کورونا وباء کی وجہ سے عدالتوں میں مقدمات داخل کرنے میں نمایاں کمی

کورونا وباء کی وجہ سے عدالتوں میں مقدمات داخل کرنے میں نمایاں کمی

  

پشاور(نیوز رپورٹر) کورونا وباء کے سبب پشاور ہائیکورٹ سمیت ماتحت عدالتوں میں مقدمات داخل کرنے کی تعدادمیں نمایاں کمی آئی ہے جبکہ عدالتی کارکردگی بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے ہائیکورٹ میں اپریل اور مئی کے مہینوں میں صرف اڑھائی ہزارمقدمات ہی داخل ہوسکے عدالت عدالیہ نے چھ ماہ کے عرصہ کے دوران 13 ہزار 401 کیسز نمٹائے جبکہ زیرالتواء مقدمات کی تعداد40 ہزار 722 رہ گئی ہے پشاور ہائیکورٹ میں دسمبر2019سے مئی 2020تک عدالتوں کی کارکردگی سے متعلق پریس کانفرنس کرتے ہوئے رجسٹرار پشاور ہائیکورٹ خواجہ وجیہہ الدین نے کہا کہ تقریبا ایک ماہ تک وکلاء بائیکاٹ اور پھرکورونا وباء کے باعث عدلیہ کو بھی کئی چیلنجز کا سامنا رہا اور اس سے جوڈیشری کے کام پر بھی اثر پڑاعدلیہ کی پہلے کامیاب کارکردگی سال کے بعد 2019-20کو کارکردگی کادوسرا سال قراردیاگیا تھا اورنئے مقدمات داخل ہونے کی نسبت زیادہ تر زیرالتواء کیسز نمٹائے گئے اس طرح کیسز نمٹانے کی شرح 98فیصد رہی ہے اس موقع پرممبرانسپکشن ٹیم پشاورہائیکورٹ محمد زبیرخان ودیگرافسران بھی موجود تھے رجسٹرارپشاورہائیکورٹ کا کہنا تھا کہ ہائیکورٹ میں فرسٹ اور سیکنڈ کوارٹر میں 15ہزار 414 مقدمات داخل کیے گئے جبکہ 13 ہزار 401 کیسز نمٹائے گئے جہاں اس وقت زیر التوا کیسز کی تعداد 40 ہزار 722 ہے کورونا وبااورماہ دسمبر اور جنوری میں وکلاء بائیکاٹ نہ ہوتا تو ہائیکورٹ میں زیر التوا کیسز 40 ہزار کی بجائے اب 35 ہزار تک ہوتے رجسٹرارخواجہ وجیہہ الدین کا کہنا تھا کہ ضلعی عدالتوں میں پہلے اوردوسرے کوارٹر میں 1لاکھ 72 ہزار 708 کیسز فائل ہوئے ڈسٹرکٹ جوڈیشری نے 1لاکھ 67 ہزار 936 مقدمات نمٹائے جہاں اس وقت 2 لاکھ 1ہزار697 کیسز زیرسماعت ہیں اوراگر کورونا وبا نہ ہوتا توان کیسز کی تعداد 1لاکھ 82 ہزار 730 ہوتی ایک سوال کے جواب میں رجسٹرارخواجہ وجیہہ الدین نے کہا کہ عدلیہ میں شفافیت کو ترجیح دی گئی ہے اورتمام معلومات لوگوں تک پہنچائی جارہی ہیں اسی طرح تمام تر توجہ کارکردگی بہتربنانے، نئی عدالتیں قائم کرنے اورمقدمات جلد نمٹانے پرمرکوز ہیں تاکہ لوگوں کو فوری ریلیف مل سکے ایک دوسرے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پشاورہائیکورٹ میں سپیشل سیل کورونا کے حوالے سے مانیٹرنگ کررہا ہے جو ڈسٹرکٹ جوڈیشری کیساتھ بھی مسلسل رابطے میں ہے انہوں نے کہا کہ کورونا سے ہائیکورٹ اور ماتحت عدالتوں کے متاثرہ اہلکار تیزی سے صحتیاب ہورہے ہیں اورکئی اہلکاروں کے ٹیسٹ بھی نیگیٹو آچکے ہیں۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -