روشنی تجھ پہ ابتلا ہے آج جو منو ر تھا بجھ گیا ہے آج، سید منور حسن۔۔۔گوشہ جنت نیا مسکن، سابق امیر جماعت اسلامی کراچی میں انتقال کر گئے

روشنی تجھ پہ ابتلا ہے آج جو منو ر تھا بجھ گیا ہے آج، سید منور حسن۔۔۔گوشہ جنت ...

  

کراچی،(سٹاف رپورٹر) جماعتِ اسلامی پاکستان کے سابق امیر سید منور حسن طویل علالت کے بعد 78 سال کی عمر میں جمعہ کو کراچی کے مقامی ہسپتال میں انتقال کر گئے، صدر مملکت، وزیراعظم، وزیر خارجہ، چیئرمین سینیٹ، چاروں صوبائی گورنرز، وزرائے اعلیٰ،وفاقی و صوبائی وزراء، سیاسی و مذہبی قائدین اور سماجی رہنماؤں نے سید منور حسن کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیاہے۔ایم پی اے سندھ اسمبلی ورہنما جماعتِ اسلامی سید عبدالرشید نے سید منور حسن کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ وہ طویل عرصے سے پارکنسن کے مرض میں مبتلا اور زیر علاج تھے ان کی طبیعت میں اتار چڑھاؤ کافی عرصے سے جاری تھا لیکن تین ہفتے قبل ان کو اچانک طبیعت بگڑنے پر مقامی ہسپتال میں داخل کیاگیا تھا اور ایک ہفتے سے وہ انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں زیر علاج تھے۔ کچھ دن قبل ڈاکٹرز نے سانس کی تکلیف کی وجہ سے وینٹی لیٹر پر بھی ڈال دیا تھا۔ جمعہ کو ان کی طبیعت اچانک بگڑ گئی۔ ڈاکٹروں نے ہر ممکن کوشش کی مگرجانبر نہ ہوسکے اور اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ انہوں نے اپنے پسماندگان میں بیوہ محترمہ عائشہ منورسابق رکن قومی اسمبلی و سیکریٹری جنرل جماعت اسلامی خواتین، بیٹے طلحہ منور، دو بھائیوں،سید شفیق حسن سابق جنرل منیجر ٹیکسٹائلز، سابق ڈائریکٹر جنرل پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن سید ارشاد حسن اور دنیا بھر میں پھیلے ہوئے تحریک اسلامی کے لاکھوں شیدائیوں کو سوگوار چھوڑا ہے۔ مرحوم 2008تا2013امیر جماعت اسلامی پاکستان،1993تا 2008تک سیکریٹری جنرل، 1992-93تک اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل، 1989تا 1991تک امیر جماعت اسلامی کراچی اور 12سال تک اس کے سیکریٹری جنرل رہے، جبکہ 1966تا 1968تک اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم اعلی رہے۔ وہ اپنے وقت کے مقبول طالب علم لیڈر تھے۔ سید منور حسن نے پوری زندگی اسلامی نظام حیات کے نفاذ کی جدوجہد میں گزاری۔وہ اگست1941 میں دہلی میں پیدا ہوئے،ان کے والد سید اخلاق حسین دہلی کے ایم بی ہائی سکول میں پڑھاتے تھے۔ قیام پاکستان کے وقت وہ ایم بی ہائی سکول کے ہیڈ ماسٹر تھے۔ ان کی والدہ بچوں کو قرآن مجید پڑھاتی تھیں۔ وہ دہلی کے ایک ایسے معزز گھرانے کے چشم و چراغ تھے جو 47میں ہجرت کے زخم جھیلتا ہوا پہلے دہلی سے لاہور اور پھر لاہور سے کراچی پہنچا۔ سید منور حسن جن کی عمر اس وقت سن شعور کو چھو رہی تھی، اس خون آشام سفر میں اپنے اہل خانہ کے ہمراہ تھے۔ یوں ان کے سینے پر تمغہ ہجرت بھی سجا ہوا ہے، سید منور حسن نے ابتدائی تعلیم جیکب لائن کے ایک سکول سے حاصل کی،1963اور 1966میں جامعہ کراچی سے عمرانیات اوراسلامیات میں ایم اے کے امتحانات امتیازی حیثیت سے پاس کیے۔انہوں نے نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے پلیٹ فارم سے اپنی طلباسیاست کا آغاز کیا، وہ 1959میں نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے صدر بھی رہے تاہم کچھ ہی عرصے بعد سید ابو الاعلی مودودی مرحوم کے انقلا ب آفرین لٹریچر کے زیراثر ان کی ایسی قلب ماہیئت ہوئی کہ وہ نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن سے نکل کر اسلامی جمعیت طلبہ کے ہر اول میں شامل ہوگئے۔زمانہ طالب علمی میں ہی سید منورحسن اپنی برجستگی اور شستہ تقریر میں معروف ہوگئے۔وہ کالج میگزین کے ایڈیٹر بھی رہے۔علاوہ ازیں بیڈمنٹن کے ایک اچھے کھلاڑی بھی رہے۔سید منورحسن جون 1960میں اسلامی جمعیت طلبہ میں شامل ہوئے۔اکتوبر 1962میں، انہوں نے اسلامی جمعیت طلبہ کے رکن کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔سید منورحسن1962میں اسلامی جمعیت طلبہ جامعہ کراچی کے ناظم بھی رہے۔سید منورحسن 1963میں اسلامی جمعیت طلبہ کراچی کے ناظم رہے۔27دسمبر 1964کے سالانہ اجتماع میں جمعیت کے ارکان نے انہیں اسلامی جمعیت طلبہ کا ناظم اعلی منتخب کیا۔وہ مسلسل تین مرتبہ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے ناظمِ اعلی منتخب ہوئے۔13جنوری 1968میں اسلامی جمعیت طلبہ سے فارغ ہوئے۔ 1968 میں جماعت اسلامی پاکستان میں شمولیت اختیار کی۔جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس شوری اور مجلس عاملہ کے بھی رکن منتخب ہوئے۔1977کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کے امید وار جمیل الدین عالی کا مقابلہ کیا،رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے اور ملک بھر میں سب سے زیادہ ووٹ لینے کا ریکارڈ قائم کیا۔1977میں چلائی جانیوالی تحریک نظام مصطفی کو کراچی میں منظم کیا۔ اسلامک ریسرچ اکیڈمی کراچی کے ڈائریکٹر بھی رہے،ان کی نگرانی اکیڈمی نے 70سے زاید علمی کتابیں شائع کیں۔انہوں نے اسلامک ریسرچ اکیڈمی سے شایع ہونیوالے جریدےThe Criterionاور The Universal Messageکی ادارت بھی کی۔انہوں نے متعدد بین الاقوامی فورمز پر جماعت اسلامی کی نمائندگی کی۔ملک بھر کی سیاسی و مذہبی قیادت نے سید منور حسن کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہارکیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم کی لازوال سیاسی و مذہبی خدمات کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔اللہ تعالی ٰ مرحوم کے درجات بلنداور سوگواران کو صبر جمیل عطاء کر ے۔

منور حسن انتقال

مزید :

صفحہ اول -