262پائلٹوں کے لائسنس مشکوک،128کیخلاف انکوائری مکمل، 5افسر معطل کر دیئے: غلام سرور

  262پائلٹوں کے لائسنس مشکوک،128کیخلاف انکوائری مکمل، 5افسر معطل کر دیئے: غلام ...

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر برائے ہوا بازی غلام سرور خان کا کہنا ہے کہ 262 پائلٹس کے لائسنس مشکوک ہیں، پی آئی اے کے 141، سیرین ایئر کے 10 اور ایئر بلیو کے 9 کپتان شامل ہیں۔ پی آئی اے کے 148 پائلٹ گراؤنڈ، 128 کے خلاف انکوائری مکمل کر لی ہے، جعلی لائسنس جاری کرنے والے 5 افسر معطل کر دیئے، تمام بھرتیاں گزشتہ دو ادوار میں ہوئیں۔اسلام آبادمیں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے 2023 تک پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کو دنیا کی ذمہ دار ایئرلائن بنانے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ادارے میں 28 پائلٹس کے جعلی لائسنس کی تصدیق ہوچکی ہے۔غلام سرورخان کا کہنا تھا کہ جتنے بھی پائلٹس ہیں، جن لوگوں کے خلاف انکوائری ہوئی، یا جو لوگ ریکروٹ ہوئے یہ سب سے 2018 سے پہلے کے لوگ ہیں۔ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ 2018 کے بعد ہم نے پی آئی اے یا ایوی ایشن ڈویژن میں نہ کوئی نئی بھرتی کی ہے۔ پاکستان میں کمرشل پائلٹس 753 ہیں، غیرملکی ایئرلائنز میں کام کرنے پاکستانی پائلٹس کی تعداد 107 اورمجموعی 860 ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پی آئی اے میں 450 پائلٹس کام کررہے ہیں، ایئربلو 87 سیرنے میں 47، شاہین میں 68 تھے، مختلف ایئرلائنز اور فلائنگ کلبز میں 101 کے لگ بھگ پائلٹس کام کرتے ہیں اور مجموعی تعداد 753 ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جن پائلٹس پر سوالات اٹھائے گئے ہیں وہ 262 ہیں، پی آئی اے میں 141، ایئربلیو کے 9، 10 سرینے، سابق شاہین کے 17 اور دیگر85 ہیں۔ یہ سارے مشتبہ ہیں، 121 پائلٹس ایسے ہیں جن کے فرانزک کرنے کے بعد پتہ چلا کہ ان کا ایک پرچہ بوگس تھا اور ان کی جگہ کسی اور نے بیٹھ کر پرچہ دیا۔غلام سرور خان کا کہنا تھا کہ دو بوگس پرچے والے پائلٹس 39، تین بوگس پرچے والے 21، 4 بوگس پرچے والے 15، 5 بوگس والے 11، 6 بوگس پرچے والے 11، 7 بوگس پرچے والے 10 اور 8 بوگس پرچے والے 34 پائلٹس ہیں جبکہ مجموعی پرچے 8 ہوتے ہیں۔وزیرہوابازی نے کہا کہ ان میں سے 9 پائلٹس نے اعتراف بھی کرلیا ہے، انہیں برطرف کرنا حکومت کا کام ہے جس کے لیے کابینہ سے اجازت لینی ہوگی۔

جعلی پائلٹ

مزید :

صفحہ اول -