لاہور ہائیکورٹ نے بد اخلاقی کیسز میں شواہد اکٹھے کرنے کیلئے 15رہنما اصول وضع کر دیئے

لاہور ہائیکورٹ نے بد اخلاقی کیسز میں شواہد اکٹھے کرنے کیلئے 15رہنما اصول وضع ...

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی)لاہور ہائیکورٹ نے بد اخلاقی اور خلاف فطرت بے حرمتی کے مقدمات میں شواہد اکٹھے کرنے کیلئے 15 رہنمااصول وضع کر تے ہوئے ان پر عملدرآمد کا حکم جاری کردیا۔مسٹرجسٹس طارق سلیم شیخ نے یہ حکم دس سالہ بچے سے بداخلاقی کے ملزم ڈجکوٹ کے ایاز شمس کی درخواست ضمانت مسترد کرتے ہوئے جاری کیا۔عدالت نے وضع کردہ اصولوں پر عملدرآمد نہ کرنیوالے میڈیکل افسروں کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی کی ہدائت بھی کی ہے۔ فاضل جج کے اس 11 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے کو عدالتی نظیر بھی قرار دیا گیا ہے۔ تحریری فیصلے میں مذکورہ مقدمات کے شواہد اکٹھے کرنے کا طریقہ کار بین الاقوامی طرز پر طے کیا گیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ فرانزک سائنس بد اخلاقی کے مقدمات میں شواہد اکٹھے کرنے کیلئے بنائی گئی مخصوص کٹس استعمال کرے، متاثرہ فرد کے متعلقہ کپڑے اور دیگر پارچہ جات لازمی طور پر جنسی حملہ کٹس کے لفافے میں بند کئے جائیں۔ وقوعہ کی ہسٹری معلوم کرنے کے بعد تمام شواہد اکٹھے کئے جائیں، میڈیکولیگل رپورٹس میں خاص طور پر جنسی حملے سے متعلق اکٹھے کئے گئے شواہد کی تفصیل بھی درج کی جائے، میڈیکل کرنیوالے افسر لازمی دیکھیں کہ حملہ کیسے ہوا، وقوعہ کو کتنا وقت گزر چکا۔میڈیکل کرنیوالا افسر سرٹیفکیٹ میں تحریر کرے کہ بداخلاقی کے حملے کے بعد متاثرہ فرد کی جنس، عمر اور ذہنی کیفیت کیا ہے۔ متاثرہ فرد اگر وقوعہ سے متعلق بتانے کے قابل نہ ہو تو متاثرہ فرد کی جسمانی کیفیت کا جائزہ لیکر مکمل شواہد اکٹھے کئے جائیں، حملے کے بعد متاثرہ فرد کے دانت برش کرنے، نہانے، الٹی کرنے یا پیشاب کرنے جیسے اقدامات کیس پر اثرات ڈال سکتے ہیں۔متاثرہ فرد کے لئے گئے نمونے انتہائی معنی رکھتے ہیں۔حملے سے متعلق متاثرہ فرد سے تمام معلومات انتہائی احتیاط سے لی جائیں۔ متاثرہ فرد کے نہانے کے بعد بھی متاثرہ جگہ سے لیا گیا نمونہ اہمیت کا حامل ہو گا،اس لئے متاثرہ فرد کے نہانے کے بعد بھی اندرونی اور بیرونی نمونے لازمی حاصل کئے جائیں۔متاثرہ فرد کے جسم پر استعمال ہونیوالے ٹشو پیپرز اور کپڑے وغیرہ کو لمبا عرصہ گزرنے کے باوجود بھی شواہد کا حصہ بنایا جائے،متاثرہ فرد سے حاصل شدہ کپڑوں اور ٹشو پیپرز کو ڈی این اے تجزیہ کیلئے لازمی بھجوایا جائے، متاثرہ فرد کے جسم سے نمونے حاصل کرتے ہوئے مواد پر نمبرز بھی لگائے جائیں۔عدالت نے قرار دیا کہ متاثرہ فرد کے جسم سے نمونہ حاصل کرنے کیلئے صرف سٹرلائزڈ آلات کا استعمال کیا جائے۔متاثرہ فرد کے جسم سے لئے گئے نمونے کے مواد کو ہوا میں خشک کیا جائے پھر کٹ میں پیک کیا جائے۔متاثرہ فرد کے کپڑوں پر لگے خون کو بھی پہلے خشک کیا جائے اور پھر فرانزک کے مخصوص لفافے میں بند کیا جائے۔عدالت نے قرار دیا کہ سائنسدان اور وکلاء متفق ہیں کہ ڈی این اے اور فنگر پرنٹس کیس کی تحقیقات کیلئے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔سپریم کورٹ کے فیصلوں میں بھی انصاف کی فوری فراہمی میں ڈی این اے کی اہمیت کو تسلیم کیا گیا ہے۔عدالت نے مزید قرار دیا کہ بد اخلاقی کے مقدمات میں فرانزک سائنس ایجنسی کے ایس او پیز کے تحت نمونے حاصل نہ کرنے والے محکمہ صحت کے افسروں کیخلاف کارروائی نہ کرنا مایوس کن امرہے۔محکمہ صحت پنجاب نمونے حاصل کرنے کیلئے ایس او پیز پر عملدرآمد کو یقینی بنائے اور وضع کردہ اصولوں پر عملدرآمد نہ کرنیوالے میڈیکل افسروں کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ 10 سالہ بچے سے 2019ء میں بداخلاقی کے مقدمہ میں گرفتار ایاز شمس نے ضمانت کے لئے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

عدالتی نظیر فیصلہ

مزید :

صفحہ آخر -