خیبر پختونخوا نے تہکال واقعہ کی جوڈیشل انکوائری کا اعلان کردیا

      خیبر پختونخوا نے تہکال واقعہ کی جوڈیشل انکوائری کا اعلان کردیا

  

پشاور (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک)صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت نے تہکال واقعے پر جوڈیشل انکوائری کرانے کا اعلان کردیا۔پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کے مشیر برائے اطلاعات اجمل وزیر کا کہنا تھا کہ ویڈیو منظرعام پر آنے کے بعد ملوث اہلکاروں کے خلاف فوری کارروائی کی اور اب جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کے لیے ہائیکورٹ کو مراسلہ ارسال کردیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مراسلے میں چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ سے ایک رکنی کمیشن کے لیے جج نامزدگی کی استدعا کی ہے، جوڈیشل کمیشن کی تحقیقاتی رپورٹ میں ملزمان کا تعین ہوگا اور ملزمان کوقانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔مشیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ جوڈیشل کمیشن کی تحقیقاتی رپورٹ عام کی جائے گی تاکہ سب حقائق سے باخبر ہوں۔ان کا کہنا ہے کہ واقعے پر احتجاج کرنے والے سرکاری املاک کو نقصان نہ پہنچائیں، قانون ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں اور حکومت انصاف کے تمام تقاضے پورے کر رہی ہے۔اجمل وزیرنے کہا کہ چند لوگوں کے غلط کام کے باعث پوری پولیس فورس کو برا کہنا ٹھیک نہیں۔دوسری جانب تہکال میں شہری پرپولیس تشدد کے خلاف صوبائی اسمبلی کے باہر آج بھی احتجاج کیا گیا۔مظاہرین نے اسمبلی کی عمارت پر پتھراؤ کیا جنہیں منتشر کرنے کے لیے پولیس نے شیلنگ کی۔اْدھر پشاورپریس کلب کے باہر بھی واقعے کے خلاف احتجاج کیا گیا جب کہ وکلاء نے بھی ہڑتال کی اور عدالتوں کا بائیکاٹ کیا۔خیال رہے کہ گزشتہ دنوں عامر نامی ملزم کی نشے کی حالت میں پولیس کو گالیاں دینے کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس کے بعد پولیس نے تہکال سے تعلق رکھنے والے شخص کو گرفتار کیا تھا۔پولیس لاک اپ میں ملزم کے ساتھ غیر اخلاقی سلوک کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس پر عوام نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا تھا۔واقعے میں ملوث اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) کو معطل جب کہ 3 اہلکاروں کو گرفتار کرلیا گیا تھا بعد ازاں سینیئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) آپریشنز ظہور بابر آفریدی کو بھی عہدے سے ہٹادیا گیا تھا۔

جوڈیشل انکوائری

مزید :

صفحہ آخر -