عامر تہکالی کے حق میں صوبہ بھر میں احتجاجی مظاہرے، واقعے کی شدید مذمت

عامر تہکالی کے حق میں صوبہ بھر میں احتجاجی مظاہرے، واقعے کی شدید مذمت

  

 پشاور،اضلاع (سٹی رپورٹر،نمائندگان پاکستان) پشاور میں دوسرے دن بھی تہکال پولیس کے خلاف مختلف طلبہ تنظیموں اور سول سوسائٹی تنظیوں سمیت عوام نے پشاور پریس کلب اور صوبائی اسمبلی کے سامنے مشترکہ احتجاجی مظاہرے کیے جبکہ عامر تہکالی کے حق میں نعرے لگائے،اور مظاہرین نے پشاور پریس کلب کے سامنے سڑک بند کر احتجاج ریکارڈ کرویا اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی جبکہ بعد میں مطاہرین نے پیدل صوبائی اسمبلی کا رخ کیا اور احتجاج ریکارڈ کرویا،مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جس پر تہکال پولیس کے خلاف نعرے درج تھے اور پولیس مردہ بار کے فلک شگاف نعرے لگائے جبکہ عامر تہکالی کو انصاف فراہم کرنے کے متعلق بھی نعرے درج تھے مشترکہ احتجاجی مظاہرے میں پاکستان انٹرنیشنل ہیومن رائٹس آرگنائزیشن،مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن،پیپل سٹوڈنٹس فیڈریشن اور کثیر تعداد میں عوام نے شرکت کی اس موقع پر مظاہرء نے تہکال میں ہوئے واقع پر شدید غم و غصہ کا اظہار کیا اور تہکال پولیس کے نا مناسب راویہ کو انسانییت سوز قرار دیا۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ عامر تہکالی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائر کر کے اس پر ظلم و جبر کی انتہا کی گئی جسکی وجہ سے اسکے خاندان انتہائی اذییت میں مبتلا ہے جبکہ نا زیبا ویڈیو سے پختون کلچر کا بھی دھچکا لگا ہے جسکی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے انہوں نے کہا کہ عامر تہکالی کے واقع نے پولیس کو بے نقاب کر دیا اب وقت اگیا ہے کہ پولینگ کو بہتر بنانے کیلئے اقدامات کیے جائے اور پولیس تھانہ کلچر اب تبدیل ہونا چاہئے تاکہ غریبوں کو انصاف کی ھصول میں اسانی ہو۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی ذماداری بنتی ہے کہ تھانوں میں پہلے سلام پھر کلام کے کلچر سمیت،ڈی ار سی کمیاٹیان فعال کی جائے تاکہ 18سال سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دینے والی پولیس کو متانزعہ ہونے سے بچایا جا سکے۔مظاہرین نے مطالبہ کیاکہ پولیس میں مجود کالی بھڑیوں کو بے نقاب کر کے خیبر پختونخوا پولیس کو گندگی سے صاف کیا جائے اور عامر تہکالی کے کیس میں ملوث تمام اہلکاروں کو سزا دے کر عبرت کا نشان بنایا جائے جبکہ تفتیشی کمروں میں کیمرے نصب کرنے سمیت دیگر اقدامات اٹھائے جائے تاکہ پولیس کی کارکردگی عوام دوست بنائی جائے۔بعد ازاں مظاہرین نے پیدل صوبائی اسمبلی کا رخ کیا جبکہ اس دوران مظاہرین کی جانب سے ہوائی فائرنگ بھی کی گئی جبکہ صوبائی اسمبلی کے سامنے مشتعل مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے لاٹھی چارج اور گیس ا بھی استعمال کیا گیا ٭عامر تہکالی کے حق میں صوبہ بھر میں احتجاجی جلوس نکالے جا رہے ہیں جبکہ پشاور میں یہ سلسلہ دو روز سے جاری ہے جسمیں مختلف طلبہ تنظیمیں اور سول سوسائٹی پولیس گردی کے خلاف سڑکوں پر نکل ائے ہے تاہم اس سارے صورت حال میں عوام کو سڑکیں بند ہونے سے کافی ازییت سے گزرنا ہوتا ہے جبکہ لاک ڈاون حالات میں جہاں ہفتہ میں پانچ دن کاروبار کرنے کی اجازت ہوتی ہے،وہاں جمعہ کے روز احتجاج کی وجہ سے میں شاہرائے بند ہونے سے کاروباری معاملات متاثر ہونے کیساتھ ساتھ عوام کو امد ورفت میں بھی شدید مشکلات درپیش رہے۔تفصیلات کے مطابق جمعرات سے شروع ہونیوالے احتجاجی مظاہرروں میں صدر اور دیگر بازاروں کے راستے بند ہونے سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑھ رہا ہے جبکہ گاڑیوں کی ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوئی ہے۔عوامی حلقوں نے اس سارے صور حال پر افسوس کا ظہار کرتے ہوئے کہا کہ اھتجاج زندہ قوموں کی نشانی لیکن اسکا یہ مطلب نہیں کہ سڑکیں بند کر کے توڑ پوڑ کر کے کسی کو نقصان پہنچایا جائے بلکہ پر امن طریقی سے اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے کی ضرورت ہے ٭صوبائی دارلحکومت پشاور پچھلے دو دنوں سے احتجاجی مظاہروں کی وجہ سے میدان جنگ بنا ہوا اور تہکال پولیس گردی کے خلاف عوام سڑکوں پر نکل ائے ہیں جبکہ مظاہرین کی جانب سے کورونا سے بچاو کے ایس او پیز پر مظاہروں کے دوران کوئی خیال نہیں رکھا جا رہا جسکی وجہ سے کورونا کیسز میں پھیلاو کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے،شہر میں جاری پولیس کے خلاف مظاہرروں میں ایس او پیز کا کوئی خیال نہیں جا رہا جسکی وجہ سے کورونا پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے دوسری جانب پولیس بھی مشتعل مظاہرین کو کنٹرول کرنے میں بے بس ہو چکی ہے جبکہ ضلعی انتظامیہ تو پہلی ہی عوامی جگہوں پر کورونا سے بچاو کے حفاظتی تدابیر پر عمل درآمد کروانے مین نا کام رہی ہے ٭پشاور(سٹی رپورٹر) اپوزیشن جماعتوں اوپشاور قومی جرگہ نے عامر تہکالی کے ساتھ پولیس کی زیادتی اور برہنہ ویڈیو بنانے کیخلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیاجس میں جمعیت علمااسلام (ف) عوامی نیشنل پارٹی، قومی وطن پارٹی، پیپلزپارٹی، جماعت اسلامی سمیت پشاور قومی جرگہ کے کارکنوں، سوشل ورکرزنے کثیرتعداد میں شرکت کی اور پلوسی روڈ، یونیورسٹی روڈ کو عام ٹریفک کے لئے بند کرکے پی ٹی آئی حکومت اور خیبرپختونخوا پولیس کے خلاف مشتعل نوجوانوں شدید نعرہ بازی کی۔ احتجاجی مظاہرے میں جے یوآئی مرکزی رہنما حاجی غلام علی، صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری امان اللہ حقانی،سابق اراکین صوبائی اسمبلی محمد عاطف خلیل، عالمگیر خلیل، یاسین خلیل، رفاقت شاہ باچا، جماعت اسلامی کے کاشف اعظم چشتی، پشاور قومی جرگہ کے خالد ایوب سمیت قومی وطن پارٹی اور پیپلز پارٹی کارکنوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ ا حتجاجی مظاہرے سے خطاب ہوئے حاجی غلام علی، امان اللہ حقانی، یاسین خلیل، محمد عاطف خان اور عالمگیر خلیل ودیگر رہنماں نے کہاکہ صوبائی حکومت نے جوڈیشنل انکوائری مقررکرکے پندرہ دن میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی ہے لیکن پولیس کے ان کالی بھیڑ وں کی وہی سزا دی جائے جو انہوں نے طاقت کے نشے میں عامر تہکالی کو دی ہے تاکہ نہ صرف نشان عبرت بن سکے بلکہ ملک بھر اور خاص خیبرپختونخوا کے عوام میں پائے جانے والے غم اور غصہ کا ازالہ ہوسکے، انہوں نے کہاکہ پولیس کے چند غنڈوں نے قانون، آئین سے بالا تر ہوکر وہ اقدام کیا ہے جس سے خیبر پختونخوا پولیس کے 72سالہ کارناموں اور شہادتوں کو خاک میں ملانے کی ناپاک کوشش کی۔ انہوں نے کہاکہ پولیس نے اسلام اور پشتون روایت کے منافی کام کیا ہے اور صرف معطلی سے عوام کے جذبات ٹھنڈے نہیں ہونگے۔انہوں نے کہاکہ پولیس کے ساتھ ہماری کوئی دشمنی نہیں اورہم یہ بھی نہیں چاہتے عوامی جذبات کو ٹھنڈا کرنے کے لئے دیگر بے گناہ آفسران کو معطل کیا جائے اور اسلام ہمیں یہ درس دیتاہے کہ کان کے بدلے کان اور آنکھ کے بدلے آنکھ جس نے کیا اسی کووہی سزا ملنی چاہئے۔انہوں نے کہاکہ نااہل حکمرانوں نے پولیس سمیت ہر ادارہ تباہ برباد کیاہے۔ مظاہرے میں کثیرتعداد میں نوجوانوں نے شرکت کی جو کافی مشتعل تھے لیکن قیادت سے پرامن احتجاجی کے مطالبے پرامن رہے۔ مشتعل مظاہرے نے پولیس اور حکومت کے خلاف شدید نعرہ بازی کی جبکہ یونیورسٹی روڈ عام ٹریفک کے لئے بند کرکے پرامن احتجاجی مظاہر ہ کیا۔مظاہرے کی وجہ سے ٹریفک شدید جام ہوگئی اور یونیورسٹی اور پلوسی روڈ پر گاڑیون کی لمبی لمبی قطاریں لگ گئی٭شیرگڑھ،ہاتھیان اور لوند خوڑ میں تہکال واقعہ کے خلاف شدید احتجاج نوجوان پر تشدد اور برہنہ کرکے ویڈیو بنانا کھلی دہشتگردی ہے سوشل میڈیا پروائرل ہونے والی ویڈیو سے تھانوں کے اصل ماحول کا چہرہ بے نقاب ہوگیا مقررین کا خطاب تفصیلات کے مطابق تہکال میں عامر نامی نوجوان پر پولیس تشدد اور انہیں برہنہ کرکے ویڈیو بنانے پر پشاور پولیس کے ناروا سلوک کے خلاف انجمن تحفط دکاندان شیر گڑھ کے اہتمام احتجاجی ریلی نکالی گئی اور احتجاجی مظاہرہ کیا گیا مظاہرین سے سابق صوبائی وزیر فضل ربانی ایڈوکیٹ،بازار کے صدر ارشاد عزیز،شیرگڑھ پریس کلب کے صدر بخت اللہ جان حسرت، عثمان شاہ،مبارک زیب پائندہ خیل اور مولانا امین الحق نے خطاب کیا انہوں نے کہا کہ نوجوان عامر پر تشدد کرنے والے پولیس اہلکاروں کی صرف معطلی قبول نہیں انہیں ملازمت سے برخاست کرکے سنگین سزا دی جائے ہاتھیان اور لوند خوڑ میں جماعت اسلامی کے زیر اہتمام احتجاجی ریلیاں نکالی گئی اور مظاہرے ہوئے اس موقع جماعت اسلامی ضلع مردان کے نائب امیر غلام رسول،عظیم قریشی سابق ڈسٹرکٹ ممبر مولانا انور خان اور دیگر نے خطاب کیا اور واقعے میں ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کیا٭ پشاور میں پولیس گردی کے خلاف جے ائی یوتھ ضلع دیر لوئر کے زیر اہتمام پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا مظاہرے میں جے ائی یوتھ کے کارکنوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی، اس موقع پر جے ائی یوتھ کے کارکنوں نے بینرز اور پلے کارڈ ز اٹھائے تھے جس پر حکومت اور پولیس کے خلاف نعرے درج تھے،مظاہرین نے پشاور پولیس کے خلاف شدید نعرے بازی کی،احتجاجی مظاہرے سے جے ائی یوتھ کے ضلعی صدر فارو ق حمید اللہ، جماعت اسلامی کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری انجینئر یعقو ب الرحمن،سیکرٹری اطلاعات شعیب، جے ائی یوتھ تحصیل بلامبٹ کے صدر معراج الحق،تحصیل تیمرگرہ کے صدر عزیز اللہ،تحصیل ادینزی کے صدر عبید اللہ تاجک،تحصیل لعل قلعہ کے صدر انورسید ایڈوکیٹ اورضلعی نائب صدر احمد جان نے واقعہ کو دہشت گردی قرار دیا اور کہاکہ خیبر پختون خواہ کی مثالی پولیس کی پشاور تہکال میں عامرتہکالی پر انسانیت سوز مظالم کرکے مثالی پولیس کی کارکردگی واضح کر دی،انھوں نے کہاکہ باتوں سے حکومت نہیں چلتی عملی کام کرنا ہونگے انھوں نے پولیس انکوئری کو مستر کرتے ہوئے چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کی سربراہی میں عدالتی کمیشن قائم کرنے سمیت ملوث افراد کے خلاف سخت کاروائی کرنے کا مطالبہ کیا،جے ائی یوتھ کے رہنماؤں نے کہاکہ معاشرہ میں ہر ظلم کے خلاف جے ائی یوتھ آواز بلند کرنے اورہر مظلوم کی حمایت جاری رکھے گی۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -