حکومت فلم کے شعبے کو باقاعدہ صنعت کا درجہ دے،فنکار

حکومت فلم کے شعبے کو باقاعدہ صنعت کا درجہ دے،فنکار

  

لاہور(فلم رپورٹر)شوبز کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات کا کہنا ہے کہ فلم انڈسٹری کی صورتحال ویسی نہیں جیسے دعوے کئے جاتے ہیں، وفاقی حکومت فلم کے شعبے کو باقاعدہ صنعت کا درجہ دے اور اس میں سرمایہ کاری کیلئے فنڈ قائم کرنے کا اعلان کرے۔ شوبز شخصیات نے کہا کہ فلم انڈسٹری سے ہزاروں خاندان وابستہ تھے مگر فلم انڈسٹری کے زوال کے بعد ان کے گھروں کے چولہے بھی ٹھنڈے پڑ چکے ہیں۔شاہد حمید،معمر رانا،مسعود بٹ،حسن عسکری،شان،سید نور،میلوڈی کوئین شاہدہ منی،صائمہ نور،میگھا،ماہ نور،انیس حیدر،ہانی بلوچ،یار محمد شمسی صابری،سہراب افگن،ظفر اقبال نیویارکر،عذرا آفتاب،حنا ملک،انعام خان،فانی جان،عینی طاہرہ،عائشہ جاوید،میاں راشد فرزند،سدرہ نور،نادیہ علی،شین،سائرہ نسیم،صبا ء کاظمی،،سٹار میکر جرار رضوی،آغا حیدر،دردانہ رحمان،ظفر عباس کھچی،سٹار میکر جرار رضوی،ملک طارق،مجید ارائیں،طالب حسین،قیصر ثنا ء اللہ خان،مایا سونو خان،عباس باجوہ،مختار چن،آشا چوہدری،اسد مکھڑا،وقا ص قیدو، ارشدچوہدری،ساجد حسن،چنگیز اعوان،حسن مراد،حاجی عبد الرزاق،حسن ملک،عتیق الرحمن،اشعر اصغر،آغا عباس،صائمہ نور،خالد معین بٹ،مجاہد عباس،ڈائریکٹر ڈاکٹر اجمل ملک،کوریوگرافر راجو سمراٹ،صومیہ خان،حمیرا چنا،اچھی خان،شبنم چوہدری،محمد سلیم بزمی،سفیان،انوسنٹ اشفاق،استاد رفیق حسین،فیاض علی خاں،پروڈیوسر شوکت چنگیزی،ظفر عباس کھچی،ڈی او پی راشد عباس،پرویز کلیم، نجیبہ بی جی، تنویر آفریدی،عینی رباب، اسلم شیخ، فیصل قریشی،حمیرا، اعجاز اسلم، صبا قمر، عروج،جاوید کالا،ڈاکٹر تبسم،یاسر حسین، یاسر شکیل، بشیر دانہ والا،سہیل کاشمیری، تبسم سینئر،کبیر مغل اوردیگر کا کہنا ہے کہ دور میں فلم انڈسٹری کیلئے پالیسی بنانے کا اعلان کیا گیا لیکن اس پر عملی پیشرفت نہیں کی گئی، موجودہ حکومت بھی اس کا اعلان کرچکی ہے لیکن ابھی تک صرف زبانی دعوے ہی سامنے آئے ہیں۔جب تک حکومت فلم کے شعبے کو صنعت کے طو رپر تسلیم نہیں کرتی ترقی ممکن نہیں۔ حکومت اس کیلئے پانچ ارب کا فنڈ قائم کرے اور پرائیویٹ سیکٹر سے جوائنٹ ونچر کرنے کا منصوبہ لایا جایا پھر دیکھیں ہماری انڈسٹری کیوں ترقی نہیں کرتی بس اس کے لئے حکومت کی جانب سے سرپرستی کی ضرورت ہے۔ جب نجی شعبے سے سرمایہ کاروں کو یہ یقین ہو گا کہ ان کے سرمائے کے ساتھ حکومت کی بھی سرمایہ کاری ہے اور یہ محفوظ ہے تو لوگ بڑھ چڑھ کر نئی فلموں کیلئے سرمایہ کاری کریں گے۔

مزید :

کلچر -