے،باعزت نماز جنازہ ادا کرنے اورمحتاط تدفین علمائے کرام، ڈاکٹرز، اسلامی نظریاتی کونسل سے رہنمائی لی جائے۔ کرونا سے فوت ہونے والے شہید ہیں ان کو خدارا اچھوت نہ بنائیں۔

مساجد کے ایس او پیز (SOPs)کی تبدیلی:

۔چھ فٹ کا فاصلہ کسی اور جگہ لاگو نہیں کیاگیا سوائے مساجد کے، لہٰذا مساجد کے نمازیوں پر چھ فٹ کے فاصلے کی پابندی ناانصافی پر مبنی ہے۔ تین فٹ کا فاصلہ کافی سمجھا جانا چاہیے۔

۔ہماری معاشرت یہ ہے کہ لوگ وضومسجد میں آکر کرتے ہیں لہٰذا مساجد میں استنجا اور وضوکی اجازت ہونی چاہیے تاہم وضو کرتے وقت تین فٹ کا فاصلہ رکھنا ضروری ہے۔

۔سندھ حکومت جمعہ کے دن بارہ بجے سے تین بجے تک سخت لاک ڈاؤن کرتی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی جمعہ نہ پڑھے۔یہ بالکل ناقابل قبول ہے اور علمائے کرام کو چاہیے کہ یہ حکم جاری کرنے پر وہ سندھ حکومت کی مذمت کریں اور اس پابندی کو قبول کرنے سے انکار کردیں۔

۔”کرونا سے ڈرنا نہیں لڑناہے“اور کرونا کو شکست دینے کی بات اور سلوگن چھوڑ دیں۔آپ کیا لڑ سکتے ہیں اور کیا شکست دے سکتے ہیں، بچت صرف استغفار،دعاؤں اور عاجزی میں ہے۔

مزید :

رائے -کالم -