پائلٹوں کی جعلی ڈگریوں کا رونا لیکن وزیر ہوا بازی کی اپنی ڈگری بھی جعلی نکلی؟ معروف صحافی کے ٹوئیٹ نے ہنگامہ برپا کردیا

پائلٹوں کی جعلی ڈگریوں کا رونا لیکن وزیر ہوا بازی کی اپنی ڈگری بھی جعلی نکلی؟ ...
پائلٹوں کی جعلی ڈگریوں کا رونا لیکن وزیر ہوا بازی کی اپنی ڈگری بھی جعلی نکلی؟ معروف صحافی کے ٹوئیٹ نے ہنگامہ برپا کردیا

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پائلٹوں کی جعلی ڈگریوں کا رونا لیکن کیا وزیر ہوا بازی کی اپنی ڈگری بھی جعلی نکلی؟ معروف صحافی کے ٹوئیٹ نے ہنگامہ برپا کردیا۔

تفصیلات کے مطابق کراچی طیارہ حادثہ کے بعد حکومت پائلٹس کے خلاف ان ایکشن نظر آتی ہے لیکن معروف صحافی نے ایک حیران کن ٹویٹ داغا ہے جس میں انہوں نے شک کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ "وزیر ہوابازی کی اپنی ڈگری بھی جعلی ہے؟ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور نے سنہ 2015 میں وفاقی وزیر غلام سرور خان کی ڈگری کو غیر مستند (جعلی) قرار دیتے ہوئے، اسے اپنے ریکارڈ سے حذف کر دیا"۔

 خیال رہےو زیر ہوابازی غلام سرور نے طیارہ حادثے سے متعلق ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا تھا  کہ شوکاز کے بعد اسکروٹنی میں کئی پائلٹس کی ڈگریاں جعلی نکلی تھیں، 262 پائلٹس کے مشکوک لائسنس یقیناًتشویشناک ہے۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر ہوابازی غلام سرور نے کہا کہ مشکوک لائسنس والے پائلٹس جہاز نہیں اڑائیں گے، مشکوک لائسنس والے پائلٹس کی فلائنگ روکنے کی ہدایت کی ہے۔

غلام سرور کا کہنا تھا کہ طیارہ حادثے سے متعلق مکمل رپورٹ ابھی نہیں آئی لیکن تحقیقاتی رپورٹ انشااللہ رواں سال ہی آجائے گی اور تحقیقاتی کمیٹی میں عالمی ماہرین بھی شامل تھے۔وزیراعظم کے نوٹس میں معاملہ لائے انہوں نے کہا انکوائری ہونی چاہیے، وزیراعظم نے کہا کہ ایسے لوگوں کو نکالیں اور سزائیں بھی دیں، سی اے اے آج ایسے پائلٹس کو گراو¿نڈ کرنے پر ہی کام کررہا تھا۔

غلام سرور خان نے بتایا کہ وزیراعظم نے کہا ایسے پائلٹس کو فوری گراو¿نڈ کریں اور ہدایت کی ایسے لوگوں سے طیارے نہ اڑوائے جائیں۔ان کا کہنا تھا کہ ایسےلوگ ہماری نظرمیں ہیں جن کے گریبانوں پر ہاتھ ڈالا جائے گا، 9 پائلٹس نے اعتراف بھی کیا کہ ہماری جگہ کسی اور نے امتحان دیا۔

وفاقی وزیر ہوابازی نے کہا کہ ماضی میں ایسے معاملات پر کسی نے توجہ نہیں دی، بھوجا اور ایئربلیو حادثات میں بھی پائلٹس کی کوتاہی سامنے آئی، جن افراد نے معاملات کو نظر انداز کیا ان کیخلاف بھی کارروائی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ پائلٹس کی گفتگو سنی ہے جواب رپورٹ کا حصہ ہے، مکمل رپورٹ پیش کریں گے تو ایوان کو گفتگو سے بھی آگاہ کریں گے، کوشش کررہے ہیں رواں سال ہی مکمل انکوائری رپورٹ پیش کریں اور ساتھ سفارشات بھی پیش کریں۔

مزید :

قومی -ڈیلی بائیٹس -