ڈہرکی، دو افراد اغواء ورثا ء کا بازیاب کرانے کیلئے احتجاجی مظاہرہ

ڈہرکی، دو افراد اغواء ورثا ء کا بازیاب کرانے کیلئے احتجاجی مظاہرہ

  

ڈہرکی (نامہ نگار) ڈہرکی کے علاقے کے مغویوں کی عدم بازیابی پر ورثاء نے احتجاجی مظاہرہ کیا بازیابی کامطالبہ تفصیل کے مطابق ڈہرکی کے نواحی علاقے بوڑی سے اغوا ہونے والے دو مغویوں عظیم سولنگی اور اللہ رکھیو سولنگی(بقیہ نمبر12صفحہ6پر)

کو مسلح ڈاکوؤں نے 10 روز قبل زمینوں پر کام کرتے ہوئے اغوا کرلیا تھا جنہیں ابھی تک بازیاب نہیں کرایا جاسکا ہے جس کے خلاف مغویوں کے ورثاء مرد خواتین اور معصوم بچوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا اس موقع پر مغویوں کے ورثاء شبیر احمد سولنگی، غلام حیدر سولنگی، حاجی غلام حیدر سولنگی و دیگر نے بتایا کہ مغوی محمد عظیم سولنگی اور اللہ رکھیو سولنگی کی رہائی کے لئے اغوا کار 20 لاکھ روپے تاوان طلب کررہے ہیں ہم معمولی زمیندار کسان ہیں محنت کر کے اپنا گزر سفر کر رہے ہیں 20 لاکھ روپے تاوان ادا نہیں کر سکتے جبکہ سندھ اور پنجاب پولیس حدود بندی کے تنازعہ پر مقدمہ درج نہیں کررہی ایس ایچ او اوباڑو منصور ہتھار کا کہنا ہے اغوا کی واردات رحیم یار خان کے تھانہ ماچھکہ کی حدود سے ہوئی ہے پنجاب پولیس کو مشترکہ کاروائی کے لئے خط لکھا ہے، جبکہ ایس ایچ او ماچھکہ نوید ویلہ کے مطابق مغوی اوباڑو کی حدود سے اغوا کئے گیئے ہیں ہم پولیس کے ساتھ تعاون کے لئے تیار ہیں جبکہ اغوا کاروں نے مغویوں کو کچے کے علاقے میں یرغمال بنایا گیا ہے مغویوں کے ورثاء نے وزیر اعلی پنجاب عثمان بوذدار اور وزیر اعلی سندھ مراد علی شاھ اور اعلی افسران سے واقعہ کا فوری طور پر نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر مغویوں کو بازیاب کرآئے جائے۔

اغواء

مزید :

ملتان صفحہ آخر -