توانائی منصوبوں کے چینی کمپنی کو ملنے والے وہ ٹھیکے جو سالوں بیت جانے کے بعد بھی مکمل نہ ہوسکے، دستاویزات نے بھانڈا پھوڑ دیا

توانائی منصوبوں کے چینی کمپنی کو ملنے والے وہ ٹھیکے جو سالوں بیت جانے کے بعد ...
توانائی منصوبوں کے چینی کمپنی کو ملنے والے وہ ٹھیکے جو سالوں بیت جانے کے بعد بھی مکمل نہ ہوسکے، دستاویزات نے بھانڈا پھوڑ دیا

  

لاہور (ویب ڈیسک) پنجاب میں 12-2011کے دوران توانائی کے چار بڑے منصوبوں کے ٹھیکے ایک ہی چینی کمپنی کو دینے سے2 تاحال نامکمل ہیں اور2 برسوں کی تاخیر سے مکمل ہوئے۔ یہ انکشاف محکمہ توانائی پنجاب کی طرف سے پنجاب انفارمیشن کمیشن میں پبلک کی جانے والی رپورٹ میں ہوا ہے۔

روزنامہ جنگ کے مطابق مرالہ، چیاں والی، ڈیگ آﺅٹ فال اور پاکپتن ہائیڈرو پاور پراجیکٹس کی تعمیر کے ٹھیکے چینی کمپنی سائنوٹیک کو 2011ءاور 2012ءمیں دیئے گئے۔ چیاں والی ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کو 1080 دنوں میں یعنی 7فروری 2016ءکو مکمل ہونا تھا جو آج تک مکمل نہیں ہوسکا۔ معاہدے کے مطابق ڈیگ آﺅٹ فال ہائیڈرو پراجیکٹ کی تکمیل 885روز میں یعنی 28جولائی 2015ءکو مکمل ہونا تھی جو آج تک نہیں ہوسکی۔ مرالہ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ 3سال ایک ماہ کی تاخیر سے 10دسمبر 2017ءکو مکمل ہوا جبکہ پاکپتن ہائیڈرو پاور پراجیکٹ بھی معاہدے کے مطابق885 روز میں یعنی 30اکتوبر 2014ءکی بجائے ایک سال 10ماہ کی تاخیر سے 24اگست 2016ءکو مکمل ہوا۔

دستاویزات کے مطابق توانائی کے ان 4بڑے منصوبوں میں تاخیر کی 5بڑی وجوہات ایک ہی چینی کمپنی کو چاروں منصوبے دینا، ماڈل سٹڈی میں تاخیر، چینی کنٹریکٹر کے منیجمنٹ مسائل، نہروں کی بندش کے کاموں میں رکاوٹیں اور چینی سٹاف کی نقل و حمل میں سکیورٹی کے ایشوز شامل ہیں۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -