ضم شدہ اضلاع میں ابھی تک عدالتوں کا قیام ممکن نہیں ہوسکا

ضم شدہ اضلاع میں ابھی تک عدالتوں کا قیام ممکن نہیں ہوسکا

  

پشاور(نیوز رپورٹر)خیبرپختونخوا میں انضمام کے تقریبا دوسال گزرنے کے باوجود ضم شدہ اضلاع میں عدالتوں کا قیام ممکن نہ ہوسکاجبکہ اس حوالے سے پشاورہائیکورٹ کی جانب سے تقریبا10ماہ قبل بھیجے گئے مراسلے پر بھی تاحال کوئی پیش رفت نہ ہوسکی جسکی وجہ سے ان اضلاع کے مقدمات نمٹانے میں کئی دشواریوں کا سامنا ہے ذرائع کے مطابق پشاورہائیکورٹ انتظامیہ نے 10ماہ قبل انسداد دہشتگردی اور دیگر عدالتوں کے قیام کیلئے صوبائی حکومت کوتقریبا 10ماہ قبل سفارشا ت بھیجی تھیں کہ ان اضلاع میں دوسرے صوبوں کی طرح باقاعدہ عدالتی نظام ہونا چاہیے جبکہ اس دوران بھی متعدد باریاددہانی کرائی گئی تاہم اس حوالے سے ہائیکورٹ کو اب تک کوئی جواب موصول نہ ہوسکا جسکی وجہ سے ان اضلاع کے مقدمات نمٹانے کے علاوہ دیگر مشکلات درپیش ہیں قبائلی اضلاع میں عدالتوں کے قیام کے حوالے سے سپریم کورٹ اور حکومتوں کو وقتا فوقتا آگاہ کیاجاتا رہا ہے اگرچہ صوبائی حکومت نے نئے مالی سال کے بجٹ میں قبائلی اضلاع میں عدالتوں کے قیام کیلئے تقریبا 10کروڑ روپے تجویز کیے ہیں تاہم اس پر بھی عملدرآمد ہونا باقی ہے ادھرمناسب وسائل وانفرسٹرکچر نہ ہونے کے باوجود پشاور ہائیکورٹ کی نگرانی میں ان اضلاع میں پچھلے چھ ماہ کے دوران 5264مقدمات کو نمٹایا گیا اس دوران 6017مقدمات داخل ہوئے جبکہ زیرالتواء کیسز کی تعداد 6237رہی ہے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے سبب ان اضلاع میں بھی اپریل اور مئی کے مہینوں میں لگ بھگ 1100مقدمات ہی داخل ہوسکے تھے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -