"پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں دراصل اس وجہ سے بڑھائی گئیں" وفاقی وزیر توانائی بھی چپ نہ رہے

"پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں دراصل اس وجہ سے بڑھائی گئیں" وفاقی وزیر توانائی ...

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) حکومت کی جانب سے گزشتہ روز پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد سے عوام میں شدید ردعمل دیکھنے کو مل رہا ہے جس پر وزرا کی وضاحتیں بھی سامنے آرہی ہیں۔

وفاقی وزیر برائے توانائی بھی اس معاملے پر چپ نہ رہے۔ مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر بیان داغا کہ "گزشتہ ماہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اچانک اضافہ ہوگیا جب کہ روپے کی قدر بھی دوسے تین روپے  کم ہوگئی۔ اعدادوشمار کے مطابق پیٹرول کی فی لٹر قیمت میں 31روپے اضافہ بنتا تھا تاہم حکومت نے 25.58فی لٹر کیا جب کہ ڈیزل کی قیمت میں اضافہ 24.31روپے فی لٹر بنتا تھا مگر حکومت نے 21.31روپے فی لٹر کیا ہے"۔

عمر ایوب نے مزید لکھا کہ "پاکستان میں اب بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں خطے کے دیگر ممالک کی نسبت نمایاں طور پر  کم ہیں"۔ 

انہوں نے مزید کہا کہ "یکم جنوری کو پیٹرول کی قیمت 116.60فی لٹر تھی جب کہ ڈیزل 127.26 روپے فی لٹر فروخت ہورہا تھا تاہم پیٹرول  کی قیمت میں 42 روپے فی لٹر جب کہ ڈیزل کی قیمت میں 47 روپے فی لٹر تک کمی کی گئی لیکن اب پیٹرول کی قیمت میں اضافہ 25روپے فی لٹر کیا گیا جو کہ جنوری کی قیمت سے اب بھی 17روپے فی لٹر کم ہے۔ اسی طرح ڈیزل کی قیمت میں 21 روپے اضافہ کیا گیا جو کہ جنوری سے اب بھی 26روپے فی لٹر کم ہے۔

مزید :

قومی -بزنس -