بنوں، ٹیکسی ڈرائیور کے قاتلوں کی عدم گرفتاری، مشران سراپا احتجاج

  بنوں، ٹیکسی ڈرائیور کے قاتلوں کی عدم گرفتاری، مشران سراپا احتجاج

  

بنوں (بیورورپورٹ)ٹیکسی ڈڑائیور کے قاتلوں کی گرفتاری اور موٹر کار کی برٓمدگی کیلئے احمد زئی وزیر کے مشران نے پولیس اور حکومت کو مذید مہلت نہ دینے کا اعلان کردیا اور 30جون تک قاتلوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے،موٹر کار واپس کرنے اور احتجاج کرنے احمد زئی وزیرکے17مشران کے خلاف مقدمات ختم نہ کرنے کی صورت میں یکم جولائی کو انڈس ہائی ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند کرنے کا اعلان کردیااور کہا کہ اسکے بعد جو بھی نقصان ہوگا ذمہ دار ڈی آئی جی،ڈی پی اور ڈی ایس پی ہوں گے یہ اعلان اللہ خان چھپر ٹاؤن شپ میں منعقدہ احمد زئی وزیر کے مشران کے گرینڈ جرگے میں سابق ایم پی اے فخراعظم ایڈوکیٹ،سابق ایم پی اے ملک عالمگیر خان،سابق تحصیل ناظم ڈومیل فدامحمد خان،حاجی ملک عمر حیات خان،ملک تاج محمد خان،سابق ڈسٹرکٹ ممبر حلیم زادہ وزیر،پی ٹی آئی کے تحصیل صدر ملک اسرار خان،ملک اللہ خان، ودیگر مشران نے کیا مقررین نے وزیر اعظم عمران خان،وزیر اعلیٰ محمود خان،آئی جی خیبر پختونخوا،کمشنر بنوں،ڈی آئی جی بنوں اور ڈی پی او بنوں سے پرزور مطالبہ کیا کہ قاتلوں کو گرفتار کرکے قوم کو انصاف فراہم کیا جائے اور مشران کے خلاف مقدمات ختم کئے جائیں انہوں نے کہا کہ احمد زئی وزیر قبائل نے کوئی دہشت گردی نہیں کی ہے بلکہ عمرازئی قبیلے کے ٹیکسی ڈرائیور سید رحمان سے دن دیہاڑے موٹر کار بھی چھینی گئی اور انہیں قتل بھی کیا گیا جسکی ویڈیو بھی پولیس کو ملی ہے اسکے باوجود سابق ڈی ایس پی سرداد خان نے مقتول فریق سے ساڑھے چھ لاکھ روپے لیکر ملزمان گرفتار کرنے اور موٹر کار واپس کرنے کا وعدہ کیا لیکن بعد میں مقتول فریق کو کہا کہ ہم نے وزیر قوم کے ملزمان گرفتار کرلئے ہیں خاندان والے دعویداری کریں خاندان والوں نے انکار کیا کہ ہم کسی پر دعویداری نہیں کرسکتے پولیس ملزمان کو ڈھونڈیں پھر بنوچی افراد کو گرفتار کرلیا لیکن ورثاء نے پر دعویداری سے انکار کیا جسکے بعد قوم کے ہزاروں افراد نے سڑک بند کرکے احتجاج کیا تو ڈی پی او اور ڈی ایس پی نے تین ملزمان قوم کے سمانے پیش کئے اور کہا کہ164کے تحت اقبال جرم کریا ہے اور جب قوم نے احتجاج ختم کیا تو بعد میں مقتول کے ورثاء پر دباؤ ڈالا گیا کہ اپ ان ملزمان پر دعویداری کریں جس سے ثابت ہوا کہ پولیس ناکام ہے اور اپنی ناکامی چھپانے کیلئے قوم کے17مشران پر تمام وہ مقدمات درج کرلئے جو کہ پاکستان کے آئین اور قانون میں موجود ہیں لیکن قوم مقدمات سے ڈرنے والی نہیں اگر30اگست تک ہمیں انصاف نہ ملاز قاتلوں کے خلاف مقدمات درج نہ ہوئے موٹر کار برآمد ہنے کے ساتھ ساتھ قوم کے مشران کے خلاف درج بے بنیاد مقدمات ختم نہ کئے گئے تو یکم جولائی کو انڈس ہائی وے بنوں کو اس وقت تک بند رکھیں گے جب تک مقتول کے ورثاء کو انصاف نہیں ملتا۔اور قاتلوں کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جاتا۔بصورت دیگر قوم کے ہزاروں نوجوان اور مشران خود ہی جیل بھرو تحریک شروع کردیں گے حکومت کے پاس جیلیں کم پڑ جائیں گی اور قوم کسی بھی قسم کے احتجاج اور جلسہ جلوس سے گریز نہیں کریگی۔اور تمام تر نقصان کی ذمہ داری حکومت اور بنوں پولیس پر ہوگی۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -