کراچی دودھ دینے والیگائے کی طرح ہے لیکن سندھ حکومت گائے کو قتل کرنے کے درپے ہے: فردوس شمیم نقوی

کراچی دودھ دینے والیگائے کی طرح ہے لیکن سندھ حکومت گائے کو قتل کرنے کے درپے ...

  

کراچی (سٹاف رپورٹر) سندھ اسمبلی میں قائدحزب اختلاف فردوس شمیم نقوی نے کہا ہے کہ کراچی دودھ دینے والی گائے کی طرح ہے لیکن پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت اس گائے کو قتل کرنے کے درپے ہے، اسی لئے سندھ کے بجٹ میں اس شہر کی تعمیر ترقی کو نظر انداز کردیا گیا،کورونا کا ہیرو کون ہے یہ فیصلہ آنے والا وقت کرے گا۔وزیر اعلی سندھ مسٹر برائٹ ہوسکتے ہیں لیکن مسٹر رائٹ نہیں ہیں۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار جمعہ کوسندھ اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے صوبائی بجٹ پر اپنی بحث کو سمیٹتے ہوئے کیا۔ فردوس شمیم نقوی نے گزشتہ روز بجٹ پر اپنی تقریر کا آغاز کیا تھا لیکن وقت کی کمی کے باعث اجلاس جمعہ تک ملتوی کردیا گیا۔انہوں نے اپنی تقریر کابقیہ حصہ آج مکمل کیا۔انہوں نے کہا کہ بہت ممکن ہے وقت پر اچھے فیصلے کئے گئے ہوں مگر پاکستان اس طرح کے لاک ڈاو ن کا متحمل نہیں ہوسکتا جس طرح سندھ میں کیا گیا۔انہوں نے ہا کہ سنھد حکومت کو اپنے گزشتہ سال کے وعدوں کا جواب دینا ہوگا۔یہ اچھی اسکیمیں رکھتے ہیں لیکن پایہ تکمیل پر کب پہنچیں گی کسی کو نہیں معلوم ہے۔تھر میں 17 لاکھ کی آبادی میں 73 فیصد بچوں کی گروتھ نہیں ہورہی۔ہمیں ان کے ہیلتھ مینجمنٹ سسٹم کی سمجھ نہیں آئی۔ڈاکٹر فرقان کو ایمبولینس نہیں ملی۔ایک پارلیمانی کمیٹی بنانی چاہیے تھی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 5 فیصد لوگوں ٹی بی سے مرتے ہیں۔8 فیصد دل کے امراض سے مرتے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ سکھر اسپتال اب تک کیوں نہیں بنا۔انہوں نے کہا کہ 1963 میں این آئی سی وی ڈی بنا تھا۔یہ پورے پاکستان کے لیے بنا تھا۔یہ حکومت پاکستان نے بنایا تھا۔اس اسپتال کے ملازمین عدالت میں گئے کہ ہم سندھ حکومت کے نیچے کام نہیں کر سکتے ہیں۔اس کو کوئی جس طرح چاہے پیش کر دے۔وفاق نے اس سال اس اسپتال کے لیے پیسے رکھے۔یکم جولائی سے ہم این آئی سی وی ڈی کا کنٹرول سنبھال لینگے۔ فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ حکومت نے سترہ ڈگری کالج دینے کا وعدہ کیا تھا یہ کہاں ہیں ہمیں تو نظر نہیں آتے۔انہوں نے کہا سندھ میں آج بھی رشوت عام ہے کوئی مختار کار بھی رشوت لئے بغیر کام نہیں کرتا اور عام شہری کسی تھانے میں ایف آئی آر درج نہیں کراسکتا۔انہوں نے کہا کہ یہاں یہ جن اچھے اسکولوں کی تصویر دکھاتے ہیں وہ صرف پانچ فیصد ہیں،باقی پچانوے فیصد اسکول بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔قائد حزب اختلاف نے کہا کہ یہ جسٹس ہانی مسلم کا ڈنڈا تھا کہ صاف پانی کے لیے پیسے مختص کیے گئے،مگر من پسند کمپنی کو ٹھکیے دیے گئے تھر کے معاملے میں اس کمپنی کا کردار سب کو معلوم ہے۔انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت کیترقیاتی بجٹ میں تین اسکیمز دس سال سے چل رہی ہیں۔محکمہ صحت کے ترقیاتی بجٹ میں شامل سو سے زائد اسکیمز کئی سالوں بعد بھی مکمل نہیں ہوئیں۔محکمہ بلدیات کی 245اسکیمز تاخیرکاشکار ہیں۔آبپاشی کی 182میں سے درجنوں اسکیمز پانچ سالوں سے چل رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگروزیراعلی سچ بول رہے ہوتے تو کے فور کی بات نہ کرتے،وزیراعلی نے کہا کہ وزیراعظم نے کے فور منصوبہ رکوادیا حلانکہ اس منصوبے پر نومبر 2018 سے کام بند ہے۔انہوں نے کہا کہ کراچی پانی کو بلک رہاہے۔پانی نہ ہونے پر ایم کیوایم پی ٹی آئی احتجاج پر ہیں۔ فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ ترقیاتی بجٹ خرچ ہوا اسکے اثرات نظر آنا چاہیئں۔سندھ میں اس سال شرح خواندگی کم ہوکر 62فیصد ہوگئی، اکیسویں صدی میں ہمارے سر شرم سے جھک جاتے ہیں کہ بچیوں کی تعلیم شرح فیصد کم ہوچکی ہے۔قائد حزب اختلاف نے تجویز پیش کی کہ جن علاقوں میں اسکولز نہ ہوں مساجد کو تعلیم بالغاں کے لئے استعمال کیاجائے۔ان کا کہنا تھا کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے اس شہر کا حشر کردیاہیعمارتوں کی تعمیرات کے لئے جدید ٹیکنالوجی کیوں استعمال نہیں ہوتی۔قائم علی شاہ نے ایک لاکھ گھروں کا وعدہ کیاتھا وہ کہاں ہیں؟صوبے کے پاس کسی چیز کا کوئی ڈیٹا نہیں ایمبولینس سروس نظر نہیں آتی۔فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ لوکل گورنمنٹ میں دس سال پرانی ہیں۔ قائد حزب اختلاف نے کراچی میں ٹرانسپورٹ کے نظام کے حوالے سے کہا کہ اس شہر کو دس سال سے بس سروس نہیں ملی۔میں دعا گو ہوں بلاول کی جلد شادی ہوجائے۔اس کے دو بچوں ہوں۔ بلاول اس شہر میں موٹر سائیکل پر سفر کرے تب اسے شہر کی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کی خستہ حالی کا انداز ہ ہوگا۔شہر میں ٹوٹی ہوئی بسیں چلتی ہیں۔یہی پارٹی تھی جو اس شہر میں بسیں بائیس تئیس ہزار تک لے گئی تھی۔وہ بھٹو کی پارٹی تھی یہ زرداری کی پارٹی ہے،بارہ سال ہوگئے شہر میں بس ڈپو نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس شہر میں ایک ہزار سے زائد روزانہ موٹر سائیکل رجسٹرڈ ہوتے ہیں۔کسی کے پاس لائنسنس نہیں ہے دوسرے صوبوں میں بسوں کے اڈے ہیں۔یہاں صرف پھڈے ہیں بسوں کے اڈے نہیں ہیں۔بسوں کو اڈے دینا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ اس شہر میں پارکنگ کا نظام درست نہیں ہے۔میں سندھی ہوں مجھے کراچی کی طرح اندون سندھ کا بھی درد ہے۔انہوں نے کہا کہ اللہ کا شکرہے کہ ہوا کسی حکمران کے ہاتھ میں نہیں،پانی بنیادی انسانی ضرورت ہے وہ حکمرانوں کے ہاتھ میں ہے،چھیالیس فیصد بیماریاں مضر صحت پانی کی وجہ سے ہیں۔گزشتہ دس سالوں میں لاکھوں افراد مضر صحت پانی کے سبب بیماریوں سے انتقال کرگئے۔انہوں نے کہا کہ ڈاکہ مارا تو سرے محل بنا،ڈاکہ مارا تو اومنی کو ملا۔فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ سانحہ بلدیہ،عزیر بلوچ جے آئی ٹی کیوں جاری کیوں نہیں کرتے،ڈان لیکس میموگیٹ حمود الرحمن رپورٹس نہیں آئیں لیکن ہمارے دور میں چینی انکوائری رپورٹ اورطیارہ حادثہ رپورٹ آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک سوال ہوگیا سندھ اسمبلی میں جس نے میرے کاغذات چوری کئے تھے وہ چور نہیں پکڑا گیا اور سندھ کا موجودہ بجٹ کسی طور بھی عوامی خواہشات پر پورا نہیں اترتا۔

مزید :

صفحہ اول -