قومی اسمبلی، وزارت تعلیم پر اپوزیشن کی کٹوتی کی تحاریک مسترد، 12مطالبات زر منظور

    قومی اسمبلی، وزارت تعلیم پر اپوزیشن کی کٹوتی کی تحاریک مسترد، 12مطالبات ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)قومی اسمبلی نے وزارت تعلیم وتربیت پر اپوزیشن کی کٹوتی کی تحاریک کثرت رائے سے مسترد کرتے ہوئے 12 مطالبات زر کی منظوری دے دی جبکہ اپوزیشن اراکین نے کہا ہے کہ کورونا کے دوران سب سے زیادہ نقصان بچوں کا ہورہا ہے،حکومت سکول کھولنے کیلئے جلدی نہ کرے،کورونا بچوں میں پھیل سکتا ہے،جب ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف محفوظ نہیں ہے تو بچے کیسے محفوظ رہ سکیں گے،ہمیں ایجوکیشن کو اپنی ترجیحات میں شامل کرنا چاہیے۔ جمعہ کو قومی اسمبلی کے اجلاس کے دور ا ن تحریکوں پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے ایم ایم اے کے رکن مولانا عبدالاکبر چترالی نے کہا کہ لوگوں کو پاکستان میں ایک ہی طرز کی تعلیم دی جائے۔ پرائیویٹ سکولز اس وقت اپنی مرضی کی فیس وصول کرتے ہیں۔آن لائن تعلیم نظام بغیر سسٹم کے ہی متعارف کروا دیا گیا، میرے علاقے کے طلباء بغیر انٹرنیٹ کے کس طرح سے آن لائن ایجوکیشن لیں۔ ن لیگ کی رکن رومینہ خورشید عالم نے کہاکہ پاکستان کی آبادی بڑھنے کا تناسب 2.4 فیصد ہے،پانچ سے سات سال تک کے بچے کو اچھی تعلیم دینا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ کورونا کے باعث سکول کئی ماہ سے بند ہیں لیکن والدین سے مکمل فیس وصول کی جا رہی ہے۔پیپلز پارٹی کی رکن ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ اسلم نے کہا کہ پاکستان کی آبادی کا 51 فیصد خواتین ہیں۔ سب سے زیادہ خواتین کے لحاظ سے تعلیمی تفریق خیبر پختونخوا میں ہے۔ بچوں کو محفوظ بنانے کے لئے کیا پالیسی بنائی گئی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی رکن مہناز اکبر عزیز نے کہا کہ اسلام آباد میں پرائیویٹ سکول کی فیس کا کو طریقہ کار نہیں ہے۔ پرائیویٹ سکولز نے کورونا وائرس کے باوجود والدین سے پوری فیسیں لیں۔ پیپلز پارٹی کی رکن ناز بلوچ نے کہا کہ کورونا کے باعث ذہنی ڈپریشن کا دور آسکتا ہے جسے روکنے کیلئے اقدامات کرنے ہوں گے۔ بلوچستان میں طلبا پر بدترین تشدد کیا گیا جس کی مذمت کرتی ہوں۔وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہاکہ تعلیم کے حوالے سے اپوزیشن کے خلوص پر کوئی شک نہیں ہے،اپوزیشن کی تعلیم پر کٹوتی کی تحریک اس لیے مسترد کررہا ہوں کہ اس پر ان کی معلومات کم ہے،نجی سکول کھولنے کی اجازت دی گئی تو بہت بڑی تعداد میں نجی سکول کھل گئے۔طبقاتی نظام تعلیم کو فروغ بھی اسی وقت ملا اور الگ نظام تعلیم کھڑا ہوگیا۔تحریک انصاف نے اپنے منشور میں لکھا کہ طبقاتی نظام تعلیم ختم کرکے یکساں تعلیمی نظام اپنانا ہے،ملک میں 18ویں ترمیم کے بعد نصاب صوبائی معاملہ ہے،سارے صوبوں نے یکساں نظام تعلیم کے معاملہ پر تعاون کیا،ہم نے یکساں نصاب بنالیا ہے، پرائمری کا نصاب بن گیا ہے، صوبوں نے رضامندی کا اظہار کیا ہے،ہم مثالی نصابی کتب بنائیں گے جس کے بعد قانون سازی کریں گے،پاکستان کے نجی، سرکاری سکولوں اور دینی مدارس کا ایک سے پانچ تک نصاب ایک ہوجائے گا،اتحاد تنظیم المدارس سمیت سب نے اتفاق کیا ہے کہ سارے مدارس کے بچے سرکاری امتحانات میں شریک ہوں گے۔وفاقی وزیر مملکت علی محمد خان نے قومی اسمبلی میں کہا ہے کہ ایوان میں شور کرنے والے سوچ لیں کہ وہ شور شرابہ کسی اور کے لیے نہیں بلکہ سپیکر کے لیے ہوتا ہے،جب وزیراعظم یا اپوزیشن لیڈر بات کرتا ہے تو دونوں طرف سے احترام ہونا چاہیے،نواز شریف بھی اس ملک 3 بار وزیراعظم رہے ہیں اور کیا کبھی کیسی پارٹی ورکر کے خلاف نواز شریف نے ایکشن لیا،لیکن یہاں پر محدود وقت میں عمران خان نے چینی پر انکوائری مکمل کرائی اور محدود وقت میں رپورٹ پبلک کروائی۔وزیراعظم نے کہا کہ ہمارا ملک مکمل لاک ڈاؤن نہیں کیا جا سکتا ہے کونسا ایشین ٹائیگر میاں نواز شریف چھوڑ کر گئے تھے، جو آگے جا سکتا ہے نہ پیچھے جا سکتا ہے۔آپ ملک کا قرضہ 6 ہزار ارب سے 30 ہزار ارب تک لے گئے،نیب اگر کاروائیاں کررہا ہے تو اس میں ہمارا قصور نہیں،نیب چیئرمین آپ کا لگایا گیا ہے۔ آپ حکومت میں تھے تو کیوں اس کو صحیح نہیں کرگئے۔پوری دنیا میں کورونا نے تباہی پھیلائی، کوئی ملک بتائیں جہاں ایک کروڑ چالیس لاکھ خاندانوں کو امداد پہنچائی ہو،غریب خاندانوں کو امداد نہ پہنچائی جاتی تو پاکستان کا حال بھارت سے مختلف نہ ہوتا،ہماری معیشت مکمل لاک ڈاؤن کی متحمل نہیں ہوسکتی تھی۔18 ویں ترمیم کے جہاں فوائد ہیں وہاں کچھ نقصانات ہیں،18 ترمیم کے بعد پاکستان کی زرعی پیداوار میں سات فیصد کمی آئی ہے،سیاحت کا شعبہ پاکستان کی تقدیر بدل سکتا ہے۔گلگت،چترال اور دیگر شمالی علاقے سویٹزرلینڈ سے بہتر ہیں۔وقت ثابت کرے گا کیا عمران خان نے کسی کو رات کے اندھیرے میں لندن بھگا دیا یا احتساب کی ابتدا اپنی جماعت سے کی ہے۔عمران خان نے سپریم کورٹ میں احتساب دیا اور صادق اور امین کا سرٹیفیکیٹ لیا،وزیراعظم عمران خان نے تو اس کا بھی حساب دیا جو وہ باہر سے لے کر آئے۔آپ کو تو خوش ہونا چاہیے کہ آج وزیراعظم ہاؤس، ایوان صدر کا خرچہ کم ہوا ہے۔بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے 100 ارب سے فنڈ بڑھا کر 2 سو ارب پر لے گئے ہیں۔اپوزیشن اراکین نے حکومت کی تعلیمی پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو اچھی تعلیم دینا ریاست کی ذمہ داری ہے مگر ہم شرمندہ ہیں کہ ریاست اپنی ذمہ داری پوری نہیں کررہی،بجٹ میں تعلیم کیلئے کوئی ڈویلپمنٹ فنڈ نہیں مختص کیا گیا،کیا حکومت اسلام آباد میں تعلیمی اداروں کو پرائیویٹائز کرنا چاہتی ہے؟ہمارے دور دراز کے علاقوں سے تعلق رکھنے والے طلبا انٹرنیٹ سے محروم ہیں،آن لائن ایجوکیشن با لکل بیکار ہے۔اسلام آباد کے 10سیکٹرز میں لاک ڈاون ہے۔اس حوالے آپ نے کیا پالیسی بنائی ہے؟ حکومت کے منصوبے میں کوئی بھی یونیورسٹی بنانے کے حوالے سے اقدامات شامل نہیں ہیں،اعلی تعلیم کے لیے مستحق ذہین طلبا کو اسکالر شپ دینے کی ضرورت ہے جبکہ وفاقی وزیر شفقت محمود نے اپوزیشن کوجواب دیتے ہوئے کہا کہ بین الصوبائی کانفرنس میں تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ کریں گے۔نجی سکول کھولنے کی اجازت دی گئی تو بہت بڑی تعداد میں کھل گئے۔سرکاری سکولوں تک وہ لوگ محدود رہ گئے جو بچوں کو نجی سکولوں میں پڑھا نہیں سکتے تھے۔مدارس نے ان بچوں کو سینے سے لگایا جن کا کوئی پرسان حال نہیں تھا،،اس طرح ملک کا نظام تعلیم تین حصوں میں تقسیم ہوگیا،ناہمواری کو طبقاتی نظام تعلیم کی وجہ سے فروغ ملا۔ مسلم لیگ کے رکن اسمبلی محسن شاہ نواز رانجھا نے قومی اسمبلی میں کہا ہے کہ حکومت کو ہمیشہ کابینہ ہی چلاتی ہے اور اس کا کردار بہت اہم ہوتا ہے،وزیرا عظم عمران خان نے الیکشن سے قبل جو بھی باتیں کیں تھیں وہ سب انکے برعکس ہو رہا ہے،اس وقت 27وزرا پر کابینہ تشکیل دیدی گئی ہے اور معاونین کی تعداد کا اندازہ نہیں ہے۔دیکھا جائے تو آئین کہتا ہے کہ پاکستان کو منتخب نمائندے چلائیں گے۔ کوئی بھی وزیر بتا دے کہ کابینہ کی تعداد کتنی ہے،سلیکٹیڈ کابینہ میں الیکٹیڈ لوگ نظر انداز ہو چکے ہیں۔ معاونین اور مشیر مالشیے ہیں،یہ اس حکومت کو مروائیں گے،اس موقع پر مالشیہ کہنے پر حکومتی ارکان نے احتجاج کیا اور شور و غل کچھ دیر تک ہوتا رہا ہے۔محسن شاہ نواز رانجھا نے کہا کہ ندیم بابر کی اپنی آئل کمپنی ہے جبکہ وہ مشیر پیٹرولیم ہیں،ہمارا مطالبہ ہے کہ تمام مشیروں اور معاونین کی شہریت اور اثاثوں کی تفصیلات اس ایوان میں جمع کروائیں۔پیپلز پارٹی کی رکن نفیسہ شاہ نے کہا ہے کابینہ ڈویژن کے دائرہ کار میں وزیراعظم،وزارتیں، اور دیگر ادارے آتے ہیں،کابینہ ڈویژن پر کٹوتی کی تحاریک پیش کی گئی ہیں،وزیر اعظم کابینہ کی سربراہی کرتے ہیں اور اس کا بنیادی مقصد فیصلہ سازی کرنا ہے،امید تھی کہ جو زبان کنٹینر پر استعمال کی گئی وہ زبان حکومت میں استعمال نہیں کی جائے گی،گزشتہ روز جمعرات کو وزیر اعظم نے اپنی کارکردگی پر پارلیمنٹ پر بات کرتے ہوئے اسامہ بن لادن کو شہید کہہ دیا جس پر بین الاقوامی میڈیا میں آگ لگ گئی،وزیر اعظم کو جرمنی جاپان میں فرق نہیں پتہ ہم نے پھر بھی چھوڑ دیا،وزیر اعظم کے بیان سے پاکستان کی ساخت بری طرح متاثر ہوئی،موسمیاتی تبدیلی کی وزیر نے کہا کووڈ کے 19 نکات ہوتے ہیں جس پر دنیا بھر میں تمسخر اڑایا گیا۔اس موقع پر سپیکر اسد قیصر نے کہا کہ اپ کٹوتی کی تحریک پر بات کریں،سیاسی بات نہ کریں۔نفیسہ شاہ نے کہا کہ یہاں پر فریڈم آف سپیچ ہمارا آئنی حق ہے، آپ مجھے حکومت کی پرفارمنس پر تنقید سے نہیں روک سکتے۔ اس موقع پر پی ٹی آئی کی رکن اسمبلی عاصمہ جاوید اور نفیسہ شاہ کے درمیان تلخ جملوں کا بھی تبادلہ ہوا اور سپیکر بار بار دونوں کو خاموش کرانے کی کوشش کراتے رہے ہیں۔

قومی اسمبلی

مزید :

صفحہ اول -