پمز ہسپتال میں نرسز کی کمی سے کورونا کے مریضوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق

پمز ہسپتال میں نرسز کی کمی سے کورونا کے مریضوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق

  

اسلام آباد(آن لائن)پمز ہسپتال میں نرسز کی کمی کے باعث آئی سی یو اور وینٹی لیٹرز پر موجود مریضوں کی زندگیوں کو مزید خطرات لاحق ہو گئے، 16وینٹی لیٹرز پر موت و زندگی کی جنگ لڑنے والے مریضوں پر صرف 5نرسز کی تعیناتی کے انکشاف نے حکومتی کارکردگی پر سوالیہ نشان اٹھا دیا ہے،انتہائی معتبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پنجاب، بلوچستان اور گلگت بلتستان سمیت کشمیر سے آنیوالے کورونا کے مریضوں کیلئے واحد امید کی کرن پمز ہسپتال اسلام آباد ہے جس میں اس وقت سٹاف کی کمی کے باعث انتظامیہ سمیت دیگر شعبوں میں کام کرنیوالے پیرامیڈیکس، نرسز، ڈاکٹرز سب پریشان دکھائی دینے لگے ہیں۔حکومت کی جانب سے پمز ہسپتال میں مزید بیڈ اور وینٹی لیٹرز دینے کے اعلان کے بعد مریضوں میں خوشی کی لہردوڑی ہے جبکہ نرسز و انتظامیہ میں پریشانی دکھائی دینے لگی ہے۔رجسٹرار آفس ذرائع کے مطابق اس وقت آئی سی یو اور وینٹی لیٹرز پر 16مریض موجود ہیں اور ان پر پانچ نرسز تعینات ہیں اور وہ ایک لمحہ آرام کیے بغیر 8گھنٹے تک انتہائی مشکل حالات میں اپنے فرائض سرانجام دے رہی ہیں۔اگر باامر مجبوری کسی بھی شفٹ کی کوئی نرس ڈیوٹی پر نہ پہنچ پائے تو انتظامیہ کے پاس کوئی متبادل راستہ نظر نہیں آتا اور اس حوالے سے حکومت نے مزید پمز ہسپتال کی نرسز پر بوجھ بڑھانے کیلئے 30وینٹی لیٹرز مہیا کرنے کی نوید سنائی ہے۔

نرسوں کی کمی

مزید :

صفحہ آخر -