بھار ت میں مسجد ہی کورونا وارڈ میں تبدیل، وہاں کتنے ہندومریض زیرعلاج رہے؟ تفصیلات منظرعام پر

بھار ت میں مسجد ہی کورونا وارڈ میں تبدیل، وہاں کتنے ہندومریض زیرعلاج رہے؟ ...
بھار ت میں مسجد ہی کورونا وارڈ میں تبدیل، وہاں کتنے ہندومریض زیرعلاج رہے؟ تفصیلات منظرعام پر

  

نئی دہلی (آئی این پی )بھارت میں ایک طرف کورونا کے روزانہ ریکارڈ کیسز سامنے آ رہے ہیں اور لوگوں کو دریپش مشکلات کی خبریں ہیں تو وہیں اس وبا سے نمٹنے کے لیے عوامی کوششوں کی کہانیاں بھی ہیں۔ممبئی کے قریب ایک چھوٹا شہر بھیونڈی کبھی فرقہ وارانہ فسادات کے لیے ملک بھر میں مشہور ہوا کرتا تھا آج وہاں کی معروف مکہ مسجد میں کووڈ 19 سے متاثرہ افراد کو ٹھکانہ فراہم کیا گیا ہے اور انھیں مفت آکسیجن فراہم کی جا رہا ہے۔

بھارتی میڈیاکے مطابق اب تک مکہ مسجد میں ایک سو سے زیادہ افراد کا علاج کیا جا چکا ہے جن میں تقریبا 30 ہندو مریض بھی شامل ہیں اور یہ فرقہ وارانہ ہم آنگی کی ایک مثال ہے جس کی لوگ تعریف کر رہے ہیں۔اخبار نے لکھا ہے کہ بھیونڈی کے سرکاری ہسپتال اندرا گاندھی میموریل ہسپتال کو کووڈ کے علاج کے لیے مختص کیا گیا تھا لیکن مریضوں کی تعداد کے پیش نظر اور آکسیجن سیلنڈر کی کمی کی وجہ سے وہاں سے لوگوں کو واپس کیا جا رہا تھا جبکہ زیادہ تر پرائیوٹ ہسپتال اور کلینک بند ہیں۔

دی انڈین ایکسپریس کے مطابق جماعت اسلامی کے مقامی صدر اوصاف احمد فلاحی نے کہا کہ 'بھیونڈی کا نظام پور علاقہ بہت ہی گھنی آبادی والا علاقہ ہے اس لیے وہاں وبا تیزی سے پھیل رہی ہے۔ شہر میں ہیلتھ انفرا سٹرکچر بہتر نہیں ہے اور مقامی کلینک بھی بند ہے اور زیادہ تر لوگوں میں وبا کے متعلق بیداری نہیں ہے اور نہ ہی ان کی علاج کرانے کی حیثیت ہے تو ہم نے یہ خدمت شروع کی۔'قبل ازیں ممبئی کے دو دوستوں کی 24 گھنٹے مفت آکسیجن سیلنڈر فراہم کرنے کی خدمات خبروں میں آئی تھیں۔ دونوں نے اب تک 250 سے 300 سیلنڈر لوگوں کو فراہم کیے تھے۔

دریں اثنا انڈیا میں ایک دن میں ریکارڈ 18 ہزار 552 کورونا کیسز رپورٹ کیے گئے ہیں۔ انڈیا میں کورنا سے متاثرہ افراد کی تعداد پانچ لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔انڈیا کی مغربی ریاست مہاراشٹر میں ہی پانچ ہزار سے زیادہ کیسز ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ ملک بھر میں مرنے والوں کی تعداد میں 384 اموات کا اضافہ ہوا ہے اور اب مجموعی تعداد 15 ہزار 685 ہو گئی ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -