نشہ ہماری نسلوں کو تباہ کررہا ہے تدارک ضروری، عظمیٰ قریشی

      نشہ ہماری نسلوں کو تباہ کررہا ہے تدارک ضروری، عظمیٰ قریشی

  

ملتان ( سٹاف ر پورٹر) انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز نے "منشیات کے ناجائز استعمال اور غیرقانونی اسمگلنگ کے خلاف "عالمی یوم منایا تاکہ منشیات کے استعمال سے پاک ایک بین الاقوامی معاشرے کے مقصد کو حاصل(بقیہ نمبر21صفحہ6پر)

کرنے کے لئے عمل اور تعاون کو مستحکم کیا جاسکے۔ اس دن کو اس سال" انصاف برائے صحت، صحت برائے انصاف " کے عنوان کے تحت منایا گیا ہے وائس چانسلر ڈاکٹر عظمی قریشی نے کہا کہ نشہ ایک ایسی لعنت ہے جو ہماری نسلوں کو تباہ کر رہا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہمارا اخلاقی فرض ہے کہ ہم اپنے قریبی اور عزیزوں کو نشہ آور اشیاہ کے استعمال سے محفوظ رکھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ منشیات نے نہ صرف تعلیمی اداروں بلکہ معاشرے کو بھی متاثر کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ نوجوان کسی بھی ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں۔ منشیات کی روک تھام کے لئے ہم سب کو اپنا فرض ادا کرنا ہے تاکہ ہر سطح پر اس کا خاتمہ کیا جا سکے۔ رجسٹرار پروفیسر فرزانہ اکرم نے کہا کہ دور حاضر کا سب سے بڑا عظیم ترین المیہ منشیات ہے جنہوں نے انسانی زندگی کو مفلوج کر دیا ہے نشہ کرنے کے عادی شحض اپنی جان کے دشمن اور اپنے رب کے ایسے ناشکرگزار بندے ہیں جو اس کی عطا کردہ زندگی کی قدر کرنے کی بجائے اسے برباد کرنے پر تلے ہوتے ہیں اور منشیات فروش ملک و ملت کے وہ دشمن ہیں جو نوجوان نسل کو تباہ کرکے ملک کی بنیادیں کھوکھلی کر رہے ہیں۔ ماریہ کنول (انچارج انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز) نے کہا کہ منشیات کی لت پوری دنیا میں ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ اسے امیر اور غریب دونوں ممالک میں طرز زندگی کے طور پر اپنایا گیا ہے۔ منشیات اور شراب کا استعمال نہ صرف اخلاقی اقدار پر منفی اثر ڈالتا ہے بلکہ اس سے ملکی معیشت کو بھی نقصان ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں حکومت پاکستان موثر اقدامات اٹھا رہی ہے اور بہت جلد ہی ہم اس لعنت پر قابو پا لیں گے۔

عظمیٰ قریشی

مزید :

ملتان صفحہ آخر -